<!–
–>
اشرف علی بستوی
قدم چوم لیتی ہے خود بڑ کر منزل مسافر اگر اپنی ہمت نہ ہارے
شعر کے اس مصرعے کی تعبیر کو عملی زندگی میں سج کر دکھایا ہے جھار کھنڈ کے اس نوجوان محمد علم اللہ نے، آج علی الصبح علم کی پیاس بجھانے انگلستان کے سفر پر روانہ ہوگیا
علم اللہ یہ کامیابی ایک اہم سنگ میل ہے جو آپ کی محنت، عزم، اور قابلیت کا مظہر ہے۔
سوانسی یونیورسٹی، برطانیہ کے ویلز میں واقع ایک ممتاز تعلیمی ادارہ ہے، جو عالمی سطح پر اپنی تحقیق اور تعلیمی معیار کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس یونیورسٹی کا شمار برطانیہ کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔
محمد علم اللہ ہم سب آپ کی اس شاندار کامیابی پر فخر محسوس کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ آپ سوانسی یونیورسٹی میں اپنے علم، صلاحیت، اور محنت کے ذریعے نئی بلندیوں کو چھوئیں۔
آپ کی اس کامیابی پر ایک بار پھر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد! ہمیں یقین ہے کہ آپ اس عظیم ادارے میں اپنے علم و عمل سے بہترین نتائج حاصل کریں گے اور عالمی سطح پر بلند مقام حاصل کریں گے ۔
دوستو، یہی علم کی پیاس محمد علم اللہ کو ہمیشہ بے چین کیے رہتی تھی محمد علم اللہ سے میری ملاقات 2010 میں ملی ماڈل اسکول ابوالفضل میں ایک انگلش اسپیکنگ کورس کی کلاس میں ہوئی تھی، جو نوجوان اس روز کلاس میں انگریزی کا ایک جملہ ادا کرپانے سے قاصر تھا، اس نے نہ صرف انگریزی زبان سیکھی بلکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اپنی پی ایچ ڈی کا مقالہ انگریزی میں جمع کرا یا اور IELTS کا مشکل امتحان پاس کر کے آج انگلستان کے لیے روانہ ہوگیا
لیکن اس کے لیے یہ سفر قطعی آسان نہ تھا قدم قدم پر ناکامیوں سے لڑتا ہوا اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کیلئے رات دن کوشش کرتا لیکن تمام تر مشکلات اور مسائل کے باوجود خواب دیکھنا نہیں چھوڑا اور آج سیکڑوں نوجوانوں کے لئے مثال بن گیا
مجھے خوشی ہے کہ علم اللہ کے سفر میں ایشیا ٹائمز کا دفتر گزشتہ ڈھائی برس سے مطالعہ گاہ کے طور پر کام آیا، ایک روز اس نے مجھ سے آفس کی چابی طلب کرتے ہوئے کہا کہ میں یہیں تیاری کرنا چاہتا ہوں میرے کمرے پے ڈسٹرب ہوتا ہے اس کے بعد سے اپنی تیاری کو یہیں سے آگے بڑھایا. یقیناً ہم سب کو زندگی کے اس سفر میں ایک دوسرے کا دست و بازو بن کر ہی رہنا چاہیے، یہ میرا کوئی احسان نہیں بلکہ یہ اس کا حق تھا جو اس نے مجھ سے حاصل کیا
محمد علم اللہ کی کامیابی کے لیے ڈھیر ساری دعائیں، خدا تمہیں خوش رکھے

