RIFAH نیشنل بزنس کانکلیو 2026 میں ہمالیہ ویلنیس کمپنی کے صدر کا خطاب؛ نوجوان کاروباری افراد کو استقامت، شفافیت اور قومی یکجہتی کا پیغام
ایشیا ٹائمز اردو | خصوصی رپورٹ
RIFAH نیشنل بزنس کانکلیو 2026 کے ایک اہم کلیدی خطاب میں ہمالیہ ویلنیس کمپنی کے صدر ڈاکٹر سید فاروق نے کاروبار، صنعت، قیادت اور اخلاقی اقدار کے حوالے سے اپنے تجربات اور نظریات پیش کیے۔ صنعت میں پانچ دہائیوں سے زیادہ کے تجربے کی بنیاد پر انہوں نے کہا کہ کسی بھی کاروبار کی طویل مدتی کامیابی کے لیے حوصلہ، مسلسل محنت، دیانت داری اور شفافیت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر سید فاروق نے اپنے خطاب میں ہمالیہ کمپنی کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 1930 میں محض 100 روپے کی معمولی سرمایہ کاری سے شروع ہونے والا یہ کاروبار وقت کے ساتھ عالمی سطح تک پہنچا۔ انہوں نے کمپنی کی ابتدائی اختراعات کا ذکر کرتے ہوئے 1933 میں ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے لیے آیورویدک دوا متعارف کرانے کی پہل کو بھی نمایاں کیا۔
100 روپے سے عالمی کاروبار تک کا سفر
ڈاکٹر فاروق نے ہمالیہ کی تاریخ اور ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ محدود وسائل کے باوجود بڑے مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، واضح سوچ، نئے تجربات کرنے کا حوصلہ اور مسلسل کوشش کسی چھوٹے کاروبار کو بھی عالمی شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے نوجوانوں اور اسٹارٹ اپ شروع کرنے والے افراد کو مشورہ دیا کہ وہ مشکلات سے گھبرانے کے بجائے پہل کرنے، نئے خیالات اپنانے اور اپنے مقصد کے لیے مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنے کا رویہ اختیار کریں۔
انہوں نے بتایا کہ ہمالیہ کے مصنوعات اب 108 سے زائد ممالک میں برآمد کیے جاتے ہیں۔ یہ مثال کاروبار کو وسعت دینے، معیار برقرار رکھنے اور عالمی منڈی میں اپنی شناخت بنانے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
کاروبار کو سیاست سے دور رکھنے کی ضرورت
اپنے خطاب میں ڈاکٹر سید فاروق نے کاروباری سرگرمیوں کو سیاسی تقسیم سے دور رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دیانت داری، شفافیت اور باہمی تعاون کسی بھی ادارے کی طویل مدتی کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان بہتر تال میل کی اہمیت بھی واضح کی۔ ان کے مطابق، کسی ادارے کی کامیابی صرف سرمایہ یا انتظامی قیادت پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ ملازمین کے تعاون، اعتماد اور مشترکہ ذمہ داری کا بھی اس میں اہم حصہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر فاروق کے خیالات ان کاروباری اداروں کے لیے بھی اہم ہیں جو اعتماد، اخلاقی اصولوں اور باہمی احترام پر مبنی مضبوط ادارہ جاتی ثقافت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
قومی یکجہتی اور سب کی شمولیت پر مبنی ترقی کا پیغام
ڈاکٹر سید فاروق نے اپنے خطاب کے اختتام پر قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور مشترکہ ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے تمام برادریوں کو نفرت اور تقسیم سے اوپر اٹھ کر مل جل کر کام کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق، اقتصادی ترقی کو سماجی ہم آہنگی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ جب مختلف برادریوں کے افراد باہمی اعتماد اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو ترقی کے ثمرات زیادہ وسیع پیمانے پر معاشرے تک پہنچ سکتے ہیں۔
نوجوان کاروباری افراد کے لیے اہم سبق
ڈاکٹر سید فاروق کے خطاب سے تین اہم نکات سامنے آتے ہیں:
- حوصلہ اور مستقل مزاجی: محدود وسائل کے باوجود بڑے اہداف حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھی جائے۔
- اخلاقی کاروبار: دیانت داری، شفافیت اور ملازمین کے ساتھ تعاون کو کاروباری پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔
- قومی یکجہتی: ملک کی ترقی کے لیے تمام طبقات اور برادریوں کے درمیان اعتماد اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔
RIFAH نیشنل بزنس کانکلیو 2026 کا یہ کلیدی خطاب کاروباری کامیابی کے ساتھ سماجی ذمہ داری، اخلاقی قیادت اور قومی ترقی کے باہمی تعلق کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
ایشیا ٹائمز اردو | کاروبار، سماج اور ترقی کی خبریں
ادارتی نوٹ: یہ رپورٹ کانکلیو کے خطاب سے متعلق فراہم کردہ خلاصے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے.

