تحریر: اشرف علی بستوی
آج صبح جب میں ہردیال پارک، جسولا کے گیٹ سے باہر نکلا تو بالکل سامنے ایک خاتون ایک چھوٹی سی میز سجائے بیٹھی نظر آئیں۔ میز پر چند پیالے رکھے ہوئے تھے۔ پہلی نظر میں یہ ایک معمول کا منظر تھا، لیکن اس کے پیچھے چھپی کہانی جاننے کے لیے میرے قدم خود بخود رک گئے۔
پہلے میں موٹر سائیکل نکالنے کے لیے آگے بڑھ گیا، پھر نہ جانے کیوں دل نے واپس لوٹنے پر مجبور کیا۔ ان کے پاس پہنچا تو گفتگو شروع ہوگئی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند روز سے وہ گھر پر کچے چنے اور مونگ تیار کرتی ہیں اور پھر انہیں لے کر یہاں آجاتی ہیں، تاکہ پارک آنے والے ان لوگوں کو فروخت کرسکیں جو اپنی صحت کے تئیں حساس ہیں اور صحت بخش ناشتے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان کی باتوں میں نہ کوئی بڑی کاروباری حکمت عملی تھی اور نہ ہی بھاری منافع کمانے کا خواب۔ بس ایک سادہ سی سوچ تھی۔
’’گھر میں دن بھر بیٹھے رہنے سے تو بہتر ہے کہ کچھ کام کیا جائے۔ اس طرح کاروبار کا تجربہ بھی حاصل ہو رہا ہے۔‘‘
ان کے اس جملے میں مجھے محنت، خود اعتمادی اور آگے بڑھنے کی ایک خوب صورت خواہش دکھائی دی۔
گھر میں تیار کیے جانے والے ان چنوں اور مونگ کو دیکھ کر خیال آیا کہ بڑے بڑے برانڈز اور چمکتے دمکتے اسٹورز کے اس دور میں بھی چھوٹے کاروباروں کی اپنی اہمیت ہے۔ ان مصنوعات کی باقاعدہ جانچ کیے بغیر انہیں مکمل طور پر آرگینک کہنا مناسب نہیں ہوگا، لیکن گھر میں تازہ تیار کیا گیا یہ سادہ ناشتہ اپنے آپ میں ایک دلچسپ متبادل ضرور تھا۔
ہم نے بھی ایک ایک پیالہ خرید لیا۔ قیمت بھی مناسب لگی اور سب سے بڑھ کر یہ احساس خوش گوار تھا کہ ہماری ایک چھوٹی سی خریداری کسی کے حوصلے کو بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
اصل کشش چنے اور مونگ نہیں، ان کا حوصلہ تھا
اس پورے واقعے میں جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ اس خاتون کا جگہ کا انتخاب اور ان کا حوصلہ تھا۔
انہوں نے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جہاں صبح کے وقت پارک آنے والے لوگ صحت، ورزش اور چہل قدمی کے لیے آتے ہیں۔ انہوں نے اپنے محدود وسائل کے ساتھ ایک چھوٹا سا موقع تلاش کیا اور اسے روزگار میں تبدیل کرنے کی کوشش شروع کردی۔
کاروبار کی پہلی سیڑھی یہی تو ہے: اپنے آس پاس موجود ضرورت کو پہچاننا، اپنی صلاحیت کے مطابق آغاز کرنا اور نتائج کا انتظار کرنے کے بجائے خود قدم آگے بڑھانا۔
ہم اکثر روزگار کے مواقع کی کمی، مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی بات کرتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ہمارے آس پاس ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو شکایت کرنے کے بجائے اپنی طرف سے کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ انہیں کسی بڑی سرمایہ کاری یا وسیع کاروباری منصوبے کی نہیں، بلکہ محض ایک موقع، چند گاہکوں اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
آپ کی ایک خریداری، کسی کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا ذریعہ
اگر آپ کبھی ہردیال پارکنگ، جسولا کے اس گیٹ سے گزریں اور وہ خاتون وہاں موجود ہوں تو ان کے اسٹال پر رکنے اور ان کی مصنوعات خریدنے پر غور کیجیے۔
ممکن ہے کہ آپ کے لیے ایک پیالہ چنے یا مونگ خریدنا معمولی بات ہو، لیکن ان کے لیے یہ اس بات کا اشارہ ہوسکتا ہے کہ ان کی کوشش کو سراہنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔
ایسے چھوٹے کاروباروں کی حمایت محض خرید و فروخت نہیں، بلکہ خود روزگاری اور خود اعتمادی کو فروغ دینے کا ایک طریقہ بھی ہے۔ البتہ خریداری کرتے وقت صفائی، تازگی اور غذائی تحفظ کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
آئیے، ہم اپنے آس پاس محنت کرنے والے لوگوں کو دیکھنا سیکھیں۔ ان کا حوصلہ بڑھائیں، ان کی مصنوعات خریدیں اور جہاں ممکن ہو، انہیں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کریں۔
کیونکہ کبھی کبھی کسی کی زندگی میں امید جگانے کے لیے بڑی رقم یا بڑے وعدوں کی ضرورت نہیں ہوتی؛ ایک چھوٹی سی خریداری، حوصلہ افزائی کے چند الفاظ اور احترام بھری نگاہ ہی کافی ہوتی ہے۔
آج کی صبح کا سبق یہی تھا کہ روزگار کی تلاش میں اٹھایا گیا ایک چھوٹا سا قدم بھی خودداری کی ایک بڑی داستان بن سکتا ہے۔


ماشاءاللہ یہی نئی تلاش اور اچھوتے موضوعات کو اپنی گفتگو کا موضوع بنانا آپ کی جدت طبع کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔
الله کرے زور قلم اور تلاش کے قدم اور زیادہ مضبوط و مستحکم اور تیزگام دوڑتے رہیں۔