نئی دہلی، 29 اکتوبر 2026 | ایشیا ٹائمز اردو
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے درمیان یونیورسٹی انتظامیہ نے اہم فیصلہ کیا ہے۔ انتظامیہ نے طلبہ یونین کے آئین کی منظوری اور نفاذ کے لیے 15 مئی 2027 تک کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ اس کے بعد تعلیمی سیشن شروع ہونے کے چھ ہفتوں کے اندر طلبہ یونین کے انتخابات کرائے جائیں گے۔
رجسٹرار آفس کی جانب سے 29 اکتوبر کو جاری حکم نامے کے مطابق، طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے بعد لنگڈوہ کمیٹی کی سفارشات اور متعلقہ رہنما اصولوں کے مطابق انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ یونیورسٹی کا نیا تعلیمی سیشن 16 جولائی 2027 سے شروع ہونے کا شیڈول ہے۔
طلبہ کے خلاف کارروائیاں واپس لینے کا فیصلہ
انتظامیہ نے احتجاج سے متعلق طلبہ کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس، تادیبی کارروائیوں، معطلی، اخراج اور کیمپس میں داخلے پر پابندی کے احکامات واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ حکم نامے میں احتجاج کرنے والے طلبہ سے دھرنا اور بھوک ہڑتال فوری طور پر ختم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
2006 سے معطل ہے طلبہ یونین
طلبہ کا اہم مطالبہ تھا کہ یونین کے آئین کی منظوری کے لیے واضح ڈیڈ لائن دی جائے اور انتخابی عمل کو غیر معینہ مدت تک مؤخر نہ رکھا جائے۔ انتظامیہ کے تازہ فیصلے میں تاریخوں کا تعین کیا گیا ہے، تاہم آئین کی منظوری اور انتخابات کا عملی انعقاد اب بھی آئندہ کے مراحل ہیں۔کیا انتظامیہ کے اس اعلان کے بعد طلبہ اپنا احتجاج اور بھوک ہڑتال ختم کریں گے؟ اس حوالے سے طلبہ کا حتمی ردعمل سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات 2006 سے نہیں ہوئے ہیں۔ یونین کی بحالی اور انتخابات کی مقررہ تاریخ کے مطالبے پر طلبہ 12 اکتوبر سے احتجاج اور بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔

