مشی گن میں ڈیموکریٹ امیدوار نے ریپبلکن حریف مائیک راجرز کو شکست دی؛ امریکی سینیٹ کی تاریخ میں پہلی بار کسی مسلمان کی براہِ راست انتخابی کامیابی
واشنگٹن/ڈیٹرائٹ: امریکہ کی سیاست میں مسلم نمائندگی کے حوالے سے ایک نئی تاریخ رقم ہوگئی ہے۔ ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر عبدالرحمان ال سید (Abdul El-Sayed) نے امریکی سینیٹ کا انتخاب جیت کر تاریخ ساز کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار اور سابق رکنِ کانگریس مائیک راجرز (Mike Rogers) کو شکست دی۔ اس کامیابی کے ساتھ ال سید امریکی تاریخ میں سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) نے انتخابی نتائج کی بنیاد پر ال سید کی کامیابی کا اعلان کیا، جب کہ امریکی میڈیا اداروں نے بھی انہیں فاتح قرار دیا ہے۔ ان کی کامیابی کو امریکی سیاسی نظام میں مسلم کمیونٹی کی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
’’From InshaAllah to Alhamdulillah‘‘ — ایک تاریخی سفر
کامیابی کے بعد ال سید نے اپنے انتخابی سفر کو ’’From InshaAllah to Alhamdulillah‘‘ یعنی ’’ان شاء اللہ سے الحمد للہ تک‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا۔ یہ جملہ ان کی طویل سیاسی جدوجہد، امید اور کامیابی کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔
ان کی کامیابی اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں کی سیاسی شرکت اور اعلیٰ منتخب ایوانوں میں نمائندگی کا موضوع طویل عرصے سے زیرِ بحث رہا ہے۔ اب ال سید امریکی سینیٹ میں مسلم شناخت کے ساتھ اپنی جگہ بنانے والے پہلے منتخب نمائندے ہوں گے۔
مصری نژاد امریکی، صحتِ عامہ کے ماہر
42 سالہ عبدالرحمان ال سید مصری تارکینِ وطن کے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ صحتِ عامہ کے ماہر اور سابق سرکاری عہدیدار ہیں۔ وہ وین کاؤنٹی اور ڈیٹرائٹ کے محکمہ صحت کی سربراہی بھی کر چکے ہیں۔
ان کی انتخابی مہم میں عام شہریوں کے لیے سستی طبی سہولتوں، صحت کی عالمگیر کوریج، معاشی عدم مساوات میں کمی اور سیاست میں بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے جیسے موضوعات نمایاں رہے۔
سخت انتخابی مقابلے کے بعد کامیابی
مشی گن کی سینیٹ نشست پر مقابلہ خاصا سخت رہا۔ ال سید کو انتخابی مہم کے دوران اپنے سیاسی نظریات، اسرائیل سے متعلق پالیسی اور مسلم شناخت کے حوالے سے شدید تنقید اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مخالفین میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر ریپبلکن رہنما بھی شامل تھے، جنہوں نے ان کے خلاف سخت بیانات دیے۔ ال سید نے انتہا پسند تنظیموں سے تعلق کے الزامات کی تردید کی۔
اس کے باوجود انہوں نے اپنے انتخابی حریف مائیک راجرز کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ راجرز سابق کانگریس رکن اور ایف بی آئی کے سابق عہدیدار ہیں۔
جنوری 2027 میں سینیٹ کا حصہ بنیں گے
ال سید مشی گن کی اس نشست پر سبکدوش ہونے والے ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کی جگہ لیں گے۔ نئی امریکی کانگریس کے آغاز کے ساتھ جنوری 2027 میں ان کی سینیٹ کی رکنیت کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔
عبدالرحمان ال سید کی کامیابی محض ایک انتخابی فتح نہیں بلکہ امریکی مسلمانوں کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم باب کا اضافہ ہے۔ ان کا سینیٹ تک پہنچنا اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی سیاست میں مختلف مذہبی اور نسلی پس منظر رکھنے والے شہریوں کی نمائندگی کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔

