نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے سائنس دانوں اور سائنسی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ ضروریات کے حل تیار کرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کو مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بھی تیار کریں۔ انہوں نے منگل کو کہا کہ ہندوستان ایسی ٹیکنالوجی کی ترقی اور سائنسی تحقیق کی بنیاد مضبوط کر رہا ہے، جو مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔
مودی نے سیمی کنڈکٹر، کوانٹم ٹیکنالوجی، بایو ٹیکنالوجی، جدید مواد، روبوٹکس، خلائی تحقیق، صاف توانائی اور اگلی نسل کے مواصلاتی نظام جیسے شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ”یہ ایسے شعبے ہیں جو مستقبل کی تشکیل کریں گے۔ ہندوستان ان شعبوں میں مضبوط سائنسی بنیاد تیار کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف قومی مشن بھی شروع کیے گئے ہیں۔”
وزیراعظم یہاں سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ابھرتے ہوئے شعبوں سے متعلق کانفرنس ‘ای ایس ٹی آئی سی-2026’ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر مرکزی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ، حکومت ہند کے چیف سائنسی مشیر اجے سود، مختلف ممالک کے نوبل انعام یافتہ سائنس دان، محققین اور ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں کے ماہرین اور صنعت کار موجود تھے۔
وزیراعظم نے کہاکہ ”ہماری کوشش ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ان شعبوں میں نئی کامیابیوں کی خبریں ہندوستان سے بھی آئیں۔ ہماری ذمہ داری صرف اختراع تک محدود نہیں ہے۔ چاہے مصنوعی ذہانت ہو، مصنوعی حیاتیات ہو یا خودمختار نظام، ہمیں احتیاط اور تحفظ کو ترجیح دینی ہوگی۔”
انہوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی حل تلاش کرنے اور کوانٹم سکیورٹی کے ایسے نظام تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جن کے ذریعے آن لائن خطرات سے ملک کے نظام کو مضبوط تحفظ فراہم کیا جاسکے۔
مودی نے کہاکہ ”آپ سب جانتے ہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے کہ انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جب کہ بھارت کا نظریہ ہے کہ یہ انسانیت کی خدمت کا ذریعہ ہیں۔ سائنس کی حقیقی کامیابی اسی وقت ہوتی ہے، جب وہ تجربہ گاہ سے نکل کر عام شہری کی زندگی کو بہتر بناتی ہے۔”
ہندوستان مستقبل کی تشکیل کرنے والی ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق کی بنیاد مضبوط کر رہا ہے: مودی
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

