تل ابیب، اسرائیل ( ایم ٹی این نیوز ) اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی استغاثہ نے پیر کے روز بار ایلان یونیورسٹی کے ایک ریاضی کے پروفیسر پر دہشت گرد حملے کی تیاری، بلیک میلنگ اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ الزام ہے کہ اس نے سینکڑوں عرب شہریوں کو قتل کرنے اور مزید ہزاروں افراد کو اردن، لبنان اور غزہ کی پٹی کی جانب نقل مکانی پر مجبور کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
اسرائیلی ریاستی استغاثہ کے دفتر کے مطابق، تقریباً 60 سالہ مشتبہ شخص نے تقریباً تین برس کے دوران ایک ’’مکمل اور تفصیلی‘‘ منصوبہ تیار کیا اور اسرائیلی فضائیہ، توپ خانے اور بکتر بند دستوں میں موجود ’’تخریبی عناصر‘‘ سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسے 17 ستمبر کو گرفتار کیا گیا اور استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس نے الزامات کا اعتراف بھی کیا ہے۔
فردِ جرم کے مطابق، وہ گزشتہ 18 ماہ سے اس منصوبے کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور ایک ’’بااثر سیاسی شخصیت‘‘ کی تلاش میں تھا جو مسلح افراد کو جمع کرنے میں مدد کر سکے۔
آخرکار اس نے سابق لیکوڈ رکنِ پارلیمان موشے فیگلِن سے رابطہ کیا۔ اخبار کے مطابق، فیگلِن کی جانب سے جواب نہ ملنے پر پروفیسر نے تقریباً ایک ماہ قبل اسے منصوبے میں شامل ہونے پر مجبور کرنے کے لیے بلیک میل کرنے کی کوشش کی، جبکہ منصوبے کو چھپانے اور اس کی دریافت روکنے کے لیے مختلف طریقے بھی استعمال کیے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق، فیگلِن، ان کے نائب یِتسحاک ہائی زگا اور زہوت پارٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شائی مالکا نے بعد میں پولیس کو مشتبہ شخص کی جانب سے موصول ہونے والے دھمکی آمیز خطوط حوالے کیے۔
پروفیسر نے اپنے منصوبے کو ’’عَیِت‘‘ (Ayit) کا نام دیا، جو عبرانی زبان میں ’’عقاب‘‘ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسے ایک ایسے مخفف کے طور پر بھی استعمال کیا گیا جس کا مفہوم ’’قوم منتقلی کرے گی‘‘ بتایا گیا، یعنی فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے بے دخل کرنے کا حوالہ۔
اخبار کے مطابق، اس نے 2021 میں مخلوط عرب-یہودی شہروں میں ہونے والے احتجاج کے بعد فروری 2023 میں اس منصوبے پر کام شروع کیا۔
اجتماعی قتل کا منصوبہ
منصوبے کی تیاری کے دوران اسرائیلی پروفیسر نے مارچ 2023 میں شمالی اسرائیل کے بدوی قصبے طوبا زنگاریہ کی متعدد فضائی تصاویر حاصل کیں اور کئی مرتبہ علاقے کا دورہ کیا تاکہ حملے کے لیے موزوں راستوں اور رسائی کے مقامات کی نشاندہی کر سکے۔
اس نے بھرتی کیے جانے والے افراد کے لیے 20 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز بھی تیار کی، جس کی نقول اس نے اپنے گھر اور بار ایلان یونیورسٹی کے دفتر میں رکھی تھیں۔
منصوبے کے مطابق 72 مسلح یہودی حملہ آوروں کو چھ افراد پر مشتمل 12 گروہوں میں تقسیم کیا جانا تھا۔ انہیں ہتھیاروں اور کلہاڑیوں کے ذریعے بیک وقت عرب آبادی والے علاقوں پر حملہ کرنا تھا، جبکہ فوج میں موجود ہمدرد عناصر سے معاونت حاصل کرنے کا منصوبہ تھا۔
دستاویز میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ 600 سے 700 افراد ہلاک ہو سکتے ہیں، جبکہ کم از کم نصف حملہ آوروں، جن میں پروفیسر بھی شامل تھا، کے پاس اسلحہ رکھنے کا لائسنس ہونا ضروری قرار دیا گیا تھا۔
منصوبے میں خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنانے اور حملوں کو سوشل میڈیا پر براہِ راست نشر کرنے کی بات کی گئی تھی تاکہ عرب شہری اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے سے نقل مکانی پر مجبور ہوں۔
اس منصوبے میں حملے شروع ہونے کے بعد فوجیوں، پولیس اہلکاروں، اسرائیلی آباد کاروں اور جرائم پیشہ افراد سے بھی حملوں میں شامل ہونے کی اپیل کرنے کا تصور پیش کیا گیا تھا۔
فردِ جرم کے مطابق، پروفیسر نے 2026 کے انتخابات میں ایک امیدوار کی جانب سے منعقد کیے جانے والے پروگرام کو انتخابی مہم کے اجتماع کے طور پر ظاہر کرتے ہوئے وہاں دیگر 71 افراد کو جمع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جبکہ حملے اگلے روز کیے جانے تھے۔
تقریباً جون میں اس نے اپنی بیٹی سے بھی کہا کہ وہ نام نہاد ’’ہِل ٹاپ یوتھ‘‘ میں اپنے جاننے والوں کو بھرتی کرے۔ یہ اصطلاح مغربی کنارے میں موجود بعض انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی آبادکار نوجوانوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے، تاہم اس کی بیٹی نے انکار کر دیا۔
وسطی ضلع کے استغاثہ کے دفتر نے لوڈ ڈسٹرکٹ کورٹ میں فردِ جرم دائر کرتے ہوئے درخواست کی کہ مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے تک ملزم کو حراست میں رکھا جائے۔
بار ایلان یونیورسٹی نے الزامات پر ’’صدمے‘‘ کا اظہار کیا اور کہا کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے تک پروفیسر کو معطل کر دیا گیا ہے۔
اسرائیل کی 10 ملین سے زائد آبادی میں عرب اسرائیلی شہریوں کا حصہ تقریباً 21 فیصد ہے۔

