ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
شخصیت کے کئی رنگ: سنجیدگی، متانت اور خوش مزاجی
گورا رنگ، چوڑی پیشانی، سفید بال، بھرا ہوا چہرہ، چہرے پر بکھری مسکراہٹ خاندانی شرافت کا پتہ دیتی ہے۔ سر پر بے ترتیب سلیقے سے جھولتے ہوئے بال، سفیدی مائل ہلکی داڑھی اور چشمے کے پیچھے سے جھانکتی آنکھیں دانشوری کا احساس دلاتی ہیں۔ گفتگو میں سنجیدگی اور آؤ بھاؤ سے منتظم ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ متوسط قد، بھاری بدن، خوش لباسی اور چال ڈھال کی متانت سے افسری ٹپکتی ہے۔ کھل کر باتیں کرتے ہیں اور دل کھول کر ہنستے ہیں۔ غصے میں چہرہ مسکراتا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن سرخی مائل ہو جاتا ہے۔ وہ ساتھ میں ہوں تو بور نہیں ہونے دیتے، لطیفے سنا کر ہنساتے اور خود بھی ہنستے ہیں۔
گفتگو میں کوئی دفتری مجبوری آڑے آتی ہے تو خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ تصویر کے دونوں رخ دیکھ کر بات کرنے کے عادی ہیں۔ انہیں مفاد پرستوں سے چڑ ہے لیکن اس کا اظہار نہیں کرتے۔ حقیقت سے صرفِ نظر کرکے یکطرفہ بات کرنے کو وہ اردو والوں کے مزاج سے تعبیر کرتے ہیں۔ پہلی نظر میں غیر ملکی سے لگتے ہیں لیکن جہان آباد، بہار کے رہنے والے ہیں۔ ہندوستانی زبان، تہذیب اور رواداری ان کے خمیر میں رچی بسی ہے۔ نام ہے ڈاکٹر محمد شمس اقبال۔
علمی خانوادے سے قومی کونسل تک کا سفر
ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کا بھارت کی دوسری زبانوں کے سرکاری اداروں سے ربط قائم کرایا اور دنیا کے دوسرے ممالک میں اپنے نام کی طرح کونسل کا اقبال بلند کیا۔ ان کا تعلق جہان آباد، بہار کے علمی خانوادے سے ہے۔ شمس اقبال کے والد مگدھ یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر تھے۔ اردو زبان و ادب میں مستقبل بنانا تو دور، اردو والے اپنے بچوں کو اردو پڑھانے سے بھی گریز کرتے ہیں، مگر شمس اقبال کے والد نے انہیں اردو پڑھائی اور انہوں نے اردو کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
ابتدائی تعلیم ان کے آبائی وطن میں ہوئی۔ بعد ازاں پٹنہ یونیورسٹی ہوتے ہوئے جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی سے انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ ویسے تو ان کی زندگی میں کئی اتفاقات ہیں لیکن ایک حسن اتفاق یہ بھی ہے کہ جس قومی کونسل سے 1997 میں ان کے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز ہوا، اب اختتام بھی اسی ادارے سے بطور ڈائریکٹر ہو رہا ہے۔
نیشنل بک ٹرسٹ میں چار سو سے زائد کتابوں کی ادارت
درمیان میں انہوں نے نیشنل بک ٹرسٹ میں اسسٹنٹ ایڈیٹر اور پھر ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ متعدد اہم منصوبوں سے وابستہ رہے اور چار سو سے زیادہ اردو کتابوں کی کمیشننگ اور کاپی ایڈیٹنگ میں حصہ لیا۔ یہاں انہیں اردو زبان و ادب، تصنیف و تالیف، ترجمہ، اشاعت، تحقیق و ادارت، انتظام اور مختلف ذمہ داریاں سنبھالنے کے مواقع حاصل ہوئے۔
وہ برسوں کتابوں، مصنفوں، مترجموں اور بچوں کے ادبی مواد کے درمیان رہے۔ نیشنل بک ٹرسٹ سے بچوں اور نئی نسل کے لیے شائع ہوئی شاندار کتابیں ان کے تخلیقی مزاج کا نتیجہ ہیں۔
قومی کونسل میں نئی روح اور نئی توانائی
طویل تجربے اور نئے جوش و جذبے کے ساتھ شمس اقبال کی کونسل میں واپسی نے بستر مرگ پر پڑے اس ادارے میں زندگی کی روح پھونک دی۔ انہوں نے دو سال سات ماہ کے دوران وائس چیئرمین، گورننگ کونسل اور فائنانس کمیٹی کے بغیر بھی معمول کے کاموں میں ندرت پیدا کی۔
ہر چھوٹی بڑی سرگرمی کے لیے وزارت کی منظوری درکار تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے محدود حلقے سے نکال کر کونسل کا دائرہ وسیع کیا۔ سیمینار، مشاعرے اور ادبی پروگراموں کے لیے وہ کاغذی انجمنوں کو مالی تعاون تو نہیں دے سکے، لیکن کونسل کے اشتراک سے متنوع تاریخی سیمینار منعقد کیے۔
103 کتابیں اور 200 سے زائد علمی و ادبی پروگرام
ان کے پروگراموں کے موضوعات کا تنوع بھی قابلِ دید ہے، مثلاً اردو اور دیگر ہندوستانی زبانیں۔ ان کی سربراہی میں کونسل سے آج کے تناظر میں پریم چند کی معنویت، کلیم الدین احمد کی نگارشات: ایک بازدید، معاصر اردو ادب کا تخلیقی، تنقیدی اور تحقیقی منظرنامہ، تہذیب کا پانچواں باب، آئینِ ہند، ان کہی کہانی وغیرہ تقریباً 103 کتابیں شائع ہوئیں، جن میں 50 سے زائد کتابیں ادبِ اطفال سے متعلق ہیں۔
انہوں نے لسانی، ادبی و ثقافتی روابط، اردو افسانہ اور تقسیمِ ہند، نوجوان سائنٹسٹ کانکلیو، اردو اساتذہ کی صلاحیت سازی، اردو میں ترجمہ نگاری: تخلیقیت و افادیت، طب یونانی، بین المذاہب تعلقات اور اردو صحافت وغیرہ موضوعات پر 200 سے زیادہ قابلِ ذکر سیمینار، لیکچر اور مباحثے کرائے۔ زیادہ تر سیمیناروں کے مقالے کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔
ڈائریکٹر کی حیثیت سے وہ کونسل سے نکلنے والے رسائل اردو دنیا، بچوں کی دنیا، خواتین کی دنیا اور فکر و تحقیق کے مدیر رہے۔ ان رسائل کے خصوصی نمبر بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
کتاب میلے: اردو کے فروغ کا مؤثر ذریعہ
کتابوں کی اشاعت کے لیے مالی معاونت اور مصنفین کی کتابوں کی خرید جیسی کونسل کی اسکیموں پر شاید وزارت کی منظوری نہ ملنے کے باعث عمل نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے ڈاکٹر شمس اقبال کو کئی حضرات کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن کتاب میلے زبان و ادب اور تہذیب کے فروغ کا ذریعہ بنے۔
ڈیجیٹل دور میں نوجوان نسل کتاب میلے کے ذریعے اردو زبان اور کتابوں سے بڑی تعداد میں جڑی۔ ان میلوں نے اردو داں طبقے ہی کو نہیں، غیر اردو داں طبقے کو بھی متاثر کیا۔ کئی لوگوں نے اردو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور خود کو ویب سائٹ پر رجسٹرڈ کیا۔
اردو ادب میں بہت کچھ ایسا ہے جو ترجمے کی دین ہے۔ کئی ترجمہ شدہ کتابوں پر تو اصل ہونے کا شک ہوتا ہے۔ شمس اقبال نے اپنے دور میں انگریزی اور ہندی کی کئی اہم کتابوں کے تراجم کونسل سے شائع کیے۔ بچوں کے لیے انتہائی دلچسپ، معلوماتی کتابیں تیار کرا کر دیدہ زیب ٹائٹلز کے ساتھ شائع کیں۔
اتنا ہی نہیں، انہوں نے انفرادی غیر ملکی اسفار کرنے کے بجائے فرینکفرٹ، جرمنی اور سنگاپور وغیرہ میں کونسل کی نمائندگی کو ترجیح دی۔ اس سے کونسل کے تئیں ان کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔
یونیورسٹیوں کے محدود دائرے سے عوام تک کونسل کی رسائی
کونسل کی پہچان یونیورسٹی اور اس کے پروفیسروں کے درمیان گردش کرنے والے ادارے کی تھی۔ اردو زبان کی بے لوث خدمت کرنے والے صحافی، انفلوئنسر یا عام انسان کا کونسل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ شمس اقبال نے یونیورسٹی پروفیسروں کے علاوہ اردو زبان و ادب کے لیے اخلاص کے ساتھ کام کرنے والوں کو کونسل کے ساتھ جوڑ کر اس کا دائرہ وسیع کیا۔
نئے لوگوں کے جڑنے کی وجہ سے کونسل روایتی حصار سے باہر نکلی۔ اس کے معمول کے کاموں میں ندرت آئی اور اس کے موضوعات میں تنوع پیدا ہوا۔ کونسل کو آج جتنی مقبولیت حاصل ہے، اس سے قبل کبھی اس کی اتنی پذیرائی نہیں ہوئی۔
چودہ ہندوستانی زبانوں کے ذریعے اردو سکھانے کا خواب
اردو زبان ہندی اور انگریزی کے ذریعے سکھائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو کو ڈیجیٹل دور سے ہم آہنگ کرنے کا خواب دیکھا۔ ان کی خواہش تھی کہ ایسی ڈیجیٹل سائٹ موجود ہو جہاں ملک کا کوئی بھی شہری اپنی زبان میں گھر بیٹھے آن لائن اردو سیکھ سکے۔
انہوں نے بھارت کی چودہ زبانوں کے ذریعے اردو سکھانے کے اس پروجیکٹ پر کام شروع کیا۔ یہ ان کا ڈریم پروجیکٹ ہے، مگر لگتا نہیں کہ کونسل سے رخصت ہونے تک یہ کام پورا ہو سکے گا۔ اب یہ آنے والے نئے ڈائریکٹر پر منحصر ہوگا کہ وہ اس پروجیکٹ پر کتنی سنجیدگی سے کام کریں گے۔ ویسے اردو کے فروغ میں اس پروگرام کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔
افسانہ نگار شمس اقبال: زندگی کے مشاہدات سے کہانی تک
ڈاکٹر محمد شمس اقبال بنیادی طور پر ایک شارٹ اسٹوری رائٹر ہیں۔ کونسل کے کاموں کی مصروفیت کے باوجود انہوں نے اپنے اس شوق کو جاری رکھا۔ وہ بہترین کہانیاں لکھتے ہیں۔ ان کی کہانیاں محض واقعہ نہیں رہتیں بلکہ زندگی کے مشاہدے اور چھوٹے چھوٹے تجربے مل کر کہانی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
ان کی کہانیوں نے کبھی کبھی فیس بک کی زینت بن کر داد حاصل کی۔ شمس اقبال کی کہانیوں کے کردار اپنے ہیں۔ وہ غیر حقیقی، مصنوعی یا بہت دور کی دنیا سے نہیں آتے۔ ان کی کہانیاں آس پاس کے ماحول، سماجی واقعات اور مشاہدات سے جنم لیتی ہیں۔ کوئی بچہ، کوئی بزرگ، کوئی معمولی سا واقعہ، کوئی شرارت، کوئی چھوٹی سی غلطی، کوئی حیرت انگیز مشاہدہ اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں سے ایک کہانی نکل آتی ہے۔
یہی مشاہدے کی قوت ان کے قصہ پن کی بنیاد اور کہانی کی نمایاں خوبی محسوس ہوتی ہے۔ آج کے قاری کو کہانی میں نصیحت یا سبق پسند نہیں، اسے تجربہ چاہیے۔ مصنوعی کردار نہیں، ایسے کردار چاہییں جن میں اسے اپنا عکس دکھائی دے۔ ڈاکٹر شمس اقبال اس نکتے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ان کی کہانی میں سبق اگر موجود بھی ہو تو وہ کہانی کے اوپر سوار ہو کر نہیں آتا بلکہ واقعے کے اندر سے برآمد ہوتا ہے۔
اختصار، روانی اور گرفت: کہانی کا منفرد اسلوب
ان کی کہانیوں کی ایک اہم خصوصیت اختصار ہے۔ وہ معمولی سے واقعے کو غیر ضروری تفصیل کے بوجھ تلے دبا نہیں دیتے۔ چند جملوں میں منظر قائم ہوتا ہے، کردار سامنے آتا ہے اور واقعہ اپنی سمت پکڑ لیتا ہے۔
آج کا انسان مسلسل بدلتی ہوئی تصویروں، آوازوں، ویڈیوز اور مختصر مواد کی دنیا میں رہتا ہے۔ اس کے پاس وقت کم ہے، مگر تجسس بہت ہے۔ ایسے میں کہانی کو اس کے ذہن تک پہنچنے کے لیے مختصر، رواں اور گرفت رکھنے والی ہونا ضروری ہے۔
یہاں ڈاکٹر شمس اقبال کا مدیرانہ تجربہ بھی ان کے کام آتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کہاں رکنا ہے، کیا چھوڑ دینا ہے اور کس لمحے کہانی کو اختتام تک پہنچا دینا ہے۔
غیر مطبوعہ ادبی سرمایہ: اردو ادب کا ایک اہم اثاثہ
ڈاکٹر محمد شمس اقبال کی ادبی تحریروں اور مختصر افسانوں کا بڑا ذخیرہ غیر مطبوعہ ہے۔ کیونکہ انہیں خودنمائی اور تصنع پسند نہیں ہے، شاید اسی لیے یہ تحریریں ابھی تک کتابی شکل میں شائع نہیں ہو سکی ہیں۔ حالانکہ ان کی اشاعت اردو ادب میں گراں قدر اضافے کی حیثیت رکھے گی۔
شمس اقبال کی یہی خصوصیات انہیں اپنے ہم عصروں میں الگ کرتی ہیں۔ ان کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جن کا کام ہی ان کی پہچان ہے۔
اپنی تخلیقی صلاحیتوں پر ادارے کی خدمت کو ترجیح
انہوں نے کونسل کی ذمہ داری ملنے کے بعد اپنے فن کو پسِ پشت ڈال کر کونسل کے منصوبوں کو فوقیت دی اور اپنی پوری توانائی زبان و ادب کے فروغ میں لگا دی۔
کونسل کی کارکردگی کی تاریخ ڈاکٹر محمد شمس اقبال کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔
ڈاکٹر ایم ایچ غزالی (Dr. M. H. Ghazali) سینئر صحافی و کالم نگار

