ایک بار یوگی آدتیہ ناتھ پارلیمانی اجلاس کے دوران لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے رو پڑے تھے۔ اس وقت سومناتھ چٹرجی لوک سبھا کے اسپیکر تھے
سہیل انجم
عمر قید کی سزا کاٹ رہے گورکھپور کے صحافی اور مسلم مجلس کے لیڈر پرویز پرواز کے انتقال کی خبر نے بہت سے دلوں کو ملول کر دیا۔ وہ کافی دنوں سے بیمار چل رہے تھے۔ ان کو جیل میں شوگر اور بلڈ پریشر سمیت کئی عارضے لاحق ہو گئے تھے۔ ہفتے کی شب میں ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔ جیل انتظامیہ نے انھیں ضلع اسپتال میں داخل کرایا جہاں دیر رات ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ 72 برس کے تھے اور گزشتہ آٹھ برس سے جیل میں تھے۔ اس سے قبل جیل انتظامیہ نے ان کی آنکھوں کا آپریشن بھی کرایا تھا۔ وہ ترکمان پور گورکھپور کے باشندہ تھے۔ ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں صحافت کرتے تھے۔ انھوں نے گورکھپور کے ہندی اخباروں میں بھی کام کیا تھا اور وہ خود اپنا بھی ایک اردو روزنامہ نکال رہے تھے۔ جس کا نام غالباً ’گورکھپور کا غازی‘ تھا۔
بستی اور گورکھپور اضلاع میں مسلم مجلس کی توسیع اور عوام میں اس کو مقبول بنانے میں ان کا اہم کردار تھا۔ دہلی آنے سے قبل ان کی تحریک پر میں بھی کچھ دنوں تک مسلم مجلس میں مقامی طور پر سرگرم رہا۔ میں نے ان کے ساتھ کئی مقامات کے دورے بھی کیے تھے۔ وہ اکثر و بیشتر ہمارے گاوں آیا کرتے جہاں کئی لوگوں سے ان کے دوستانہ مراسم قائم ہو گئے تھے۔ انھوں نے ہمارے گاوں میں مسلم مجلس یوپی کے صدر اور رکن اسمبلی فضل الباری کے دورے کا پروگرام بنایا۔ اس وقت مجلس کا مقامی ذمہ دار میں تھا۔ دورے سے ایک روز قبل میں نے لاوڈ اسپیکر سے علاقے میں اعلان کرا دیا۔ فضل الباری جب پہنچے تو زبردست ہجوم تھا۔ انھوں نے بہت اچھی تقریر کی جس کا عوام پر خاصا اثر پڑا۔
اس موقع پر میں نے ان کا انٹرویو کیا جو بعد ازاں ہفت روزہ اخبار نو میں شائع ہوا تھا۔ دہلی آنے کے بعد ایک روز میں سینئر صحافی محفوظ الرحمن صاحب کے گھر بیٹھا ہوا تھا کہ فضل الباری آگئے۔ انھوں نے مجھے پہچان لیا۔ میں نے محفوظ صاحب کو بتایا کہ میں بھی کچھ دنوں تک مسلم مجلس میں رہا ہوں۔ میں نے اپنے گاوں میں ان کے پروگرام اور انٹرویو کا بھی حوالہ دیا۔ اس پر فضل الباری نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہم تو انھیں سیاست میں لانا چاہتے تھے مگر یہ صحافت میں آگئے۔ محفوظ صاحب مسکرا کر رہ گئے۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا پرویز پرواز ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں صحافت کرتے تھے۔ لیکن ان کو عشق اردو زبان سے تھا۔ اردو میں لکھنا پڑھنا ان کو زیادہ پسند تھا۔ وہ مسلم معاملات میں مقامی طور پر کافی سرگرم رہتے تھے۔ جہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کا کوئی معاملہ سامنے آتا وہ فوراً وہاں پہنچ جاتے اور مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرتے۔ انھیں صحافتی حلقوں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور عوامی حلقوں میں بھی۔ وہ ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔ ان کے اندر بذلہ سنجی بھی تھی۔ حاضر جواب بھی تھے۔ ملکی سیاست پر ان کی گہری نظر تھی۔ وہ کتابوں کے مطالعے کے بھی شوقین تھے۔ 1980 کے عشرے میں بازار میں آنے والی چھوٹی موٹر سائیکل ’وکی‘ سے چلتے تھے۔ جو پرانی بھی تھی اور خراب بھی ہو جایا کرتی تھی۔ اسی سے وہ مختلف علاقوں کے دورے کرتے اور مسلم معاملات کو سرکاری حکام کے سامنے اٹھاتے۔ ضلع انتظامیہ میں ان کے اچھے مراسم رہے ہیں۔ بالخصوص پولیس محکمہ کے بہت سے اہل کار ان سے نہ صرف واقف تھے بلکہ ان کی عوامی خدمات کی وجہ سے قدر بھی کرتے تھے۔ وہ ان سے اپنے ذاتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ہندو مسلم تنازعات کو حل کراتے۔
27 جنوری 2007 کو یوم عاشورہ کے جلوس کے موقع پر گورکھپور میں تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں ایک ہندو نوجوان ہلاک ہوا تھا۔ پرویز پرواز نے 26 ستمبر 2008 کو ”ہندو یوا واہنی“ کے لیڈر، گورکھ ناتھ مندر کے مہنت اور اس وقت کے گورکھپور سے رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کرائی اور یہ الزام لگایا کہ انھوں نے اشتعال انگیز تقریر کرکے اس ہندو نوجوان کی موت کا انتقام لینے کی دھمکی دی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ایک بار یوگی آدتیہ ناتھ پارلیمانی اجلاس کے دوران لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے رو پڑے تھے۔ اس وقت سومناتھ چٹرجی لوک سبھا کے اسپیکر تھے۔ انھوں نے ہمدردانہ انداز میں پوچھا کہ یوگی جی بتائیے آپ کے ساتھ کیا ہوا، انصاف کیا جائے گا۔ اس پر انھوں نے کہا کہ ان کے خلاف کیس قائم کیا گیا ہے اور پولیس ان کو دھمکیاں دے رہی ہے۔ ارکانِ ایوان نے پولیس کے رویے کی مذمت کی۔ یوگی آدتیہ ناتھ اسی کیس کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
انٹرنیشنل بزنس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ کے علاوہ اس وقت کے شہر کے مئیر ارون چودھری اور ایم ایل اے رادھا موہن اگروال وغیرہ کے خلاف تشدد بھڑکانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس وقت ضلع مجسٹریٹ نے یوگی پر ہندو نوجوان کے گھر جانے پر پابندی لگا دی تھی۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس حکم پر عمل کیا۔ لیکن جب اس نوجوان کی موت ہو گئی تو انھوں نے موقع واردات پر جا کر دھرنا دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت تشدد پھوٹ پڑا۔ پولیس نے کرفیو نافذ کر دیا۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کرفیو کی خلاف ورزی کی جس پر ان کو اور ہندو یووا واہنی کے کچھ کارکنوں کے ساتھ جیل بھیج دیا گیا۔ ان کی گرفتاری پر ہندو یووا واہنی کے کارکن ناراض ہو گئے۔ ہنگامہ آرائی ہوئی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق گورکھپور ممبئی گودان ایکسپریس کے متعدد ڈبوں کو نقصان پہنچا۔
بہرحال جب ریاست میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی تو ریاستی اسمبلی نے تین مئی 2017 کو پرویز پرواز کے دائر کردہ کیس میں عدالتی کارروائی چلانے کی اجازت نہیں دی اور بعد میں تمام مقدمات خارج کر دیے گئے۔ پرویز پرواز نے اس فیصلے کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جسے 22 مئی 2018 کو خارج کر دیا گیا۔ انھوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ اس نے بھی اسے خارج کر دیا۔ انھیں بعد ازاں ستمبر 2018 میں ایک مبینہ اجتماعی عصمت دری کیس میں انھیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔
پرویز پرواز نے اس الزام کی سختی سے تردید کی۔ لیکن عدالت نے ثبوتوں کی بنیاد پر جولائی 2020 میں انھیں عمر قید کی سزا سنائی۔ عصمت دری کا الزام لگانے والی خاتون نے ان کے ساتھ ساتھ ایک اور شخص محمود عرف جمن بابا کو بھی مورد الزام ٹھہرایا تھا۔ اس معاملے میں ضلع عدالت نے دونوں کو عمر قید کی سزا سنائی۔ جمن بابا کا پہلے ہی جیل میں انتقال ہو چکا تھا۔ اب جبکہ پرویز پرواز کا بھی انتقال ہو گیا تو اس کے ساتھ ہی گورکھپور کی ملی سیاست و صحافت کے ایک دور کا خاتمہ ہو گیا۔ ان کا انتقال جہاں ان کے اہل خانہ کا ذاتی نقصان ہے وہیں ملی سیاست و صحافت کا بھی نقصان ہے۔
موبائل: 9818195929

