مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں
نئی دہلی: بھارت میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کرنے والے اپوزیشن رہنماؤں اور ارکانِ پارلیمنٹ کو پولیس نے مختصر وقت کے لیے حراست میں لے لیا۔
کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی بھی حراست میں لیے جانے والے رہنماؤں میں شامل تھے۔ احتجاجی رہنماؤں نے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے راستے میں بیریکیڈ لگا کر انہیں روک دیا۔
پولیس کی جانب سے راستہ روکے جانے کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے وہیں احتجاج شروع کر دیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو دہرایا۔ احتجاج میں کانگریس کے علاوہ انڈیا اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کے رہنما بھی شریک ہوئے۔
اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (Special Intensive Revision–SIR) کے عمل کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اہل ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلی کا عمل شفاف ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی شہری کو اس کے ووٹ کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے احتجاج کے دوران الیکشن کمیشن پر حکومت کے دباؤ میں کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی ادارے کی آزادی اور غیر جانب داری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
دوسری جانب حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کو سیاسی مفاد کے لیے کیا جانے والا اقدام قرار دیا ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کا مقصد انتخابی فہرستوں کو درست کرنا اور غیر اہل یا جعلی اندراجات کو ختم کرنا ہے۔
الیکشن کمیشن بھی اپوزیشن کے الزامات کی تردید کر چکا ہے اور اس کا موقف ہے کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی ایک قانونی اور ضروری عمل ہے، جس کا مقصد انتخابی فہرستوں کو زیادہ درست اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔
نئی دہلی میں اپوزیشن کا یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے معاملے پر سیاسی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس معاملے سے متعلق درخواستیں عدالت میں بھی زیرِ سماعت ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں نے واضح کیا ہے کہ جب تک ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل پر ان کے خدشات دور نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

