آسٹریلوی مسلم رہنماؤں کا فلسطین کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ
سڈنی، آسٹریلیا (ایجنسی): غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر آسٹریلیا کی اہم مسلم نمائندہ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کی تکالیف کے خاتمے اور اسرائیلی قبضے کے مسئلے کے حل کے لیے مضبوط سفارتی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
الائنس آف آسٹریلین مسلمز (AAM) اور آسٹریلین نیشنل ائمہ کونسل (ANIC) نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ تین سال سے جاری قتل و غارت، تباہی، بے گھری، بھوک اور انسانی مصائب نے فلسطینیوں کو ایک سنگین اور مسلسل جاری انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
تنظیموں کے مطابق بڑی تعداد میں فلسطینی اب بھی ملبے تلے لاپتہ ہیں، جبکہ متعدد اموات کا مکمل ریکارڈ یا حساب بھی نہیں ہو سکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پورے پورے خاندان ختم ہو گئے اور متعدد علاقے ملبے کا ڈھیر بن گئے، جبکہ اسپتالوں، اسکولوں، مساجد، گرجا گھروں اور دیگر ضروری شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ یا شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
تنظیموں نے کہا، "فلسطینی بچوں کی پوری نسلیں یتیم، زخمی، بے گھر اور ذہنی صدمے کا شکار ہو چکی ہیں۔”
ANIC اور AAM نے غزہ میں ہونے والی تباہی کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ عالمی برادری کی آنکھوں کے سامنے ہوا اور بین الاقوامی قانون اور انسانیت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی۔
جنگ بندی کے باوجود فلسطینیوں کی تکالیف جاری
تنظیموں نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے باوجود فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور تکالیف کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔
بیان کے مطابق فلسطینی اب بھی ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں، جبکہ انسانی صورت حال انتہائی سنگین ہے۔ انسانی امداد اور ضروری خدمات کی فراہمی پر بھی سخت پابندیاں بدستور عائد ہیں۔
تنظیموں نے کہا کہ غزہ میں ہونے والی وسیع پیمانے کی تباہی کو صرف اس لیے فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ بمباری کی شدت میں تبدیلی آئی ہے۔
انہوں نے کہا، "تین برس سے دنیا اس تباہی کو اپنی آنکھوں کے سامنے رونما ہوتے دیکھ رہی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی بار بار کی اپیلیں فلسطینیوں کو قتل، بے دخلی، تباہی اور محرومی سے مناسب تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
فلسطین کا مسئلہ 7 اکتوبر 2023 سے کہیں پرانا ہے
ANIC اور AAM نے غزہ کے بحران کو فلسطین کے وسیع تر اور تاریخی مسئلے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی تکلیف 7 اکتوبر 2023 سے شروع نہیں ہوئی۔
بیان میں کہا گیا، "78 برس سے زائد عرصے سے فلسطینی بے دخلی، جبری نقل مکانی، قبضے اور اپنے بنیادی حقوق سے مسلسل محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔”
آسٹریلیا سے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ
تنظیموں نے 21 ستمبر 2025 کو آسٹریلیا کی جانب سے فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کا خیرمقدم کیا اور اسے ایک اہم اور طویل عرصے سے زیر التوا قدم قرار دیا۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کو تسلیم کیے جانے کے بعد اب بامعنی اور ٹھوس عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
انہوں نے آسٹریلوی حکومت سے اسرائیل پر مؤثر پابندیاں عائد کرنے اور سفارتی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی مبینہ غیر قانونی قبضے، یہودی بستیوں کی توسیع، جبری بے دخلی اور تشدد کے خاتمے کے لیے مضبوط اقدامات پر زور دیا۔
تنظیموں نے دوطرفہ جامع اسلحہ پابندی عائد کرنے اور یہ یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا کہ آسٹریلیا براہِ راست یا بالواسطہ طور پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں معاون نہ بنے۔
انہوں نے پورے غزہ میں مکمل، محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی رسائی یقینی بنانے اور گھروں، اسپتالوں، اسکولوں اور ضروری شہری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے فوری امداد فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
تنظیموں نے آسٹریلوی حکومت پر زور دیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو فلسطینیوں کی آزادی، وقار اور حقِ خود ارادیت کی حمایت میں ٹھوس سیاسی اور سفارتی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
یہود دشمنی کی مخالفت
ANIC اور AAM نے کہا کہ وہ یہود دشمنی (Antisemitism)، نفرت اور ہر قسم کے امتیازی سلوک کو مسترد کرتے ہیں۔
تاہم، تنظیموں نے اس کوشش کو بھی مسترد کیا کہ اسرائیل، اس کی حکومت، پالیسیوں یا اس کے اقدامات پر تنقید کو یہود دشمنی کے مترادف قرار دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے حقوق اور بین الاقوامی قانون کے تحت جواب دہی کا مطالبہ جائز عوامی بحث کا حصہ ہونا چاہیے۔
تنظیموں نے مختلف مذاہب اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے ان آسٹریلوی شہریوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے پُرامن مظاہروں، عوامی مہمات اور انسانی امداد کے ذریعے فلسطینیوں کی حمایت کی۔
انہوں نے آسٹریلوی مسلمانوں اور تمام باشعور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے پُرامن اور قانونی طریقے سے اپنی آواز بلند کرتے رہیں۔
انہوں نے کہا، "وقت گزرنے سے ناانصافی کو کبھی معمول نہیں بننا چاہیے۔”
تنظیموں نے زور دیا کہ جب تک فلسطینی آزاد نہیں ہوتے، ان کے حقوق کا تحفظ نہیں ہوتا اور انصاف حاصل نہیں ہوتا، اس وقت تک ان کے حق میں آواز اٹھانا جاری رہنا چاہیے۔
AFIC کا بھی آسٹریلوی حکومت سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ
دریں اثنا، آسٹریلین فیڈریشن آف اسلامک کونسلز (AFIC) کے صدر ڈاکٹر راتیب جنید نے کہا کہ گزشتہ تین برس کے دوران دنیا نے غزہ میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں، تباہی، بے دخلی اور انسانی مصائب دیکھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا نے بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے، لیکن محض تشویش کے اظہار کو ایسے اقدامات کا ساتھ نہیں ملا جو اسرائیل پر بامعنی نتائج عائد کر سکیں۔
ڈاکٹر جنید نے کہا کہ آسٹریلیا کو اب محض بیانات اور محدود پابندیوں سے آگے بڑھنا چاہیے۔ ان اقدامات میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیا کی تجارت پر پابندی، قبضے اور بستیوں کے منصوبے کو ممکن بنانے یا اس سے فائدہ اٹھانے والے افراد اور اداروں پر پابندیاں، اور ایسے آسٹریلوی اداروں اور خیراتی تنظیموں کا جائزہ شامل ہونا چاہیے جو مبینہ طور پر غیر قانونی بستیوں کی سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آسٹریلیا کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ اس کی فوجی برآمدات یا دفاعی تعاون بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں معاون ثابت نہ ہو۔
ڈاکٹر جنید نے اسرائیل کے ساتھ آسٹریلیا کے وسیع تر سفارتی اور تجارتی تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ڈسکلیمر
ڈسکلیمر: یہ خبر MNTV کی ویب سائٹ پر شائع شدہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ اس میں شامل معلومات اور بیانات اصل ماخذ سے لیے گئے ہیں۔ Asia Times نے اس خبر کی صرف سرخی اور اردو تدوین کی ہے۔

