بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے اقلیتی طلبہ کو ملنے والی سود کی سبسڈی ختم؛ حکومت نے کم شرح سود پر قرض کو متبادل بتایا، لیکن کیا قرض کی سہولت اسکالرشپ کا نعم البدل ہوسکتی ہے؟
ایشیا ٹائمز خصوصی رپورٹ | نئی دہلی
ہندوستان کے اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے ان طلبہ کے لیے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ایک بار پھر مالی اعتبار سے بڑا چیلنج بن گیا ہے جو تعلیمی صلاحیت اور بلند عزائم تو رکھتے ہیں، لیکن محدود معاشی وسائل کی وجہ سے غیر ملکی یونیورسٹیوں کی بھاری فیس اور دیگر اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
ایسے طلبہ کے لیے مرکزی حکومت کی ایک اہم سہولت ’پڑھو پردیش اسکیم‘ (Padho Pardesh Scheme) تھی، جس کے تحت بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے بینک سے حاصل کیے گئے تعلیمی قرض پر حکومتِ ہند سود کی سبسڈی فراہم کرتی تھی۔ لیکن مرکزی حکومت نے مالی سال 2022-23 سے اس اسکیم کو ختم کردیا۔
حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق، اسکیم کے آغاز سے لے کر 2021-22 تک مجموعی طور پر 20,365 طلبہ اس سے مستفید ہوئے۔ حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ اسکیم کے آخری سال 2021-22 میں 4,622 طلبہ نے اس سے فائدہ اٹھایا، جو دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کسی ایک سال میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ جب اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا تو اسے بند کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ حکومت نے اس فیصلے کے حق میں کیا دلائل دیے اور اس کے بعد اقلیتی طلبہ کے لیے بیرونِ ملک تعلیم کا کون سا راستہ باقی رہ گیا ہے؟
پڑھو پردیش اسکیم کیا تھی؟
پڑھو پردیش اسکیم وزارتِ اقلیتی امور، حکومتِ ہند کی جانب سے مالی سال 2013-14 میں شروع کی گئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد اقلیتی برادریوں کے مستحق طلبہ کو بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مالی مدد فراہم کرنا تھا۔
اس اسکیم کے تحت چھ نوٹیفائیڈ اقلیتی برادریوں کے طلبہ درخواست دے سکتے تھے:
- مسلمان
- عیسائی
- سکھ
- بدھ مت کے پیروکار
- جین
- پارسی
اسکیم کے تحت بیرونِ ملک ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسے منظور شدہ کورسز کے لیے تعلیمی قرض حاصل کرنے والے طلبہ کو سود کی سبسڈی فراہم کی جاتی تھی۔
اس کی ایک اہم شرط یہ تھی کہ طالب علم کسی شیڈولڈ بینک سے انڈین بینکس ایسوسی ایشن (IBA) کی تعلیمی قرض اسکیم کے تحت قرض حاصل کرے۔
اس وقت اسکیم کے لیے خاندان کی سالانہ آمدنی کی زیادہ سے زیادہ حد 6 لاکھ روپے مقرر تھی، جب کہ 35 فیصد نشستیں طالبات کے لیے مختص تھیں۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ پڑھو پردیش مکمل اسکالرشپ نہیں تھی۔ حکومت طالب علم کی اصل قرض کی رقم ادا نہیں کرتی تھی بلکہ قرض پر مقررہ مدت کے دوران واجب الادا سود برداشت کرتی تھی۔
یہ مدت کورس کے دوران اور اس کے بعد ایک سال یا ملازمت ملنے کے چھ ماہ بعد تک، ان میں سے جو پہلے ہو، جاری رہتی تھی۔
اس طرح طالب علم کو تعلیم مکمل کرنے اور ملازمت حاصل کرنے کے ابتدائی مرحلے تک قرض کے سود کی ادائیگی سے راحت ملتی تھی۔
حکومت نے اسکیم بند کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
وزارتِ اقلیتی امور نے 15 دسمبر 2022 کو باضابطہ نوٹس جاری کرکے پڑھو پردیش اسکیم کو مالی سال 2022-23 سے بند کرنے کا اعلان کیا۔
حکومت نے اپنے فیصلے کے لیے بنیادی طور پر تین وجوہات پیش کیں۔
1۔ دوسری سرکاری اسکیموں سے مماثلت
حکومت کا کہنا تھا کہ وزارتِ سماجی انصاف و تفویض اختیارات اور وزارتِ قبائلی امور کی جانب سے بھی بعض اہل طلبہ کو تعلیمی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس لیے پڑھو پردیش اسکیم کے فوائد میں دوسری اسکیموں کے ساتھ مماثلت پائی جاتی ہے۔
2۔ سود کی سبسڈی کے محدود فوائد
وزارت کے مطابق اسکیم سے مستفید ہونے والے طلبہ کو ملنے والی سود کی سبسڈی کا مجموعی فائدہ محدود تھا۔
3۔ کم شرح سود پر تعلیمی قرض کی دستیابی
حکومت نے یہ دلیل بھی دی کہ سرکاری بینکوں کے ذریعے تعلیمی قرض حاصل کرنے کے ضوابط آسان ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ نیشنل مائنارٹیز ڈیولپمنٹ اینڈ فنانس کارپوریشن (NMDFC) بھی اقلیتی طلبہ کو بیرونِ ملک تعلیم کے لیے نسبتاً کم شرح سود پر قرض فراہم کرتا ہے۔
وزارتِ اقلیتی امور نے ان وجوہات کی بنیاد پر اسکیم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
البتہ حکومت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ 31 مارچ 2022 تک اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے موجودہ طلبہ کو مقررہ شرائط کی تکمیل پر ان کی باقی مدت کے لیے سود کی سبسڈی ملتی رہے گی۔
Ministry of Minority Affairs +1
20,365 طلبہ نے فائدہ اٹھایا، کیرالہ سب سے آگے
پڑھو پردیش اسکیم کے آٹھ برس کے اعداد و شمار اس کے جغرافیائی دائرے اور مختلف ریاستوں میں اس کی رسائی کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔
2014-15 سے 2021-22 تک مجموعی طور پر 20,365 طلبہ نے اسکیم کے تحت سود کی سبسڈی حاصل کی۔
ریاست وار اعداد و شمار میں کیرالہ سب سے آگے رہا، جہاں 10,964 طلبہ مستفید ہوئے۔ اس کے مقابلے میں شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں استفادہ کرنے والوں کی تعداد نسبتاً کم رہی۔
| ریاست | مستفید طلبہ |
|---|---|
| کیرالہ | 10,964 |
| مہاراشٹر | 1,893 |
| کرناٹک | 1,464 |
| تمل ناڈو | 902 |
| آندھرا پردیش | 732 |
| اتر پردیش | 236 |
| دہلی | 99 |
| بہار | 52 |
ماخذ: 2014-15 سے 2021-22 تک کے پارلیمانی اعداد و شمار پر مبنی ریاست وار تفصیلات۔ The Indian Express
ان اعداد و شمار سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیرالہ میں اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے طلبہ کی تعداد اتنی زیادہ اور اتر پردیش و بہار جیسی بڑی ریاستوں میں اتنی کم کیوں رہی؟
کیا اس کی وجہ اسکیم کے بارے میں آگاہی کی کمی تھی؟ کیا طلبہ کو بیرونِ ملک یونیورسٹیوں میں داخلہ حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی تھیں؟ یا بینکوں سے تعلیمی قرض حاصل کرنے کی شرائط ان کے لیے رکاوٹ تھیں؟
ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لیے ریاستی سطح پر مزید تحقیق اور طلبہ کے تجربات کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔
اسکیم کے خاتمے سے پہلے استعمال میں اضافہ
اسکیم کے سالانہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو اس کی اہمیت کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔
| مالی سال | مستفید طلبہ |
|---|---|
| 2014-15 | 1,083 |
| 2015-16 | 1,779 |
| 2016-17 | 1,781 |
| 2017-18 | 1,711 |
| 2018-19 | 2,495 |
| 2019-20 | 3,238 |
| 2020-21 | 3,656 |
| 2021-22 | 4,622 |
| مجموعی تعداد | 20,365 |
یہ اعداد بتاتے ہیں کہ اسکیم کے آخری برسوں میں مستفید ہونے والے طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ 2021-22 میں 4,622 طلبہ کا فائدہ اٹھانا اس کی اب تک کی سب سے زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
اس کے باوجود اگلے ہی مالی سال سے اسکیم ختم کردی گئی۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر حکومت کے فیصلے اور اس کے متبادل انتظامات کا مزید جائزہ لیا جانا چاہیے۔ Press Information Bureau +1
کیا NMDFC کا تعلیمی قرض پڑھو پردیش کا متبادل ہے؟
پڑھو پردیش اسکیم ختم کرنے کے بعد حکومت نے نیشنل مائنارٹیز ڈیولپمنٹ اینڈ فنانس کارپوریشن (NMDFC) کی تعلیمی قرض اسکیم کو اقلیتی طلبہ کے لیے ایک متبادل سہولت کے طور پر پیش کیا۔
NMDFC وزارتِ اقلیتی امور کے تحت کام کرنے والا سرکاری ادارہ ہے، جو چھ نوٹیفائیڈ اقلیتی برادریوں کے معاشی طور پر کمزور طبقات کو رعایتی شرح سود پر قرض فراہم کرتا ہے۔
اس کی تعلیمی قرض اسکیم میں دو کریڈٹ لائنیں ہیں:
کریڈٹ لائن 1
- سالانہ خاندانی آمدنی: 3 لاکھ روپے تک۔
- بیرونِ ملک تعلیم کے لیے زیادہ سے زیادہ قرض: 30 لاکھ روپے۔
- سالانہ شرح سود: 3 فیصد۔
کریڈٹ لائن 2
- سالانہ خاندانی آمدنی: 8 لاکھ روپے تک۔
- بیرونِ ملک تعلیم کے لیے زیادہ سے زیادہ قرض: 30 لاکھ روپے۔
- مرد طلبہ کے لیے شرح سود: 8 فیصد سالانہ۔
- خواتین کے لیے شرح سود: 5 فیصد سالانہ۔
یہ قرض زیادہ سے زیادہ پانچ سال کے دورانیے والے تکنیکی اور پیشہ ورانہ کورسز کے لیے دستیاب ہے۔ اس میں کورس مکمل ہونے یا ملازمت ملنے کے چھ ماہ بعد، جو پہلے ہو، سے قرض کی واپسی کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ قرض کی واپسی کی مدت پانچ سال ہے۔
Press Information Bureau +1
لیکن بنیادی فرق یہ ہے کہ پڑھو پردیش میں حکومت سود ادا کرتی تھی، جب کہ NMDFC کے تحت طالب علم کو قرض اور اس پر سود دونوں واپس کرنے ہوتے ہیں۔
اس لیے NMDFC کی قرض سہولت کو پڑھو پردیش کی مکمل جگہ لینے والی اسکالرشپ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ یہ ایک رعایتی قرض ہے، مفت مالی امداد نہیں۔
اقلیتی طلبہ کے سامنے اصل مشکل کیا ہے؟
بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم کو صرف یونیورسٹی کی فیس ہی ادا نہیں کرنی ہوتی۔ رہائش، کھانا، سفر، ویزا، میڈیکل انشورنس، کتابیں اور روزمرہ کے اخراجات بھی اس کے تعلیمی بجٹ کا حصہ ہوتے ہیں۔
ایسے میں 30 لاکھ روپے تک کا قرض ہر ملک اور ہر یونیورسٹی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی نہیں ہوسکتا۔
دوسری طرف، کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے قرض پر 3، 5 یا 8 فیصد سالانہ سود بھی ایک اہم مالی ذمہ داری ہے۔
پڑھو پردیش اسکیم کے تحت کم از کم اتنی سہولت ضرور تھی کہ طالب علم کو تعلیم کے دوران اور ملازمت کے ابتدائی مرحلے میں سود ادا کرنے کی فکر نہیں ہوتی تھی۔
اسکیم کے خاتمے کے بعد یہ مالی تحفظ نئے درخواست دہندگان کے لیے دستیاب نہیں رہا۔
پارلیمنٹ میں حکومت کا کیا مؤقف رہا؟
27 جولائی 2023 کو لوک سبھا میں وزارتِ اقلیتی امور کی جانب سے دیے گئے تحریری جواب میں حکومت نے بتایا تھا کہ پڑھو پردیش اسکیم سے مجموعی طور پر 20,365 طلبہ مستفید ہوئے ہیں۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اسکیم کو دوبارہ جاری رکھنے کی فی الحال کوئی تجویز نہیں ہے۔
دسمبر 2025 میں بھی یہ معاملہ پارلیمنٹ میں زیرِ بحث آیا۔ وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو نے اسکیم کی بندش کے لیے وہی وجوہات پیش کیں جن میں دوسری اسکیموں سے مماثلت، محدود فوائد اور NMDFC کے ذریعے کم شرح سود پر قرض کی دستیابی شامل ہیں۔
اس طرح حکومت کا مؤقف برقرار رہا کہ پڑھو پردیش اسکیم کو دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ Press Information Bureau +1
کیا حکومت دوبارہ سود کی سبسڈی شروع کرے گی؟
اس پورے معاملے میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا حکومت اقلیتی طلبہ کے لیے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کی کوئی نئی اسکالرشپ یا سود کی سبسڈی متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے؟
دسمبر 2025 تک پارلیمنٹ میں دیے گئے سرکاری جواب میں پڑھو پردیش اسکیم کی بحالی کی کوئی تجویز موجود نہیں تھی۔ اس کے بعد کسی نئی بحالی کے اعلان کی تصدیق بھی ان دستیاب حوالوں سے نہیں ہوتی۔
دوسری جانب، NMDFC کا تعلیمی قرض ایک متبادل مالی راستہ ضرور فراہم کرتا ہے، لیکن اس کی شرائط اور قرض کی واپسی کی ذمہ داری اسے مکمل اسکالرشپ سے مختلف بناتی ہے۔
اقلیتی طلبہ کے لیے یہ معاملہ محض ایک اسکیم کی بندش کا نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم تک مساوی رسائی کا بھی ہے۔
حکومت سے چند اہم سوالات
پڑھو پردیش اسکیم کے خاتمے کے بعد حکومت سے چند سوالات کے جواب ملنا ضروری ہیں:
- کیا اسکیم ختم کرنے سے پہلے اس کے تعلیمی اور سماجی اثرات کا جامع جائزہ لیا گیا تھا؟
- کیا NMDFC کا تعلیمی قرض کم آمدنی والے تمام مستحق طلبہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے؟
- کیا حکومت اقلیتی طلبہ کے لیے بیرونِ ملک تعلیم کی کوئی نئی مکمل یا جزوی اسکالرشپ متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے؟
- کیا اتر پردیش، بہار اور دیگر ریاستوں میں اسکیم کے کم استفادے کی وجوہات کا جائزہ لیا گیا؟
- کیا حکومت مستقبل میں بیرونِ ملک تعلیم کے لیے تعلیمی قرض پر سود کی سبسڈی دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟
تعلیم کا خواب اور معاشی وسائل کا سوال
ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کے عالمی مواقع تک رسائی صرف ان طلبہ کا مسئلہ نہیں جو بیرونِ ملک جانا چاہتے ہیں، بلکہ یہ ملک کے علمی، تحقیقی اور پیشہ ورانہ مستقبل سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔
پڑھو پردیش اسکیم نے 20 ہزار سے زائد طلبہ کو بیرونِ ملک تعلیم کے لیے مالی سہارا فراہم کیا۔ حکومت نے اسے ختم کرنے کے لیے انتظامی اور مالی وجوہات پیش کیں، لیکن اس کے بعد پیدا ہونے والے خلا اور متبادل سہولتوں کی حقیقی افادیت پر بحث ابھی باقی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ طلبہ کو قرض مل رہا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ایک غریب مگر باصلاحیت طالب علم کے لیے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کا خواب اب بھی قابلِ حصول ہے؟
یہ سوال حکومت، وزارتِ اقلیتی امور، تعلیمی اداروں اور پالیسی سازوں کی توجہ کا متقاضی ہے۔
اہم دستاویزی حوالہ جات
- وزارتِ اقلیتی امور: پڑھو پردیش اسکیم کی بندش کا اصل نوٹس، 15 دسمبر 2022
- PIB: لوک سبھا میں حکومت کا تحریری جواب، 27 جولائی 2023
- Indian Express: ریاست وار مستفید طلبہ کے اعداد و شمار، دسمبر 2025
- PIB: NMDFC تعلیمی قرض کی شرائط
- NMDFC کی سرکاری ویب سائٹ
رپورٹ: ایشیا ٹائمز نیوز ڈیسک

