فی الحال نگاہیں 30 اکتوبر کو ڈاکٹر شمس اقبال کی سبکدوشی اور یکم نومبر سے کونسل کی نئی قیادت کے اعلان پر مرکوز ہیں۔
نئی دہلی، 28 اکتوبر 2026 | ایشیا ٹائمز –اشرف علی بستوی
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL) میں ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال کی سبکدوشی کے ساتھ قیادت کی تبدیلی کا مرحلہ قریب آ گیا ہے، لیکن یکم نومبر سے کونسل کی سربراہی کون سنبھالے گا، اس بارے میں تاحال صورتِ حال واضح نہیں ہو سکی ہے۔ ڈاکٹر شمس اقبال 30 اکتوبر کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔
28 اکتوبر کو نئی دہلی میں قومی اردو کونسل کے دفتر میں منعقدہ کتابوں کی رسمِ اجرا کی تقریب میں ڈاکٹر شمس اقبال نے اپنا الوداعی خطاب پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے دو ر کی ِسرگرمیوں، کتابوں کی اشاعت، علمی و ادبی سیمیناروں اور کونسل کے مستقبل سے متعلق اپنے خیالات تفصیل سے بیان کیے۔
ان کا خطاب محض اپنے دور کی کارکردگی کا احوال نہیں تھا، بلکہ اس میں اردو زبان کے فروغ کے لیے قائم اس اہم سرکاری ادارے کے کردار، ترجیحات اور مستقبل کی سمت سے متعلق کئی اہم نکات بھی سامنے آئے۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے صدر دفتر میں آج کلیم الدین احمد، پریم چند اور معاصر اردو ادب سے متعلق تین اہم کتابوں کا اجرا عمل میں آیا۔ یہ تینوں کتابیں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقد ہونے والے سمیناروں میں پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ ہیں، جنھیں ڈاکٹر شمس اقبال، پروفیسر کوثرمظہری اور پروفیسر شہزاد انجم نے مرتب کیا ہے۔ پہلی کتاب بعنوان’معاصر اردو ادب کا تخلیقی، تنقیدی اور تحقیقی منظرنامہ‘ جے این یومیں منعقد ہونے والے سہ روزہ سمینار کے مقالات پرمشتمل ہے۔ اس میں پینتیس مضامین شامل ہیں۔ دوسری کتاب ’کلیم الدین احمد کی نگارشات: ایک بازدید‘ شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے منعقد ہونے والے یک روزہ سمینار میں پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ ہے۔اس کتاب میں بائیس مضامین اور کلیدی خطبہ شامل ہے۔ تیسری کتاب ’پریم چند کا ادب: نئے تناظر میں‘ پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے منعقد یک روزہ سمینار کے مقالات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب میں اٹھائیس مضامین شامل ہیں۔

200 پروگرام اور 103 کتابوں کی اشاعت
اپنے خطاب میں ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ ان کے دور میں کونسل کے تحت مختلف علمی و ادبی پروگراموں، سیمیناروں اور کتاب میلوں کا انعقاد کیا گیا۔ انہوں نے چنار بک فیسٹیول کے تین ایڈیشن، علی گڑھ بک فیسٹیول اور دیگر علمی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے مجموعی طور پر تقریباً 200 پروگراموں کی بات کہی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے دور میں تقریباً 103 کتابوں پر کام کیا گیا۔ ان کے مطابق، ان کتابوں اور علمی سرگرمیوں میں سائنس، سماجی علوم اور مختلف علمی موضوعات کو جگہ دینے کی کوشش کی گئی۔
ڈاکٹر شمس اقبال نے ان سرگرمیوں کا سہرا اپنی پوری ٹیم کو دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی کتاب کی تیاری اور اشاعت میں اکیڈمک، ایڈیٹوریل، پروڈکشن اور انتظامی شعبوں کے افراد کا اہم کردار ہوتا ہے۔
البتہ ان کے بیان کردہ اعداد و شمار کونسل کے کام کا ایک خاکہ پیش کرتے ہیں، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ سالانہ رپورٹوں، اشاعتی فہرستوں اور پروگراموں کی تفصیلات کا جائزہ ضروری ہے۔

اردو کونسل کا کام صرف کتابیں شائع کرنا نہیں
ڈاکٹر شمس اقبال نے اپنے خطاب میں قومی اردو کونسل کے بنیادی کردار پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو کے فروغ کے لیے روزگار سے متعلق تربیت اور پیشہ ورانہ کورسز اہم ہیں، لیکن کونسل کی ذمہ داری ان سرگرمیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ اردو میں علمی و تحقیقی مکالمے کو فروغ دیا جائے، اساتذہ اور محققین کی سرپرستی کی جائے اور مصنفین کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جن سے اردو میں مختلف علوم پر معیاری کام سامنے آ سکے۔
ان کے مطابق، اردو کے فروغ کو کسی ایک فرد کی کامیابی کے بجائے اجتماعی کوشش کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ مؤقف اس لیے بھی اہم ہے کہ اردو کے سرکاری اداروں کی کارکردگی کا جائزہ صرف منعقدہ پروگراموں یا شائع ہونے والی کتابوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس بات سے بھی لیا جانا چاہیے کہ ان سرگرمیوں نے تحقیق، تدریس، مطالعے اور نئی نسل میں اردو سے دلچسپی کو کس حد تک فروغ دیا۔
خواتین مصنفین اور بچوں کے ادب پر توجہ
ڈاکٹر شمس اقبال نے اپنے خطاب میں خواتین مصنفین اور بچوں کے ادب کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کے لیے تقریباً 50 کتابیں شائع کی گئیں اور اس بات پر زور دیا کہ خواتین مصنفین کے کام کو مزید نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مستقبل میں خواتین کے ادب اور خواتین پر مرکوز تحریروں کے لیے خصوصی منصوبے شروع کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
یہ نکات کونسل کی آئندہ اشاعتی پالیسی کے حوالے سے اہم ہیں۔ بچوں کے لیے معیاری اور دلچسپ کتابوں کی اشاعت، خواتین قلم کاروں کی حوصلہ افزائی اور نئے موضوعات پر علمی کام اردو کے قارئین کا دائرہ وسیع کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

مخالفت کا بھی ذکر، نئے ڈائریکٹر کے لیے نیک خواہشات
اپنے الوداعی خطاب میں ڈاکٹر شمس اقبال نے اپنے دور میں ہونے والی مخالفت کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مخالفت نے انہیں مزید مضبوطی سے کام کرنے اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی تحریک دی۔
انہوں نے آنے والے ڈائریکٹر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کونسل کے عملے سے اپیل کی کہ وہ نئی قیادت کو بھی اسی طرح تعاون فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ کونسل کسی ایک فرد کی نہیں، بلکہ اردو زبان اور اس سے وابستہ پوری برادری کا ادارہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قیادت کی تبدیلی کے باوجود ادارے کے کام کا تسلسل برقرار رہے۔
یکم نومبر سے کون سنبھالے گا کونسل کی ذمہ داری؟
ڈاکٹر شمس اقبال کی 30 اکتوبر کو سبکدوشی کے بعد یکم نومبر سے کونسل کی سربراہی کون کرے گا، یہ اس وقت سب سے اہم سوال ہے۔ دستیاب معلومات کی بنیاد پر نئے ڈائریکٹر کے نام کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
قومی اردو کونسل وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند کے تحت اردو زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے والا ایک اہم ادارہ ہے۔ اس کی قیادت میں تبدیلی صرف انتظامی معاملہ نہیں، بلکہ اردو کی اشاعت، علمی سرگرمیوں، تحقیق اور زبان کی ترویج سے متعلق جاری منصوبوں کے تسلسل کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
ایسے میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ نئی قیادت کا انتخاب کب سامنے آتا ہے، کونسل کی موجودہ ترجیحات کس طرح آگے بڑھتی ہیں اور اردو کے علمی و ادبی حلقوں کے ساتھ ادارے کے روابط کو کس انداز میں مضبوط کیا جاتا ہے۔

شکریہ ڈاکٹر شمس اقبال
شکریہ ڈاکٹر شمس اقبال ، ہم نے نوٹ کیا کہ آپ کے الوداعی خطاب میں ایک طرف اپنے دور کی سرگرمیوں کا ذکر تھا، تو دوسری طرف ادارے کو کسی ایک شخصیت سے بالاتر رکھنے کا پیغام بھی تھا۔
آپ کی گفتگو میں مخالفین کے لیے دعا ئیہ کلمات سن کر پوری مجلس قہقہ زار ہو گئی، آپ کا یہ رویہ اچھا لگا ۔
مخالف ٹیم نے آپ کو کلین بولڈ کرنے کے لیے ہر طرح کے بالرس کو آزمایا لیکن آپ آخر تک میدان میں ڈتے رہے اور آخری گیند تک کھیلا ،ناٹ آوٹ رہے ،یہ آپ کی اسٹرٹیجی اور حوصلہ کی جیت کہی جا سکتی ہے ۔
کونسل کو بستر مرگ سے اٹھاکر حاصل وساٗل اور اختیارات میں آپ نے کونسل سرگرم رکھا یہ آپ کے حصے کا اہم کام ہے جسے یاد رکھا جائے گا ۔ اب آپ کی اننگ مکمل ہو گئی اب باری آنے والے ڈاٗریکٹر کی ہے ۔
آپ نے تقریباً 200 پروگراموں اور 103 کتابوں کا ذکر کیا ہے میں آپ کے اس بیان کو کونسل کی دستاویزات اور اشاعتی ریکارڈ کی روشنی میں جانچنا ضروری سمجھتا ہوں ۔
آنے والی قیادت کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ادارے کی سرگرمیوں کو محض جاری رکھنے کے بجائے ان کے معیار، افادیت اور علمی اثرات کو بھی مضبوط کرے۔
اردو زبان کے مستقبل کے لیے یہ ضروری ہے کہ قومی اردو کونسل میں قیادت کی تبدیلی شفاف طریقے سے مکمل ہو، جاری منصوبوں کا تسلسل برقرار رہے اور ادارے کی توجہ معیاری اشاعت، تحقیق، بچوں کے ادب، خواتین قلم کاروں اور نئی نسل میں اردو کے فروغ پر قائم رہے۔
فی الحال نگاہیں 30 اکتوبر کو ڈاکٹر شمس اقبال کی سبکدوشی اور یکم نومبر سے کونسل کی نئی قیادت کے اعلان پر مرکوز ہیں۔


اشرف علی بستوی نے ماشاءاللہ بہت تفصیل سے اس الوداعیہ تقریب کی رپورٹ پیش کی۔اوس شمس اقبال کے دور کے کارناموں کو پیش کیا۔یہ سچ ہے کہ شمس اقبال نے کونسل کے کاموں کو بڑھایا اور اپنے پورے دور میں بے حد فعال رہے۔ان کے معزز دشمنوں نے ان پر کیچڑ اچھالنے کی بھر پور کوشش کی لیکن یہ جوان ڈٹا رہا۔کام کرنے والوں کے ساتھ تنازعہ کا تختہ بڑا گہرا ہوتا ہے۔سچ جھوٹ کا فیصلہ اللہ کرتا ہے لیکن ساتھ پریشانی تو ہوتی ہے۔
اب وہ مکھ کردار سے آزاد ہورہے ہیں۔اللہ ان کے لئے آسانیاں پیدا کرے اور نئے کام کی تو فیق عطا فرمائے۔میری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں ۔