ایشیا ٹائمز اسپیشل /اشرف علی بستوی
یہ اور اس طرح کے سوالات کی فہرست بنائیں اور حکومت کو ٹیگ کریں ،ای میل کریں ،ان کے سوشل میڈیا ہینڈل پر ڈالیں .
پہلا سوال
اگر انڈین ایکسپریس کی انتخابی فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق رپورٹ غلط یا گمراہ کن ہے، تو حکومت نے اب تک اس کے خلاف کیا کارروائی کی ہے اور اس کے دعووں کی تردید میں کیا ثبوت پیش کیے ہیں؟
دوسرا سوال
کیا پی آئی بی کارڈ کے بغیر کسی صحافی کو احتجاجی مظاہرے کی رپورٹنگ سے روکنا قانونی ہے؟ اگر ہاں، تو اس کا قانونی حکم کہاں ہے؟
تیسرا سوال
جنتر منتر پر احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو حراست میں لینے کی قانونی بنیاد کیا تھی؟
چوتھا سوال
صحافیوں کے موبائل فون اور رپورٹنگ کے آلات کیوں ضبط کیے گئے، اور انہیں واپس کرنے کے لیے کیا کارروائی کی گئی؟
پانچواں سوال
کیا پُرامن احتجاج کو روکنے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی ضروری تھی؟ اس فیصلے کی بنیاد کیا تھی؟
چھٹا سوال
احتجاج کے دوران میٹرو اسٹیشنوں کی بندش اور ٹرین خدمات میں خلل سے عام شہریوں کو ہونے والی پریشانیوں کی ذمہ داری کون لے گا؟
ساتواں سوال
رپورٹس کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ افراد کو گھروں میں محدود رکھنے یا حراست میں لینے کی کوششوں کے پیچھے کیا قانونی جواز تھا، اور اس کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے کب آئیں گی؟
آٹھواں سوال
کیا احتجاج میں شرکت کرنے والوں اور انہیں روکنے کے لیے پہنچنے والی تنظیموں سے وابستہ افراد کے ساتھ پولیس نے یکساں قانونی سلوک کیا؟ اگر نہیں، تو کیوں؟
نواں سوال
انتخابی فہرستوں کی نظرثانی اور الیکشن کمیشن کے کردار سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے جواب حکومت اور الیکشن کمیشن شواہد اور دستاویزات کے ساتھ کب دیں گے؟
دسواں سوال
کیا حکومت صحافیوں کو مبینہ طور پر حراست میں لینے، ہراساں کرنے اور رپورٹنگ سے روکنے کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرائے گی اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے گی؟

