امام حافظ ظفیر علی کے بھارت دورے کی تصویری جھلکیاں ملاحظہ ہوں
`بہار کی اپنائیت سے دہلی، علی گڑھ اور آگرہ تک` *خدمت، ملاقاتوں اور یادگار لمحوں کا سفر
(6 اگست تا 27 اگست 2026)
الفلاح فاؤنڈیشن نیویارک کے ڈائریکٹر امام حافظ ظفیر علی عمری مدنی حفظہ اللہ کا 21 روزہ دورۂ بھارت کئی اعتبار سے یادگار، مصروف اور بامقصد رہا۔ یہ محض وطن واپسی، اہلِ خانہ اور اعزہ و اقربا سے ملاقات کا سفر نہیں تھا، بلکہ اس کے دامن میں خاندانی تعلقات کی تجدید، قدیم رفقا سے ملاقاتیں، فاؤنڈیشن کے فلاحی و تعلیمی منصوبوں کا جائزہ، مدارس و اسکولوں کے دورے، ضرورت مندوں کی خبرگیری، علمی و سماجی شخصیات سے تبادلۂ خیال اور ہندوستان کے تاریخی و تہذیبی مقامات کی سیر بھی شامل رہی۔
رپورٹ و ترتیب: زبیر خان سعیدی-انڈیا کوآرڈینیٹر، الفلاح فاؤنڈیشن نیویارک
امام صاحب اپنی اہلیہ اور چھ بچوں کے ہمراہ اس سفر پر تشریف لائے تھے۔ (بڑے صاحبزادے اور ان کی بیگم ملازمت کی وجہ سے نہیں آئے تھے)
اکیس دنوں کے اس سفر میں کبھی خاندان کی محبت اور وطن کی مٹی کی خوشبو تھی، کبھی مدارس کے بچوں کی دعائیں، کبھی ضرورت مندوں کے مسائل، کبھی علمی و فکری گفتگو اور کبھی ہندوستان کی تاریخی و تہذیبی یادگاروں کے درمیان بیتے یادگار لمحات۔
`تفصیلات:`
6 اگست نئی دہلی آمد
6 اگست 2026 کو امام حافظ ظفیر علی اپنی فیملی کے ہمراہ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ٹرمنل 3، نئی دہلی پہنچے۔ ایئرپورٹ پر الفلاح فاؤنڈیشن نیویارک کے انڈیا کوآرڈینیٹر زبیر خان سعیدی نے ان کا استقبال کیا۔
طویل فضائی سفر کے بعد دہلی میں ایک رات قیام طے تھا، کیونکہ اگلی صبح بہار کے لیے روانگی تھی۔ یوں دہلی اس سفر کا پہلا پڑاؤ ضرور تھا، لیکن اصل سفر یعنی خاندانی اور سماجی مصروفیات کا آغاز بہار پہنچنے کے بعد ہونا تھا۔
7 اگست — دہلی سے دربھنگہ اور آبائی وطن کی طرف
7 اگست کو امام صاحب اہلِ خانہ کے ہمراہ نئی دہلی کے ٹرمنل ون سے دربھنگہ کے لیے روانہ ہوئے۔ دربھنگہ ایئرپورٹ پہنچنے پر اہلِ خاندان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، جس کے بعد قافلہ آبائی وطن دھرم پور، سمستی پور، بہار کی جانب روانہ ہوگیا۔
شام تک آبائی گھر پہنچنے پر ماحول خاصا جذباتی تھا۔ اعزہ، اقربا، دوست اور رشتہ دار بڑی تعداد میں موجود تھے۔ طویل عرصے بعد وطن واپسی کی خوشی ہر چہرے سے نمایاں تھی۔ اسی شام پہلے خاندانی عشائیے کا اہتمام ہوا، جو آنے والے دو ہفتوں کی مصروف خاندانی اور سماجی زندگی کا خوب صورت آغاز ثابت ہوا۔
اہلِ خانہ، اعزہ و اقربا اور ضرورت مندوں سے ملاقاتیں
اگلے روز سے ملاقاتوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جو 22 اگست تک جاری رہا۔ محلے کے بزرگوں، خاندان کے افراد، عزیزوں، رشتہ داروں اور پرانے شناسا لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ کہیں برسوں بعد ملنے کی خوشی تھی، کہیں ماضی کی یادیں تازہ ہورہی تھیں اور کہیں خاندان کی نئی نسل سے تعارف کا موقع مل رہا تھا۔
لیکن ان مصروفیات کے درمیان امام صاحب نے سماجی اور فلاحی ذمہ داریوں کو بھی فراموش نہیں کیا۔ انہوں نے بیوہ خواتین، مسکینوں اور ضرورت مند خاندانوں سے ملاقات کی اور نقد عطیات تقسیم کیے۔ ایسے سفید پوش خاندانوں تک بھی تعاون پہنچایا گیا جو اپنی ضرورت اور پریشانی دوسروں کے سامنے بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
یہ ملاقاتیں محض مالی امداد تک محدود نہیں تھیں، بلکہ لوگوں کے حالات کو قریب سے دیکھنے، ان کے مسائل سننے اور ان کی ضروریات کو سمجھنے کا ذریعہ بھی بنیں۔
مدرسہ محمودیہ کا دورہ
بہار میں قیام کے دوران امام صاحب نے اپنے ذریعے قائم کردہ مدرسہ محمودیہ کا خصوصی دورہ کیا۔ وہاں زیرِ تعلیم بچوں سے فرداً فرداً ملاقات کی، ان کی تعلیم و تربیت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور مدرسے کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر امام صاحب کے ایک صاحبزادے *طیب* نے بھی بچوں سے محبت اور خیر خواہی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں نقد عطیات پیش کیے۔ ایک نئی نسل کے ہاتھوں ضرورت مند طلبہ تک خیر پہنچنے کا یہ منظر اپنی جگہ نہایت متاثر کن تھا۔
الفلاح فاؤنڈیشن کے منصوبوں کا جائزہ
بہار میں قیام کے دوران امام حافظ ظفیر علی نے الفلاح فاؤنڈیشن نیویارک کے زیرِ انتظام یا تعاون سے جاری مختلف فلاحی اور تعلیمی منصوبوں کا جائزہ لیا۔ اس سے انہیں مقامی سطح پر ان منصوبوں کے اثرات، انتظامی صورتِ حال اور مستقبل کی ضروریات کو براہِ راست سمجھنے کا موقع ملا۔
اسی سلسلے میں حاجی پور میں فاؤنڈیشن کے تعاون سے چلنے والے تحفیظ القرآن مدرسے کا دورہ کیا گیا۔ امام صاحب نے طلبہ سے ملاقات کی، ان کی تعلیمی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا اور بچوں میں نقد عطیات تقسیم کیے۔
اس نوعیت کے دوروں کی اہمیت یہ بھی تھی کہ نیویارک میں بیٹھ کر جن منصوبوں کی رپورٹس اور تصاویر دیکھی جاتی ہیں، اس سفر میں انہیں زمینی سطح پر براہِ راست دیکھنے اور مستفید ہونے والوں سے گفتگو کرنے کا موقع میسر آیا۔
12 اگست — بھتیجی اور بھانجے کے نکاح میں شرکت
12 اگست امام صاحب اور ان کے خاندان کے لیے خصوصی خوشی کا دن تھا۔ اس روز انہوں نے اپنی بھتیجی کی تقریبِ نکاح میں شرکت کی۔ یہ عقد امام صاحب کے بھانجے حافظ مطہر حسین ندوی، قاسمی ثم ازہری کے ساتھ ہوا۔ ماشاء اللہ زوجین دونوں دینی تعلیم سے آراستہ ہیں اور بھتیجی نے بھی جامعۃ الصالحات، رام پور سے سندِ فراغت حاصل کی ہے۔
تقریبِ نکاح خاندانی خوشی کے ساتھ دور دراز علاقوں میں مقیم اعزہ و اقربا سے ملاقات کا بھی ذریعہ بن گئی۔ ایک ہی مقام پر خاندان کے مختلف افراد کے جمع ہونے سے وطن واپسی کی خوشی مزید دوبالا ہوگئی۔
اس موقع پر راشٹریہ جنتا دل کے رہنما اور سابق رکن اسمبلی اختر الاسلام شاہین بھی امام صاحب سے ملاقات کے لیے تشریف لائے۔
15 اگست صحابہ اکیڈمی، سمستی پور میں یومِ آزادی
15 اگست 2026 کو یومِ آزادی کے موقع پر صحابہ اکیڈمی، سمستی پور کے ڈائریکٹر انجینئر افسر کی دعوت پر امام صاحب نے اسکول کا دورہ کیا۔
انہوں نے یومِ آزادی کی تقریب میں پرچم کشائی کی، طلبہ کی تعلیمی و ثقافتی پیش کشیں دیکھیں اور بچوں، اساتذہ اور حاضرین سے خطاب کیا۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے تعلیم، کردار سازی، ذمہ دار شہری بننے اور ملک و معاشرے کی خدمت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
طلبہ کے درمیان امام صاحب کی موجودگی اور ان کے ساتھ براہِ راست گفتگو نے اس تقریب کو محض یومِ آزادی کی رسمی تقریب کے بجائے ایک تربیتی اور حوصلہ افزا نشست میں تبدیل کردیا۔
فاؤنڈیشن کے ذمہ داران اور قدیم رفقا سے ملاقاتیں
بہار کے قیام کی ایک نمایاں خصوصیت الفلاح فاؤنڈیشن کے مختلف علاقوں کے ذمہ داران، دینی شخصیات اور قدیم رفقا سے بالمشافہ ملاقاتیں تھیں۔
مولانا مطیع الرحمن عمری اتر دیناج پور سے خصوصی طور پر ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ وہ اور امام حافظ ظفیر علی جامعہ دارالسلام عمرآباد میں ہم جماعت رہ چکے ہیں، اس لیے یہ ملاقات تنظیمی گفتگو کے ساتھ طالب علمی کے زمانے کی یادیں تازہ کرنے کا بھی خوب صورت موقع بنی۔
سپول، بہار کے انچارج مولانا نعیم اختر عمری بھی سمستی پور تشریف لائے۔ وہ امام صاحب کے سینئر اور محترم ساتھی ہیں۔ اسی طرح رحیم آباد سے مولانا عتیق الرحمن عمری، سیف الاسلام عمری اور دیگر عمری احباب سے ملاقاتیں ہوئیں۔
مدرسہ رحمانیہ، سپول دربھنگہ کے ناظم مفتی محب اللہ بھی ملاقات کے لیے تشریف لائے، جبکہ منیار پور، وارث نگر کے انچارج مولانا ضیاء القمر فلاحی سے بھی پُرجوش ملاقات ہوئی۔
جھنجھارپور، مدھوبنی/دربھنگہ کے ذمہ دار انجینئر عبیداللہ نے ملاقات کے موقع پر متھلا کی تہذیبی روایت کے مطابق امام صاحب کو پاگ پہنا کر اور شال اوڑھا کر استقبال کیا۔ یہ منظر بہار اور متھلا کی روایتی تہذیب، احترام اور محبت کا خوب صورت مظہر تھا۔
اس دوران سمستی پور کی مختلف مساجد کے ائمہ اور ذمہ داران سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور مقامی دینی و سماجی حالات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
21 اگست— امامت و خطابتِ جمعہ
21 اگست کو امام حافظ ظفیر علی نے نمازِ جمعہ میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر مقامی لوگوں کی بڑی تعداد سے ملاقات کا موقع ملا۔
یہ جمعہ بہار میں تقریباً دو ہفتوں پر محیط قیام کے آخری مرحلے کی علامت بھی تھا۔ چند ہی گھنٹوں بعد وہ آبائی وطن جہاں اہلِ خاندان اور پرانے رفقا کے ساتھ کئی یادگار دن گزرے تھے، ایک مرتبہ پھر پیچھے رہ جانے والا تھا۔
22 اگست— نم آنکھوں سے بہار کو الوداع
22 اگست کو دہلی واپسی کا دن تھا۔ آبائی وطن سے رخصتی کا منظر جذباتی تھا۔ خاندان، عزیزوں، رشتہ داروں اور دوستوں نے امام صاحب اور ان کے اہلِ خانہ کو نم آنکھوں سے الوداع کہا۔
کچھ قریبی احباب اور رشتہ دار دربھنگہ ایئرپورٹ تک ساتھ آئے اور وہیں سے انہیں دہلی کے لیے رخصت کیا۔
اسی روز دہلی کے ٹرمنل 1 پر زبیر خان سعیدی نے امام صاحب اور ان کے اہلِ خانہ کا استقبال کیا۔ یہاں سے اگلا پڑاؤ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کا نہرو گیسٹ ہاؤس تھا، جہاں ڈاکٹر خالد ولایت خان عمری منتظر تھے۔
اسی رات نہرو گیسٹ ہاؤس میں ڈاکٹر خالد ولایت خان عمری کے ساتھ عشائیہ ہوا۔ کھانے کے بعد پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے جامعہ نگر کے معروف تکونہ پارک کے قہوہ خانے کا رخ کیا گیا۔ سفر کی تھکن غالب تھی، اس لیے چائے اور مختصر نشست کے بعد جلد ہی گیسٹ ہاؤس واپسی ہوگئی۔
اب 22 اگست کی رات سے 27 اگست کی شام تک دہلی کو اس سفر کا مرکزی پڑاؤ بننا تھا۔
23 اگست — نوئیڈا، اکشردھام اور انڈیا گیٹ
23 اگست کا دن اہلِ خانہ کے ساتھ دہلی اور این سی آر کی سیر کے لیے مختص رہا۔
امام صاحب اور ان کی فیملی کے ہمراہ نوئیڈا کے مال آف انڈیا گئے۔ وہاں کچھ وقت گزارنے کے بعد شام کو اکشردھام کا رخ کیا اور رات کے وقت انڈیا گیٹ کی سیر کی۔ اس کے بعد نہرو گیسٹ ہاؤس واپسی ہوئی۔
مسلسل سماجی اور تنظیمی مصروفیات کے درمیان یہ دن اہلِ خانہ کے ساتھ نسبتاً ہلکے اور خوش گوار ماحول میں گزرا۔
24 اگست — الفلاح پبلک اسکول، علی گڑھ کا دورہ
24 اگست کو علی الصبح مولانا سعد رشید ندوی کی گاڑی سے علی گڑھ کے لیے روانگی ہوئی۔
علی گڑھ میں الفلاح فاؤنڈیشن نے غریب اور پسماندہ خاندانوں کے بچوں کے لیے الفلاح پبلک اسکول قائم کر رکھا ہے۔ تقریباً سوا نو بجے ہم اسکول پہنچے، جہاں اسکول کی پرنسپل سسٹر نغمہ، اساتذہ اور بچوں نے پھولوں کے ساتھ مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔
امام حافظ ظفیر علی نے اسکول کی تمام کلاسوں کا دورہ کیا، طلبہ سے انفرادی طور پر گفتگو کی، اساتذہ سے ملاقات کی اور تعلیمی و انتظامی امور کا جائزہ لیا۔
بعد ازاں ایک مختصر تقریب منعقد ہوئی جس میں امام صاحب نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہیں تعلیم، محنت، اچھے اخلاق اور زندگی میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔
اسکول کا یہ دورہ اس اعتبار سے بھی اہم تھا کہ امام صاحب کو فاؤنڈیشن کے ایک تعلیمی منصوبے کو قریب سے دیکھنے، اساتذہ اور طلبہ سے براہِ راست گفتگو کرنے اور مستقبل کی ضروریات کو سمجھنے کا موقع ملا۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور مولانا آزاد لائبریری
اسکول کے دورے کے بعد دوپہر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچے۔ فیکلٹی آف آرٹس کے باہر ڈاکٹر نعمان طاہر سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد تاریخی مولانا آزاد لائبریری کا رخ کیا گیا۔
لائبریری میں میرے چھوٹے بھائی (کزن) واجد خان سے ملاقات ہوئی، جو وہاں ملازمت کرتے ہیں۔ ان کی معیت میں لائبریری کے مختلف حصوں کو تفصیل سے دیکھنے کا موقع ملا۔
علم و تحقیق کی اس تاریخی فضا میں کچھ وقت گزارنے کے بعد علی گڑھ سے دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔
24 اگست کی رات — دعوت نگر میں دو پرانے ہم سبق
دہلی واپسی کے بعد رات کے عشائیے کے لیے ہم نے ابوالفضل انکلیو کے ایک معروف ریستوران کا رخ کیا۔ دن بھر کی مصروفیات کے باوجود رات ابھی باقی تھی۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد چہل قدمی کرتے ہوئے ہم مرکز جماعت اسلامی ہند کے کیمپس پہنچ گئے، جو ابوالفضل انکلیو، ڈی بلاک میں ’’دعوت نگر‘‘ کے نام سے معروف ہے۔
رات کافی ہوچکی تھی اور بیشتر ذمہ داران اپنی رہائش گاہوں میں جا چکے تھے، تاہم محی الدین غازی، سکریٹری تصنیفی اکیڈمی سے ملاقات ممکن ہوگئی۔
اس ملاقات کی ایک خاص نسبت بھی تھی: امام حافظ ظفیر علی اور محی الدین غازی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ہم سبق رہ چکے ہیں۔ چنانچہ ملاقات محض رسمی تعارف تک محدود نہ رہی بلکہ پرانی طالب علمی کی یادیں، علمی گفتگو اور باہمی احوال اس نشست کا حصہ بن گئے۔
محی الدین غازی کی رہائش گاہ کی چھت پر کھجور اور چائے سے ضیافت ہوئی۔ رات کی خاموشی، پرانے ہم سبقوں کی ملاقات اور علمی و دوستانہ گفتگو نے 24 اگست کے طویل اور مصروف دن کو ایک نہایت خوش گوار اختتام عطا کیا۔.
25 اگست — پرانی دہلی کی گلیوں میں
25 اگست کا پروگرام پرانی دہلی کی تاریخی اور تہذیبی فضا سے لطف اندوز ہونے کے لیے رکھا گیا۔
دوپہر کے بعد جامع مسجد دہلی کا رخ کیا گیا۔ وہاں کچھ وقت گزارنے کے بعد لال قلعہ دیکھتے ہوئے چاندنی چوک پہنچے۔ پرانی دہلی کی گلیوں، بازاروں اور تاریخی عمارتوں کے درمیان گزارا ہوا وقت ہندوستان کی تہذیبی رنگا رنگی سے ایک اور ملاقات تھی۔
اگلے روز آگرہ کا نسبتاً طویل سفر درپیش تھا، اس لیے زیادہ تاخیر کیے بغیر نہرو گیسٹ ہاؤس واپسی ہوگئی۔
*+
26 اگست — بارش میں تاج محل کا دیدار
26 اگست کو منزل آگرہ تھی۔
امام صاحب، ان کے اہلِ خانہ اور دیگر رفقا نے 16 سیٹر اربانیا گاڑی سے آگرہ کا سفر کیا۔ موسم بارش کا تھا، مگر بارش بھی تاج محل دیکھنے کے شوق میں حائل نہ ہوسکی۔
بارش کی بوندوں کے درمیان تاج محل کا دیدار اس سفر کے یادگار مناظر میں شامل ہوگیا۔ اس عظیم تاریخی عمارت کے ساتھ اہلِ خانہ نے یادگار لمحات گزارے اور تصاویر بنائیں۔
شام کو آگرہ سے واپسی ہوئی اور رات تک نہرو گیسٹ ہاؤس پہنچ گئے۔
27 اگست — دہلی میں آخری دن
27 اگست دورۂ بھارت کا آخری دن تھا۔ سفر کی واپسی میں چند ہی گھنٹے باقی تھے، لیکن اس دن کو بھی ملاقاتوں، علمی گفتگو اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے مخصوص رکھا گیا۔
اس دوران معروف صحافی اشرف علی بستوی، عمران انصر، مولانا سعد رشید ندوی، ڈاکٹر عمیر منظر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے پروفیسر مفتی مشتاق تجاروی سمیت متعدد شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں۔
صبح سے دوپہر تک ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا اور مختلف علمی، سماجی اور ملی موضوعات زیرِ گفتگو آئے۔
اشرف علی بستوی سے ملاقات — میڈیا، جدوجہد اور مستقبل
صحافی اشرف علی بستوی سے ملاقات نہرو گیسٹ ہاؤس میں ہوئی۔ زبیر خان سعیدی العمری کے توسط سے ہونے والی یہ ان کی امام حافظ ظفیر علی سے پہلی ملاقات تھی، لیکن چند ہی لمحوں میں رسمی تعارف ایک پُرخلوص فکری گفتگو میں تبدیل ہوگیا۔
گفتگو میں ہندوستان میں مسلمانوں کے موجودہ مسائل، بالخصوص میڈیا کے کردار، اس کی ضرورت اور اہمیت پر تبادلۂ خیال ہوا۔ اشرف علی بستوی نے ایشیا ٹائمز کے قیام کے پس منظر، اس سفر میں پیش آنے والی مشکلات اور مستقبل کے خواب اور منصوبے امام صاحب کے سامنے رکھے۔
امام حافظ ظفیر علی نے پوری توجہ سے ان کی بات سنی، سوالات کیے، مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی اور اپنے تجربات کی روشنی میں مشورے اور حوصلہ افزا کلمات پیش کیے۔
یہ ملاقات اشرف علی بستوی کے لیے اس قدر اثر انگیز ثابت ہوئی کہ بعد میں انہوں نے امام صاحب کو ایک تفصیلی تاثراتی پیغام ارسال کیا۔ انہوں نے لکھا:
’’آج جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نہرو گیسٹ ہاؤس میں آپ سے ہونے والی ملاقات کو میں محض ایک رسمی ملاقات نہیں سمجھتا۔ برادر مکرم زبیر خان سعیدی العمری کے توسط سے آپ سے ملنے کا موقع ملا، لیکن چند ہی لمحوں کی گفتگو میں جو اپنائیت، محبت اور خلوص محسوس ہوا، اس نے اس ملاقات کو میرے لیے خاص بنا دیا۔‘‘
اپنی صحافتی جدوجہد کے تناظر میں انہوں نے مزید لکھا:
’’آپ کے حوصلہ افزا کلمات اور مخلصانہ مشورے میرے لیے محض چند اچھے جملے نہیں تھے، بلکہ ایسے الفاظ تھے جو ایک طویل اور کبھی کبھی تھکا دینے والے سفر میں آدمی کو پھر سے کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتے ہیں۔‘‘
انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ یہ ابتدائی ملاقات محض ایک ملاقات تک محدود نہ رہے، بلکہ آگے چل کر اخلاص، فکری رفاقت اور ملت و سماج کی بہتری کے لیے کچھ کرنے کے جذبے پر مبنی ایک دیرپا تعلق میں تبدیل ہو۔
یوں دورے کے آخری روز ہونے والی یہ ملاقات اپنے پیچھے ایک خوب صورت تحریری یاد بھی چھوڑ گئی۔
روہنگیا مہاجرین سے ملاقات
27 اگست کو دہلی کے روہنگیا کیمپ کا دورہ بھی پروگرام میں شامل تھا، لیکن موسلا دھار بارش کے باعث وہاں جانا ممکن نہ ہوسکا۔
تاہم روہنگیا مہاجرین کے نمائندوں کا ایک وفد امام صاحب سے ملاقات کے لیے نہرو گیسٹ ہاؤس پہنچا۔ امام صاحب نے ان کے ساتھ تفصیلی نشست کی، ان کے حالات اور مسائل سنے اور ان کی فوری ضروریات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
حالیہ شدید بارشوں سے کیمپ کی متعدد جھونپڑیوں اور عارضی رہائش گاہوں کو نقصان پہنچا تھا۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے ترپال اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کا انتظام کیا گیا۔ اس موقع پر بعض ضرورت مند افراد کو نقد امداد بھی پیش کی گئی۔
سفر کے آخری دن ہونے والی یہ ملاقات گویا پورے دورے کے بنیادی جذبے کا خلاصہ تھی: اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور رفقا سے ملاقات کے ساتھ ان لوگوں تک پہنچنا بھی ضروری ہے جنہیں زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے لیے دوسروں کے تعاون کی ضرورت ہے-
مجلہ ’’امکانات‘‘ کی رسمِ اجرا
اسی روز نہرو گیسٹ ہاؤس کے کانفرنس روم میں سہ ماہی مجلہ ’’امکانات‘‘ کی رسمِ اجرا منعقد ہوئی، جس میں امام حافظ ظفیر علی نے شرکت کی۔
یوں دورۂ بھارت کے آخری چند گھنٹے بھی علمی، سماجی اور فلاحی سرگرمیوں سے بھرپور رہے۔
واپسی کی گھڑی
امام صاحب کی نیویارک واپسی کی پرواز رات تقریباً نو بجے تھی، اس لیے شام چار بجے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ٹرمنل 3 کے لیے روانگی طے تھی۔
ظہرانے کے بعد سامان کی پیکنگ اور واپسی کی تیاری شروع ہوگئی۔
دہلی میں قیام کے آخری دو دنوں میں امام صاحب کے دو بھانجے مبشر اور عبداللہ اور ایک بھتیجا مفسر بھی ان کے ساتھ رہے۔ بالآخر یہی تینوں امام صاحب اور ان کے اہلِ خانہ کو ایئرپورٹ تک رخصت کرنے گئے۔
مبشر الفلاح فاؤنڈیشن سے بھی وابستہ ہیں اور فاؤنڈیشن کی مالیاتی رپورٹس وغیرہ کی تیاری میں ان کا گراں قدر تعاون حاصل رہتا ہے۔
اور پھر وہ لمحہ بھی آگیا جب 21 دنوں پر محیط یہ سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔ امام حافظ ظفیر علی اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ نیویارک کے لیے روانہ ہوگئے اور پیچھے ملاقاتوں، دعاؤں اور یادوں کا ایک طویل سلسلہ چھوڑ گئے۔
اکیس دن — بے شمار یادیں
6 اگست سے 27 اگست 2026 تک کا یہ سفر کیلنڈر پر محض اکیس دنوں کا تھا، لیکن اپنے دامن میں برسوں کی یادیں سمیٹ گیا۔
ایک طرف وطن، خاندان، اعزہ و اقربا اور پرانے رفقا سے ملنے کی خوشی تھی، تو دوسری جانب مدارس کے معصوم طلبہ، غریب خاندان، بیوہ خواتین، سفید پوش ضرورت مند اور روہنگیا مہاجرین تھے۔
کہیں مدرسے کے بچے دعائیں دے رہے تھے، کہیں اسکول کے طلبہ پھولوں سے استقبال کر رہے تھے، کہیں پرانے ہم جماعت برسوں بعد مل کر طالب علمی کے دن یاد کر رہے تھے، کہیں متھلا کی روایتی پاگ اور شال محبت کا اظہار بن رہی تھی اور کہیں اہلِ خانہ رخصت کرتے ہوئے اپنے آنسو نہیں روک پا رہے تھے۔
دھرم پور اور سمستی پور کی اپنائیت، بہار کے مدارس اور فلاحی منصوبے، صحابہ اکیڈمی کی یومِ آزادی تقریب، متھلا کی تہذیبی روایت، دہلی کی مصروف فضا، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی یادیں، علی گڑھ کے بچوں کی مسکراہٹیں، مولانا آزاد لائبریری کی علمی فضا، دعوت نگر کی چھت پر دو پرانے ہم سبقوں کی چائے اور کھجور کی نشست، پرانی دہلی کی گلیاں، بارش میں تاج محل، اہلِ علم و صحافت سے فکری گفتگو اور آخر میں روہنگیا مہاجرین کے ساتھ درد بھری نشست—یہ سب اس سفر کے ایسے نقوش ہیں جو دیر تک حافظے میں محفوظ رہیں گے۔
الفلاح فاؤنڈیشن نیویارک کے لیے بھی یہ دورہ کئی پہلوؤں سے اہم رہا۔ زمینی سطح پر جاری منصوبوں کو قریب سے دیکھنے، مستحقین سے براہِ راست ملنے، مقامی ذمہ داران سے تبادلۂ خیال کرنے اور مستقبل کی ضروریات کو سمجھنے کا موقع ملا۔
27 اگست کی شام جب امام صاحب اور ان کے اہلِ خانہ نیویارک واپسی کے لیے ایئرپورٹ روانہ ہوئے تو بظاہر ایک سفر مکمل ہوگیا تھا، لیکن اس سفر نے تعلقات کی تجدید، نئی رفاقتوں، دعاؤں اور انسانی خدمت کے کئی نئے امکانات اپنے پیچھے چھوڑ دیے۔
ایک احساس
بھارت کے اس سفر کے دوران مجھے ملک میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ بلاشبہ مختلف شعبوں میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، نئی عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں، شہر پھیل رہے ہیں اور معاشی خوش حالی کے آثار بھی نمایاں ہیں۔ لیکن اسی ترقی کے درمیان ایک دوسری حقیقت بھی بار بار دل کو متوجہ کرتی رہی کہ آج بھی ہمارے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اپنی روزمرہ کی بنیادی ضروریات، حتیٰ کہ دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
ایک طرف خوش حالی اور آسودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، بلند و بالا عمارتیں کھڑی ہو رہی ہیں، تو دوسری طرف آج بھی بڑی تعداد ایسے خاندانوں کی ہے جو جھگی جھونپڑیوں اور انتہائی محدود وسائل میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خصوصاً ضرورت مند خاندانوں، بیوہ خواتین اور محروم بچوں سے ملاقات کے دوران اس معاشرتی تفاوت کو بہت قریب سے محسوس کیا۔
ایسے مواقع پر میرا ذہن بار بار ان مخیر اور درد مند ڈونر حضرات کی طرف جاتا رہا جو ہماری چھوٹی سے چھوٹی رفاہی کوشش میں بھی تعاون کرتے ہیں۔ بظاہر کسی ضرورت مند کو دی جانے والی ایک معمولی سی امداد ہمیں چھوٹی محسوس ہو سکتی ہے، لیکن جب آپ خود اس شخص کی زندگی اور حالات کو قریب سے دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہی چھوٹا سا تعاون اس کے لیے کتنی بڑی راحت اور امید بن سکتا ہے۔
اس سفر کے بعد میرے دل میں اپنے تمام معاونین اور ڈونرز کے لیے تشکر کا جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ گہرا ہوا ہے۔ میں دل کی گہرائیوں سے ان تمام احباب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اپنے وسائل میں سے حصہ نکال کر ہمارے رفاہی اور انسانی خدمت کے کاموں کو جاری و ساری رکھنے میں تعاون کیا۔
آپ کا دیا ہوا ہر چھوٹا یا بڑا تعاون محض ایک مالی مدد نہیں، بلکہ کسی بھوکے کے لیے کھانا، کسی بیوہ کے لیے سہارا، کسی ضرورت مند خاندان کے لیے امید اور کسی محروم انسان کے لیے یہ احساس ہے کہ وہ تنہا نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے تمام ڈونرز، معاونین اور خیر خواہوں کی اس عظیم انسانی خدمت کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے مال، اہل و عیال اور زندگیوں میں برکت عطا کرے اور ان کے تعاون کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ اور ذخیرۂ آخرت بنائے۔ آمین۔
امام حافظ ظفیر علی
(دورۂ ہند 2026 کے آخری دن، دل کی آواز)
`رپورٹ و ترتیب:` انڈیا کوآرڈینیٹر
زبیر خان سعیدی العمری , الفلاح فاؤنڈیشن نیویارک

