یوگیندر یادو، اپور وانند اور پرشانت بھوشن بھی پہونچے
نئی دہلی، 27 اکتوبر 2026: ایشیا ٹائمز نیوز ڈیسک l
مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمس (MCIM) کی مانیٹرنگ کمیٹی کی میٹنگ آج شام انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر، نئی دہلی میں منعقد ہوئی ۔ اجلاس میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR)، حقِ رائے دہی، الیکشن کمیشن کے کام کاج سے متعلق اٹھائے جانے والے سوالات اور مذہبی مقامات پر حملوں کے واقعات سمیت متعدد اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سماجی کارکن اور سیاسی تجزیہ نگار ہوگندر یادو نے بھی شرکت کی اور مستقبل کی حکمت عملی پر گفتگو ہوئی۔
اجلاس کا مقصد گزشتہ چند ماہ کے دوران کمیٹی کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ آئندہ کے لیے ایک مشترکہ اور مؤثر لائحۂ عمل تیار کرنا تھا۔ دعوت نامے کے مطابق اجلاس میں حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے سرگرم اہم شخصیات اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت بھی ایجنڈے کا حصہ تھی۔
SIR اور حقِ رائے دہی پر تشویش
اجلاس میں خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے عمل اور اس کے نتیجے میں ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کے خدشات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ کمیٹی کی تشویش ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں اقلیتوں اور مسلمانوں سمیت کمزور طبقات کے ووٹ دینے کے حق کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
اس تناظر میں ووٹر لسٹ کی جانچ، متاثرہ شہریوں کی مدد، متعلقہ حکام سے رابطے اور حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
مذہبی مقامات کے تحفظ کا معاملہ
اجلاس کے ایجنڈے میں عبادت گاہوں پر حملوں اور مذہبی مقامات سے متعلق سامنے آنے والے تنازعات بھی شامل تھے۔ کمیٹی نے اس معاملے پر گزشتہ چند ماہ کے دوران کی گئی سرگرمیوں کا جائزہ لینے اور آئندہ کے اقدامات پر غور کرنے کے لیے اجلاس طلب کیا تھا۔
آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت
اجلاس میں کمیٹی کی آئندہ سرگرمیوں کو منظم کرنے، اہم مسائل پر متعلقہ فریقوں سے مشاورت اور مشترکہ لائحۂ عمل وضع کرنے پر گفتگو ہوئی۔ کمیٹی کے سامنے اہم چیلنج یہ ہے کہ ووٹر حقوق اور شہری آزادیوں سے متعلق خدشات کو مؤثر انداز میں متعلقہ اداروں تک پہنچایا جائے اور ضرورت پڑنے پر آئینی، قانونی اور جمہوری ذرائع سے کارروائی کی جائے۔
مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمس نے ستمبر 2026 میں اپنے قیام کے اعلان کے وقت آئینی اور جمہوری طریقوں سے شہری حقوق سے متعلق مسائل کی نگرانی اور ان پر کارروائی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا تھا۔ ۔
اجلاس کی اہمیت اس اعتبار سے بھی ہے کہ انتخابی حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی مقامات سے متعلق مسائل پر مختلف سماجی، قانونی اور سیاسی حلقوں کے درمیان رابطہ اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت مسلسل زیرِ بحث ہے۔
نوٹ: میٹنگ میں طے شدہ اقدامات اور ہوگندر یادو کے خطاب کی تفصیلات دستیاب ہونے پر رپورٹ کو مزید جامع بنایا جا سکتا ہے جو ابھی ہمیں موصول نہیں ہو سکتی ہے ۔


بہت خوب👍