تحریر : لبیب اشرف شیخ
مدارس کا قیام محض مسجدوں کے امام اور مکتب کے مولوی تیار کرنے کے لیے نہیں ہوا ہوا تھا، جو لوگ بھی ایسی بات کرتے ہیں تاریخی حقائق سے ناواقفیت اور ایک محدود و فرسودہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں ۔
تاریخ گواہ ہے کہ مدارس بنیادی طور پر جامع تعلیم گاہیں تھیں، جہاں دینی علوم کے ساتھ منطق، فلسفہ، ریاضی، طب اور دیگر علوم بھی پڑھائے جاتے تھے۔ یہ ادارے عموماً حکمرانوں، امراء، اوقاف اور اہلِ ثروت کی سرپرستی میں چلتے تھے۔
1857ء کے بعد جب برطانوی اقتدار کے تحت مسلمانوں کا قدیم تعلیمی و سرپرستی کا نظام متاثر ہوا تو علماء نے دینی علوم اور علمی روایت کے تحفظ کے لیے عوامی چندے سے خودمختار مدارس قائم کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ دارالعلوم دیوبند کا قیام اسی تاریخی پس منظر کی نمایاں مثال ہے۔ البتہ اس سلسلے میں کسی مخصوص 1857ء کے فتوے کا دعویٰ مستند حوالہ پیش کیے بغیر کرنا درست نہیں۔
1857ء سے پہلے کے مدارس، 1857ء کے بعد کے مدارس اور آزادی کے بعد کے مدارس کے درمیان ایک واضح تاریخی فرق ہے، جسے سمجھے بغیر مدارس کی تاریخ پر گفتگو کرنا محض لاعلمی ہے۔
1857ء سے پہلے مدرسہ ایک جامع تعلیمی ادارہ تھا، جہاں مختلف علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس کی ایک عملی مثال میرے علم میں ایک ایسا خاندان ہے جس کے آباء و اجداد، دادا اور پردادا نے مدارس میں تعلیم حاصل کی، حالانکہ وہ اس ملک کی مذہبی برادری کے پنڈت تھے۔ وہ وہاں صرف تفسیر یا فقہ پڑھنے نہیں گئے تھے، بلکہ اس وقت مدرسہ ایک عمومی تعلیم گاہ کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں مختلف علوم حاصل کیے جاتے تھے۔
1857ء کے بعد حالات بدلے، پرانا تعلیمی و سرپرستی کا نظام متاثر ہوا اور عوامی چندے سے خودمختار دینی مدارس کا ایک نیا ماڈل وجود میں آیا۔ آزادی کے بعد بھی یہ ماڈل جاری رہا، لیکن افسوس کہ وقت کے ساتھ بعض تنگ نظر اور دقیانوسی ذہنیت کے حامل لوگوں نے مدرسے کے وسیع تعلیمی تصور کو محدود کرکے رکھ دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ کا مطلب تعلیم گاہ ہے، محض امام سازی کا کارخانہ نہیں! ہمارے اسلاف کا تعلیمی تصور اس قدر تنگ نہیں تھا جتنا آج بعض حضرات اپنی محدود سوچ کی بنیاد پر پیش کررہے ہیں۔
تاریخ کو اپنے تخیلاتی نظریات کے تابع کرنے کے بجائے تاریخی حقائق کی روشنی میں سمجھنے کی ہے ۔
نوٹ : یہ تبصرہ لبیب اشرف شیخ نے ایشیا ٹائمز یوٹیوب پر شائع مولانا منور سلطان ندوی کے انٹرویو ‘ کیا ہندوستانی مدارس اپنے قیام کے مقاصد پورے کر رہے ہیں ‘ پر کیا ہے ۔ مبصر بہار کے سیتا مڑھی میں قا ئم مدرسہ ادارہ دعوتہ الحق اور الامین پبلک اسکول کے منتظم ہیں

