لکھنؤ: (ایشیا ٹائمز کرسپانڈینٹ) دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے طویل عرصے تک مہتمم، معروف عالمِ دین، عربی زبان و ادب کے ممتاز ادیب و محقق اور معروف عربی مجلے ’’البعث الاسلامی‘‘ کے سابق مدیر مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کا آج لکھنؤ میں انتقال ہوگیا۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سے علمی و دینی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی دارالعلوم ندوۃ العلماء کی علمی و انتظامی تاریخ کی اہم شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ طویل عرصے تک ادارے کے مہتمم کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ دستیاب سوانحی حوالوں کے مطابق وہ 2000ء سے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم کی ذمہ داری پر فائز تھے۔
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی عربی زبان و ادب میں خصوصی مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے تدریس، تصنیف، تحقیق اور صحافت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ معروف عربی مجلے ’’البعث الاسلامی‘‘ سے ان کی طویل وابستگی رہی اور وہ اس کے چیف ایڈیٹر کی ذمہ داری بھی انجام دیتے رہے۔ ان کی علمی زندگی کا ایک اہم حصہ طلبہ کی تعلیم و تربیت اور عربی زبان و ادب کے فروغ سے وابستہ رہا۔
مولانا کی ولادت 14 مئی 1934ء کو اعظم گڑھ میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی و دینی تعلیم جامعہ مفتاح العلوم، مئو میں حاصل کی، اس کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے عربی ادب میں تخصص کیا۔ عربی زبان و ادب میں مزید علمی استفادے کے لیے بغداد میں بھی قیام کیا اور وہاں معروف عالم و ادیب ڈاکٹر تقی الدین ہلالی مراکشی سے استفادہ کیا۔
دارالعلوم ندوۃ العلماء میں تدریس کے دوران انہوں نے عربی زبان و ادب کی تعلیم کے ساتھ علمی و فکری تربیت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ 1993ء سے 1999ء تک وہ کلیۃ اللغۃ العربیۃ و آدابہا کے عمید رہے، جس کے بعد انہیں دارالعلوم ندوۃ العلماء کی اہتمام کی ذمہ داری سونپی گئی۔
ان کی شخصیت علمی وقار، سادگی، تواضع، شفقت اور اخلاص کا مجموعہ تھی۔ ملک و بیرون ملک سے بڑی تعداد میں علماء، طلبہ اور علمی شخصیات نے ان سے استفادہ کیا۔ ان کی تحریری، تدریسی اور صحافتی خدمات نے عربی زبان و ادب اور اسلامی فکر کے میدان میں ایک مستقل علمی سرمایہ چھوڑا ہے۔
مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کے انتقال کو علمی و دینی حلقے ایک بڑا نقصان قرار دے رہے ہیں۔ ان کی وفات سے دارالعلوم ندوۃ العلماء نے ایک ایسے بزرگ عالم، استاد اور منتظم کو کھو دیا ہے جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ادارے کی علمی و تربیتی خدمت میں گزارا۔
ان کے انتقال پر علماء، اساتذہ، طلبہ اور مختلف دینی و علمی حلقوں کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ اہلِ علم نے مرحوم کے لیے مغفرت، بلندیٔ درجات اور پسماندگان و متعلقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔
إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔
مولانا کے بارے میں مزید تٖصیلات کے لیے مندرجہ ذیل لنک کلک کریں

