ایشیا ٹائمز نیوز ڈیسک
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے پر جاری احتجاج محض ایک کیمپس تحریک نہیں، بلکہ یہ طلبہ کی جمہوری نمائندگی، یونیورسٹی انتظامیہ کی جواب دہی، احتجاج کے حق اور میڈیا کے کردار سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھاتا ہے۔
اس خصوصی رپورٹ میں احتجاج کے اہم واقعات کو زمانی ترتیب سے پیش کیا گیا ہے اور یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ ان واقعات کو انگریزی کے بڑے اخبارات اور ڈیجیٹل نیوز اداروں نے کس انداز میں رپورٹ کیا۔
1۔ احتجاج کی ٹائم لائن: کب کیا ہوا؟
2005–2006: طلبہ یونین کا خاتمہ
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آخری طلبہ یونین انتخابات 2005 میں ہوئے تھے۔ 31 مارچ 2006 کو منتخب یونین تحلیل کر دی گئی۔ اس کے بعد یونیورسٹی میں مختلف شعبہ جاتی طلبہ انجمنیں تو موجود رہیں، لیکن یونیورسٹی سطح پر منتخب طلبہ یونین بحال نہیں ہو سکی۔
حوالہ: The Indian Express
2012–2017: نمائندگی کا مطالبہ برقرار
طلبہ یونین کی بحالی کا معاملہ وقتاً فوقتاً زیر بحث آتا رہا۔ 2017 میں طلبہ کی نمائندگی کے لیے طلبہ کونسل کی تجویز بھی سامنے آئی، لیکن یہ براہ راست انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والی جامعہ سطح کی یونین کا متبادل نہیں بن سکی۔
اکتوبر 2026: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا معاملہ
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین انتخابات کی بحالی سے متعلق پیش رفت نے جامعہ کے طلبہ کے مطالبے کو مزید تقویت دی۔ احتجاج کرنے والے طلبہ نے سوال اٹھایا کہ جب دوسری جامعات میں طلبہ یونین انتخابات ممکن ہیں تو جامعہ میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔
12 اکتوبر: غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال
رپورٹس کے مطابق پانچ طلبہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین (JMISU) کی بحالی کے مطالبے پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی تعلیمی، انتظامی اور بنیادی سہولیات سے متعلق شکایات اٹھانے کے لیے ایک منتخب نمائندہ پلیٹ فارم درکار ہے۔
حوالہ: The Indian Express
17 تا 22 اکتوبر: مذاکرات اور کمیٹی کا معاملہ
میڈیا رپورٹس میں طلبہ یونین کی عدم موجودگی اور طلبہ کے مطالبات کو نمایاں کیا گیا۔ انتظامیہ نے یونین کے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی۔ تاہم احتجاج کرنے والے طلبہ کا اعتراض تھا کہ محض کمیٹی تشکیل دینا کافی نہیں، انتخابات کے لیے واضح اور قابل عمل تاریخ بھی طے ہونی چاہیے۔
24 اکتوبر: کلاسیں آن لائن کرنے کا فیصلہ
طلبہ اور یونیورسٹی عملے کے درمیان کشیدگی کے بعد انتظامیہ نے کلاسیں اگلے حکم تک آن لائن منتقل کرنے کا اعلان کیا۔ رپورٹوں میں احتجاجی کیمپ، جگہ کے استعمال اور طلبہ و انتظامیہ کے درمیان اختلافات کا ذکر کیا گیا۔
انتظامیہ نے طلبہ کی حفاظت کو فیصلے کی وجہ بتایا، جبکہ احتجاج کرنے والے طلبہ نے اپنے احتجاج پر پابندیوں سے متعلق خدشات ظاہر کیے۔
حوالہ: The Indian Express، Mint
25 اکتوبر: پولیس کی تعیناتی اور طلبہ کی حراست
میڈیا رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی کے باہر پولیس کی تعیناتی اور بعض طلبہ کو حراست میں لیے جانے کے واقعات سامنے آئے۔ انتظامیہ اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے مؤقف میں اختلاف برقرار رہا۔ طلبہ انتخابات کے لیے واضح مدت مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔
26 اکتوبر: انتخابات کے اعلان کے باوجود اختلاف برقرار
رپورٹوں کے مطابق انتظامیہ نے اعلان کیا کہ طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے 15 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے۔ معطلی کے احکامات اور شوکاز نوٹس واپس لینے اور سکیورٹی اہلکاروں کے رویے کی تحقیقات کا معاملہ بھی سامنے آیا۔
تاہم طلبہ نے اعتراض کیا کہ آئین کی منظوری کی تاریخ ہی واضح نہیں، اس لیے انتخابات کی حتمی تاریخ بھی غیر یقینی ہے۔
حوالہ: The Times of India، 26 اکتوبر 2026
2۔ مین اسٹریم میڈیا نے احتجاج کو کیسے رپورٹ کیا؟
مختلف میڈیا اداروں کی رپورٹنگ میں احتجاج کے الگ الگ پہلو نمایاں ہوئے۔ دستیاب رپورٹوں کی بنیاد پر درج ذیل تقابل کیا جا سکتا ہے۔
دی انڈین ایکسپریس — پس منظر اور طلبہ کی آواز
اخبار کی 25 اکتوبر کی رپورٹ، Inside Jamia’s biggest protest since 2019، میں احتجاج کے پس منظر، طلبہ کے مطالبات، بھوک ہڑتال اور طلبہ گروپوں کے درمیان اختلافات پر روشنی ڈالی گئی۔
رپورٹنگ کا مرکزی زاویہ: طلبہ کی نمائندگی، تاریخی پس منظر اور طلبہ کے مؤقف کو جگہ دینا۔
ہندوستان ٹائمز — انتظامیہ اور کیمپس کی صورت حال
اخبار کی رپورٹنگ میں آن لائن کلاسوں، طلبہ اور عملے کے درمیان کشیدگی، احتجاجی کیمپ اور انتظامیہ کے اقدامات کو اہمیت دی گئی۔ طلبہ کے اعتراضات کا ذکر بھی رپورٹوں میں موجود تھا۔
رپورٹنگ کا مرکزی زاویہ: یونیورسٹی انتظامیہ کا ردعمل، سکیورٹی اور احتجاج کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال۔
دی ٹائمز آف انڈیا — انتخابات کا اعلان اور اس کی شرائط
26 اکتوبر کی رپورٹ میں انتظامیہ کے اس اعلان کو نمایاں کیا گیا کہ آئین کی منظوری کے 15 دن کے اندر انتخابات ہوں گے۔ رپورٹ میں طلبہ کے اعتراضات اور اس اعلان سے پیدا ہونے والے اختلافات کا بھی ذکر تھا۔
رپورٹنگ کا مرکزی زاویہ: انتظامیہ کا فیصلہ، انتخابی عمل اور اس کی غیر یقینی صورت حال۔
منٹ — بھوک ہڑتال اور احتجاج کے اثرات
24 اکتوبر کی رپورٹ میں بھوک ہڑتال، طلبہ کی جانب سے تادیبی کارروائی سے متعلق الزامات اور کلاسیں آن لائن کرنے کے فیصلے پر توجہ دی گئی۔
رپورٹنگ کا مرکزی زاویہ: احتجاج کے انسانی اثرات اور طلبہ و انتظامیہ کے مختلف مؤقف۔
آؤٹ لک انڈیا — اعلان کے بعد بھی احتجاج جاری
26 اکتوبر کی رپورٹ میں انتخابات کے لیے واضح مدت مقرر کرنے کے مطالبے، طلبہ کے اعتراضات اور احتجاج کے جاری رہنے پر توجہ دی گئی۔
رپورٹنگ کا مرکزی زاویہ: انتظامیہ کے اعلان اور طلبہ کے مطالبات کے درمیان موجود فرق۔

