تحریک کے دوران دونوں طلبہ کو تہاڑ جیل بھی جانا پڑا تھا ، جی بی ایس جے این یو کے زیر اہتمام خصوصی تقریب منعقد
نئی دہلی: (ایشیا ٹائمز نیوز ڈیسک ) جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تقریباً دو دہائیوں بعد طلبہ یونین کی بحالی کے لیے طویل جدوجہد کرنے والے طلبہ کی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے اسٹوڈنٹ یونین ہال میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جی بی ایس، جے این یو کے زیر اہتمام منعقدہ اس پروگرام میں تحریک سے وابستہ طلبہ کو اعزاز سے نوازا گیا اور ان کی جدوجہد، حوصلے اور استقامت کو سلام پیش کیا گیا۔
یہ جی بی ایس کیا ہے؟
جی بی ایس کی اصطلاح یوں تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گونڈہ، بستی، سدھارتھ نگر کے طلبہ کی پہچان کے لیے رائج ہوئی تھی لیکن جب یہ اصطلاح دہلی پہونچی تو اس کا دائرہ مزید وسیع تر ہوتا چلا گیا اب دہلی میں رہنے والے مشرقی اتر پردیش کے لوگ جی بی ایس، اتر پردیش کے اس خطے کو پکارتے ہیں جو بارہ بنکی سے شروع ہوکر گورکھپور تک جاتا ہے.
تقریب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کرنے والے ذیشان خان (سدھارتھ نگر) اور فیضان احمد (بلرام پور) بھی موجود تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ تحریک کے دوران دونوں طلبہ کو گرفتار کرکے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے طلبہ کے حقوق اور جامعہ میں طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
تقریب کے دوران دونوں نوجوانوں کی قربانیوں، حوصلے اور مسلسل جدوجہد کو خصوصی طور پر یاد کیا گیا۔ شرکا نے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے اجتماعی حقوق اور جمہوری نمائندگی کے لیے جدوجہد کرنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔
مدرسہ پس منظر کے نوجوانوں کا بھی نمایاں کردار
اس تحریک کا ایک اہم پہلو یہ رہا کہ مدرسہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے جامعہ کے بعض جونیئر اور سینئر طلبہ نے طلبہ یونین کی افادیت کو سمجھتے ہوئے عملی طور پر تحریک میں حصہ لیا۔ ان نوجوانوں نے ذیشان خان اور فیضان احمد کو طلبہ کے درمیان متعارف کرانے، ان کی حمایت میں ماحول بنانے، رابطہ کاری اور تنظیم سازی میں اہم کردار ادا کیا۔
تقریب میں ان طلبہ کی خدمات کا بھی اعتراف کیا گیا اور چادر پوشی کے ذریعے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
پروگرام کی کامیابی میں نوجوان منتظمین کا اہم کردار
تقریب کے کامیاب انعقاد میں نوجوان طلبہ کی ایک ٹیم نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ محمد آصف، اسامہ خان، محمد فرحان، محمد طلحہ ، عبدالرحمن، محمد عارف، جاوید احمد اور عتیق الرحمن نے پروگرام کی تیاری، انتظامات اور انعقاد کے مختلف مراحل میں بھرپور تعاون کیا۔
ان نوجوانوں کی محنت، باہمی تال میل اور تنظیمی صلاحیتوں نے تقریب کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شرکا کے مطابق ایسے نوجوانوں کی خدمات بھی قابلِ ستائش ہیں جو کسی اجتماعی مقصد کے لیے پس منظر میں رہ کر ذمہ داریاں نبھاتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کی جدوجہد کو ایک بڑے پلیٹ فارم پر متعارف کرانے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔
خالد سہیل مہمان خصوصی، نوراللہ خان اور اشرف علی بستوی نے بھی خطاب کیا
پروگرام میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق طالب علم، معروف انٹرپریٹر خالد سہیل بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ اس موقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق طالب علم نوراللہ خان، اور اشرف علی بستوی کو بھی مقرر کی حیثیت سے اظہار خیال کا موقع دیا گیا۔ انہوں نے اپنے مختصر خطاب میں جامعہ کے آخری طلبہ یونین انتخابات کی روداد بیان کی اور طلبہ یونین کی بحالی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
نوراللہ خان نے جامعہ کے سابق طلبہ کی جانب سے نوجوانوں کی تعلیمی رہنمائی اور ان کی ہمہ جہت ترقی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا کہ مادر علمی کے طلبہ آج جے این یو جیسے بڑے تعلیمی ادارے میں بھی اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
طلبہ یونین: قیادت اور اجتماعی شعور کی تربیت گاہ
جامعہ میں طلبہ یونین کی بحالی کی جدوجہد نے ایک بار پھر اس بحث کو اہمیت دی ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی نمائندگی اور ان کی جمہوری آواز کتنی اہم ہے۔ طلبہ یونین محض انتخابات کا نام نہیں بلکہ نوجوانوں میں قیادت، مکالمے، اختلافِ رائے اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور پیدا کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم بھی ہے۔
نوجوان ہماری طاقت ہیں، ان کے خواب ادھورے نہ رہ جائیں!
آج کی تقریب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ان نوجوانوں سے ملاقات کرکے بے حد خوشی ہوئی جنہوں نے طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک کے دوران اپنی صلاحیتوں، عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ یہ نوجوان صرف اپنے مستقبل کی امید نہیں بلکہ ہم سب کی طاقت ہیں۔ ان کے خواب، ان کی امنگیں اور ان کے عزائم ادھورے نہ رہ جائیں، اس کی فکر ہم سب کو کرنی چاہیے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک سے ابھرنے والے یہ نوجوان بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر نوجوانوں کو کوئی مقصد مل جائے اور وہ اجتماعی طور پر اس کے لیے کوشش کریں تو وہ مشکل حالات میں بھی اپنی شناخت بنا سکتے ہیں۔
اب وقت ہے کہ ہم ان نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کی صلاحیتوں کو پہچانیں اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں۔ صرف ان کی جدوجہد کو سراہنا کافی نہیں، بلکہ ان کی عملی رہنمائی، حوصلہ افزائی اور سماجی سطح پر پذیرائی بھی ضروری ہے۔
خصوصاً جامعہ کے اساتذہ، سابق طلبہ، دانش وروں اور سماجی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ ان نوجوانوں کو Recognize کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کے لیے آگے بڑھنے کے راستے ہموار کریں۔
یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ جب اپنے ادارے، اپنے لوگ اور اپنا تعلیمی و سماجی حلقہ کسی نوجوان کی صلاحیت کو تسلیم کرتا ہے تو اس کی آواز اور شناخت دوسرے حلقوں تک بھی پہنچتی ہے۔ اپنوں کے درمیان قبولیت اور اعتماد ہی وسیع تر سماجی شناخت کی بنیاد بنتے ہیں۔
نوجوان ہماری طاقت ہیں۔ انہیں صرف مستقبل کا معمار کہہ کر نظرانداز نہ کریں، بلکہ آج ہی ان کے خوابوں کی تعبیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔

