ایشیا ٹائمز | خصوصی رپورٹ | نئی دہلی
سنسنی خیز خبروں کے بجائے امید، علاج اور مشکلات سے نکلنے کی کہانیوں کو جگہ دی جائے؛ بچوں کی شناخت، رازداری اور عزتِ نفس کا تحفظ صحافت کی بنیادی ذمہ داری قرار
نئی دہلی، 2 نومبر 2026: بچوں اور نوعمروں میں ذہنی صحت سے متعلق بڑھتے ہوئے مسائل اور خودکشی کے واقعات کے تناظر میں میڈیا کے کردار پر یونیسف انڈیا نے نئی دہلی میں ایک اہم گول میز مذاکرے کا انعقاد کیا۔ اس میں سینئر صحافیوں، میڈیا اداروں کے مدیران، ذہنی صحت کے ماہرین، سماجی کارکنوں اور ذہنی صحت کے مسائل کا ذاتی تجربہ رکھنے والے نوجوانوں نے شرکت کی۔
مذاکرے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ذہنی صحت اور خودکشی سے متعلق خبروں کی رپورٹنگ محض واقعات کی اطلاع دینے تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ اس کے ذریعے معاشرے میں بیداری، حساسیت، علاج اور مدد حاصل کرنے کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا کیا جانا چاہیے۔
‘الفاظ کی اہمیت: بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت سے متعلق سماجی بدنامی میں کمی اور خودکشی کی روک تھام کے لیے ذمہ دارانہ میڈیا رپورٹنگ’ کے عنوان سے منعقدہ اس گول میز مذاکرے میں میڈیا سے اپیل کی گئی کہ وہ سنسنی خیز سرخیوں اور منفی تصورات سے آگے بڑھ کر ایسی صحافت کو فروغ دے جو علاج، صحت یابی، مشکلات سے مقابلے اور امید کی کہانیوں کو نمایاں کرے۔
دنیا کا ہر ساتواں نوعمر ذہنی صحت کے مسئلے سے دوچار
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں 10 سے 19 سال کی عمر کا ہر ساتواں نوجوان کسی نہ کسی ذہنی صحت کے مسئلے کا سامنا کر رہا ہے۔ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد کے مسائل کی بروقت شناخت نہیں ہو پاتی اور نہ ہی انہیں ضروری علاج میسر آتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ذہنی صحت سے متعلق نصف مسائل کی ابتدا 14 سال کی عمر تک ہو جاتی ہے۔ ایسے میں بروقت شناخت، مشاورت اور علاج بچوں کے مستقبل پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ذہنی صحت بچوں کے بنیادی حقوق کا اہم حصہ ہے: جیسپر مولر
یونیسف کے ڈپٹی ریپریزنٹیٹیو (پروگرام) جیسپر مولر نے افتتاحی خطاب میں ذہنی صحت کو بچوں کے حقوق اور ان کی مجموعی نشوونما کا اہم حصہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا:
’’ذہنی صحت اور نفسیاتی خوش حالی بچوں کے حقوق کا ایک اہم حصہ ہے۔ ذہنی صحت اس بات پر گہرا اثر ڈالتی ہے کہ بچے کیسا محسوس کرتے ہیں، کیسے سیکھتے ہیں، بامعنی تعلقات کیسے قائم کرتے ہیں اور اپنی زندگی کو متاثر کرنے والے فیصلوں میں کس طرح حصہ لیتے ہیں۔ لیکن ذہنی صحت سے وابستہ سماجی بدنامی کے باعث بہت سے بچے اور نوعمر مدد حاصل کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔‘‘
میڈیا کے مثبت کردار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا:
’’سماجی بدنامی کو کم کرنے کے لیے ایسا عوامی مکالمہ ضروری ہے جو ذہنی صحت کے مسائل کے بارے میں سمجھ بوجھ اور اعتماد پیدا کرے۔ میڈیا ایک معاون ماحول بنانے، امتیازی رویوں کو کم کرنے اور علاج تک رسائی کی حوصلہ افزائی کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یونیسف ہر بچے کی ذہنی صحت اور نفسیاتی و سماجی بہبود کے حق کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
ہندوستان میں ذہنی امراض کے علاج تک رسائی بڑا چیلنج
ہندوستان میں ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کے لیے سماجی بدنامی اور علاج کی محدود سہولتیں اب بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔
نیشنل مینٹل ہیلتھ سروے 2015-16 کے مطابق ذہنی امراض کے علاج میں 84.5 فیصد کا خلا پایا گیا تھا۔ یہ اعداد و شمار ذہنی صحت کی خدمات تک رسائی اور عوامی بیداری بڑھانے کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔
این سی آر بی کے اعداد و شمار: خودکشی سے 1.70 لاکھ سے زائد اموات
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کی رپورٹ ’ایکسڈینٹل ڈیتھس اینڈ سوسائیڈز اِن انڈیا 2024‘ کے مطابق ہندوستان میں خودکشی کے نتیجے میں 1,70,746 اموات درج کی گئیں۔ ان میں 14,488 طلبہ اور 18 سال سے کم عمر کے 11,184 بچے شامل تھے۔
یہ اعداد و شمار بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم پولیس ریکارڈ پر مبنی یہ اعداد و شمار خودکشی کے پس منظر میں موجود ذہنی، سماجی اور معاشی حالات کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔
مذاکرے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی خودکشی کو کسی ایک واقعے، شخص یا صورت حال کا نتیجہ قرار دے کر پیش کرنا درست نہیں۔ صحافت میں وسیع تر تناظر، احتیاط اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ ضروری ہے۔
سنسنی خیزی نہیں، حساسیت اور ذمہ داری صحافت کا معیار ہو
مذاکرے میں صحافیوں اور ماہرین نے اس بات پر غور کیا کہ ذہنی صحت اور خودکشی سے متعلق خبروں کو کس طرح ذمہ دارانہ انداز میں پیش کیا جائے۔
اس سلسلے میں کئی اہم تجاویز سامنے آئیں:
- خودکشی سے متعلق خبروں میں سنسنی خیز سرخیوں اور غیر ضروری تفصیلات سے گریز کیا جائے۔
- بچوں اور نوعمروں کی شناخت، تصاویر اور نجی معلومات کو محفوظ رکھا جائے۔
- ذہنی صحت کے مسائل کے لیے توہین آمیز یا امتیازی زبان استعمال نہ کی جائے۔
- خودکشی کی کسی ایک وجہ یا فرد کو ذمہ دار قرار دینے سے گریز کیا جائے۔
- خبروں کے ساتھ ہیلپ لائن اور امدادی خدمات کی معلومات فراہم کی جائیں۔
- ذہنی صحت کے مسائل سے صحت یاب ہونے اور مشکلات سے نکلنے والوں کی مثبت کہانیوں کو جگہ دی جائے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ذمہ دارانہ صحافت صرف اس بات کا نام نہیں کہ خبر میں کیا نہیں لکھنا چاہیے، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ خبر میں کن باتوں کو شامل کیا جاتا ہے۔
ذہنی صحت کی صحافت کو خودکشی کے واقعات تک محدود نہ رکھا جائے
یونیسف انڈیا کے کرٹیکل اپریزل اسکلز (CAS) پروگرام کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ذہنی صحت سے متعلق صحافت کا دائرہ خودکشی کے واقعات سے کہیں زیادہ وسیع ہونا چاہیے۔
صحافیوں کو ان سماجی اور معاشی عوامل کی بھی تحقیقات کرنی چاہئیں جو بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ ان میں غربت، خاندانی حالات، معذوری، موسمیاتی آفات، اسکول کا ماحول، تعلیمی دباؤ اور ذہنی صحت کی خدمات تک محدود رسائی جیسے مسائل شامل ہیں۔
مذاکرے میں اس بات کو بھی نمایاں کیا گیا کہ علاج کے ذریعے صحت یابی، مشکلات سے مقابلے کی صلاحیت اور مدد حاصل کرنے کے راستوں سے متعلق کہانیاں میڈیا کے لیے اہم موضوعات ہیں۔
ایسی رپورٹنگ سے مدد مانگنے کو کمزوری یا شرمندگی کے بجائے ایک مثبت اور معمول کے عمل کے طور پر تسلیم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ذہنی صحت کے لیے حکومت کی مختلف اسکیمیں
ہندوستان میں بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے کئی سرکاری پروگرام اور ادارہ جاتی انتظامات موجود ہیں۔ ان میں قومی ذہنی صحت پروگرام، ڈسٹرکٹ مینٹل ہیلتھ پروگرام، قومی نوعمر صحت پروگرام (RKSK)، آیوشمان بھارت اسکول ہیلتھ اینڈ ویلنس پروگرام اور ایڈولیسنٹ فرینڈلی ہیلتھ سینٹرز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ذہنی صحت سے متعلق مشاورت اور مدد کے لیے ٹیلی مانس (Tele-MANAS) جیسی ڈیجیٹل سہولت بھی دستیاب ہے۔
یونیسف کے مطابق وہ مشن واتسلیہ، قومی نوعمر صحت پروگرام اور آیوشمان بھارت اسکول ہیلتھ اینڈ ویلنس پروگرام جیسی اہم سرکاری اسکیموں کے ذریعے نوعمروں کے لیے ذہنی صحت کی خدمات تک رسائی بڑھانے اور بیداری پیدا کرنے میں تعاون کر رہا ہے۔
12 سے 14 نومبر تک نئی دہلی میں عالمی کانفرنس
یونیسف کی یہ میڈیا گول میز میٹنگ 12 سے 14 نومبر 2026 تک نئی دہلی میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس ’ٹوگیدر اگینسٹ اسٹگما 2026‘ کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقد کی گئی۔
ورلڈ سائیکاٹرک ایسوسی ایشن (World Psychiatric Association) کی اس عالمی کانفرنس میں ذہنی صحت کے ماہرین، محققین، پالیسی سازوں، میڈیا اداروں اور سماجی تنظیموں کے نمائندے شرکت کریں گے۔
کانفرنس کا مقصد ذہنی صحت سے متعلق سماجی بدنامی کو چیلنج کرنا، مستند معلومات کو فروغ دینا اور بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کے لیے علاج اور معاون خدمات تک رسائی بہتر بنانے کے امکانات تلاش کرنا ہے۔
صحافت کے سامنے ایک اہم سماجی سوال
ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رسائی نے خبروں کے اثرات کو بھی کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ آج کسی حساس خبر کا اثر چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ ایسے میں صحافیوں، مدیران اور ڈیجیٹل مواد تیار کرنے والوں کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔
ذہنی صحت سے متعلق خبروں میں استعمال ہونے والے الفاظ، تصاویر اور سرخیاں متاثرہ بچوں، نوعمروں اور ان کے اہل خانہ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
یونیسف کی اس پہل نے میڈیا کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا کیا ہے کہ کیا ذہنی صحت سے متعلق صحافت صرف خودکشی اور المیہ کی خبروں تک محدود رہے گی یا علاج، سماجی حالات، امدادی خدمات اور زندگی میں دوبارہ آگے بڑھنے کے امکانات کو بھی مناسب جگہ دے گی؟
درحقیقت خودکشی کے واقعے کی خبر دینا صحافت کا ایک حصہ ہے، لیکن خودکشی کی روک تھام کے لیے بیداری پیدا کرنا، مدد کے راستے بتانا اور لوگوں میں امید پیدا کرنا بھی میڈیا کی سماجی ذمہ داری ہے۔
ماخذ: یونیسف انڈیا کی پریس ریلیز، 2 نومبر 2026۔

