دہلی: (پریس ریلیز) ممتاز عالم دین ، استاذ اور عربی زبان وادب کے ماہر مولاناڈاکٹر سعیدالرحمن الاعظمی کاانتقال پورے عالم اسلام کا ایک بڑا خسارہ ہے۔ مسلم مجلس مشاور ت کے صدر اور دار المصنفین شبلی اکیڈمی کے ڈائرکٹر ظفرالاسلام خان ، جو خود بھی مولانا کے شاگرد رہ چکے ہیں، کہا کہ یہ حادثہ صرف ندوۃ العلماء ہی کےلیے نہیں بلکہ پورےبرصغیر ہندوپاک اور عالم اسلام کے لئے ایک بڑاعلمی و دینی خسارہ ہے۔مولانا کاوطن مئوناتھ بھنجن تھا۔انھوںنے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں تعلیم مکمل کی اوراس سے تا حیات رشتہ قائم رکھا ۔
مولانا ندوۃ العلماء کےعربی رسالہ ’’البعث الاسلامی‘‘ کے مدیر ، دار العلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم ، لکھنؤ کی انٹگرل یونیورسٹی کےبانی وچانسلر،رابطہ ادب اسلامی کےاساسی رکن اور دارلمصنّفین کی مجلس انتظامیہ کے رکن تھے۔ وہ علامہ تقی الدین ہلالی مراکشی اورمولاناسید ابوالحسن علی ندوی کے خصوصی فیض یافتگان میں شامل تھے۔
انہوں نے ندوۃ العلماء سےفراغت کے بعد شام میں بھی اعلی تعلیم حاصل کی۔ مولانا مرحوم نےمدۃ العمرندوۃ العلماء میں درس وتدریس ،علم وتحقیق اوردعوت وتبلیغ سےشغل رکھا۔وہ ندوۃ العلماء کی مسجد کےامام وخطیب جمعہ بھی تھے۔ان کاشماران مخلص فضلائےندوہ میں ہوتاہے جنہوں نے خود کو ندوۃ العلماء کےلیےوقف کردیاتھا ۔مولاناسید ابوالحسن علی ندوی ؒاورمولاناسید محمد رابع ندویؒ کےبعد ان کو ہی ندوہ کاسب سےاہم نمائندہ اورترجمان سمجھا جاتاتھا۔ عصرحاضرکے فرزندان ندوہ میں شاید ہی کوئی ایسا ہوجس نےان سے کسب فیض نہ کیاہو۔
ا س میدان میں ان کو قابل رشک مقبولیت ومحبوبیت حاصل تھی۔ہندوستان کی عربی صحافت کے سب سے معتبر ناموں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔عربی وراردو میں درجنوں کتابیں ان کے نوک قلم سے نکلیں ۔ان کی شہرت کادائرہ بہت دورتک پھیلاہواتھا۔ انھوں نے خلیجی ممالک ، مصر ، سعودی عرب،متحدہ عرب امارات ، عمان،شام ،عراق،قطر اورکویت وغیرہ کےعلاوہ پاکستان ،بنگلہ دیش ،نیپال،سنگاپور ، ترکی ،بنگلہ دیش، فیجی،آسٹریلیا اوربرطانیہ کےدعوتی سفرکیے ۔ اللہ تعالیٰ مولاناکی بال بال مغفرت فرمائے۔ملت اور ندوۃ العلماء کونعم البدل اورپسماندگان کو صبر جمیل عطافرمائے۔

