مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے 22ویں کل ہند مسابقہ حفظ، تجوید و تفسیر قرآن کریم کا شاندار آغاز؛ ملک بھر سے 600 سے زائد حفاظ و قراء کی شرکت
نئی دہلی، یکم نومبر 2026 :(ایشیا ٹائمز ) مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام 22ویں کل ہند مسابقہ حفظ، تجوید و تفسیر قرآن کریم کا شاندار آغاز ہوگیا۔ افتتاحی اجلاس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 600 سے زائد حفاظ، قراء اور علماء کی شرکت نے اس علمی و قرآنی اجتماع کو روح پرور بنا دیا۔ کشمیر سے کنیا کماری تک کے شرکاء اس مسابقے کے چھ مختلف زمروں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ قرآن کریم ابدی ہدایت و سعادت کا پیغامبر اور امن و آشتی، اخوت و انسانیت کا علمبردار ہے۔ قرآن سیکھنا اور سکھانا دنیا کا سب سے محترم اور بابرکت عمل ہے اور اس سے وابستہ افراد نہایت معزز اور قابل رشک ہیں۔
قرآن کا پیغام ہر انسان تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے: مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی
مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس کتاب ہے جو اس نے اپنے آخری رسول حضرت محمد ﷺ پر حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے نازل فرمائی۔ قرآن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ اس کا پیغام روئے زمین کے ہر انسان تک پہنچایا جائے، تاکہ دنیا سے شر و فساد کا خاتمہ ہو اور انسانیت اخوت و بھائی چارے کے رشتے میں پروئی جاسکے۔
انہوں نے کہا:
"حاملین قرآن کریم دنیا کے سب سے امن پسند، انسانیت کے علمبردار اور اخوت و بھائی چارے کے سب سے بڑے مناد ہیں۔ ہمیں قرآن کے پیغام امن و آشتی، درس اخوت و بھائی چارگی اور انسانیت نوازی پر مبنی تعلیمات کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔”
امیر جمعیت نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن کریم جس طرح نازل ہوا ہے، اسے اسی طرح پڑھنا، سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مسابقے میں شریک حفاظ و قراء، ان کے والدین، اساتذہ اور ان مدارس و جامعات کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنے طلبہ کو اس علمی مقابلے میں شرکت کے لیے نامزد کرکے بھیجا۔
انہوں نے مدارس و جامعات کو اسلام کے قلعے اور دینی تعلیم کے روحانی مراکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اداروں میں انسانیت کی تعمیر، دین و شریعت کی تعلیم اور وطن سے محبت کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔
قرآن سے وابستگی کے فروغ کے لیے مسابقے کا انعقاد: مولانا محمد ہارون سنابلی
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد ہارون سنابلی نے شرکاء مسابقہ اور مہمانان گرامی کا والہانہ استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسابقے کے انعقاد کا بنیادی مقصد طلبہ اور نوجوانوں میں حفظ، تجوید اور تفسیر قرآن کا شوق و جذبہ پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال بھی بڑی تعداد میں حفاظ و قراء کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکزی جمعیت نے جن مقاصد کے پیش نظر اس مسابقے کا آغاز کیا تھا، وہ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
مولانا ہارون سنابلی نے مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی قیادت میں اس عظیم الشان پروگرام کے مسلسل انعقاد کو قابل مبارک باد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمعیت اپنے مختلف دینی و علمی کاموں کے ذریعے مسلسل سرگرم عمل ہے۔
22 سالہ علمی و قرآنی روایت کا تسلسل
اجلاس کے ناظم اور مسابقے کے کنوینر ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی ہمہ جہت خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے اس مسابقے کو جمعیت کی علمی و دینی سرگرمیوں کی ایک اہم اور سنہری کڑی قرار دیا۔ انہوں نے شرکاء مسابقہ، حکم حضرات اور اجلاس میں موجود مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔
نائب امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار مولانا خورشید عالم مدنی نے مسابقے کے کامیاب انعقاد پر مرکزی جمعیت کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ امیر جمعیت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی قیادت میں یہ مسابقہ ہر سال مزید حسن و خوبی کے ساتھ منعقد ہورہا ہے، جو ذمہ داران کی شبانہ روز محنت اور مخلصانہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
ملک بھر کے علماء و اساتذہ نے مسابقے کو سراہا
افتتاحی اجلاس میں ملک کے مختلف معروف دینی اداروں اور جامعات سے وابستہ علماء، قراء اور اساتذہ نے شرکت کی اور مسابقے کے انعقاد کو قابل تحسین قرار دیا۔
دارالعلوم دیوبند وقف کے شعبہ قراءت کے استاذ قاری علاء الدین قاسمی نے کہا کہ انہیں اس مسابقے میں چوتھی یا پانچویں مرتبہ شرکت کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند وقف کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی کی جانب سے شرکت کی اجازت اور پروگرام کے لیے نیک خواہشات کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی جمعیت کو کامیاب انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔
نائب امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی اور وکیل الجامعہ جامعہ خیر العلوم ڈومریا گنج مولانا محمد ابراہیم مدنی نے کہا کہ قرآن کریم سے وابستگی ایک نہایت معزز اور بابرکت عمل ہے، جسے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مسلسل فروغ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا:
"اس مسابقے کے نتیجے میں پورے ملک میں قرآن کریم کے حوالے سے مسابقاتی جذبہ پروان چڑھا ہے، جو اس کی ایک اہم کامیابی ہے۔”
ندوۃ المجاہدین کیرالا کے سکریٹری اور کیرالا وقف بورڈ کے رکن ڈاکٹر عبدالمجید الصلاحی نے کہا کہ قرآن مجید سے وابستگی انسان کے اندر اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور یہی جذبہ ہر مسلمان سے مطلوب ہے۔
مدھیہ پردیش کے مولانا عبدالقدوس عمری نے مسلسل 22 برس سے اس مسابقے کی روایت برقرار رکھنے پر مرکزی جمعیت کی قیادت کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ نامساعد حالات کے باوجود اس علمی و قرآنی سلسلے کو جاری رکھنا قابل تحسین ہے۔
جامعہ ریاض العلوم دہلی اور المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ کے استاذ مولانا عبدالاحد مدنی نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا بنیادی مقصد کتاب و سنت کی تعلیمات کا فروغ ہے اور اسی مقصد کے تحت اس کے پلیٹ فارم سے مسلسل علمی و دینی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔
قرآن سے تعلق دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ
جامعہ فیض عام مئو کے استاذ مولانا محمد عامر مدنی نے جامعہ کے ناظم محمد انس انصاری اور شیخ الجامعہ مولانا محمد مظہر مدنی کی جانب سے منتظمین کو مبارک باد پیش کی۔
جامعۃ الفلاح حیدرآباد کے استاذ قاری شعیب مدنی نے کہا کہ قرآن مجید سے وابستگی دنیا و آخرت میں سربلندی اور کامیابی کا ذریعہ ہے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اس مسابقے کے ذریعے امت کو قرآن کریم سے جوڑنے کی اہم خدمت انجام دے رہی ہے۔
ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث آسام مولانا حفظ الرحمن مدنی نے بتایا کہ اس مسابقے میں صوبہ آسام کی بھی نمائندگی ہورہی ہے۔ جامعہ دارالسلام عمرآباد کے استاذ حافظ عبدالقیوم مدنی نے کہا کہ قوموں کا عروج و زوال قرآن کریم سے وابستگی یا اس سے دوری پر منحصر ہے۔
اقرا انٹرنیشنل اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی نے کہا کہ اس طرح کے مسابقے طلبہ میں صحت مند مسابقت کا جذبہ پیدا کرنے کے ساتھ اسلاف کی علمی و قرآنی روایت کے تحفظ اور تسلسل کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔
معہد عبداللہ بن مسعود لتحفیظ القرآن الکریم کے استاذ قاری عبدالقیوم عثمانی، جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کے صدر شعبہ قراءت قاری امان اللہ سلفی اور مدرسہ دارالتعلیم مئو کے استاذ ڈاکٹر فواز عبدالعزیز سلفی نے بھی مسابقے کے مثبت اور دوررس اثرات کا ذکر کرتے ہوئے منتظمین کو مبارک باد پیش کی۔
ڈاکٹر فواز عبدالعزیز سلفی نے کہا کہ پورے ہندوستان کے طلبہ اس مسابقے کا شدت سے انتظار کرتے ہیں اور سال بھر اس میں شرکت کے لیے تیاری کرتے رہتے ہیں، جو اس کی مقبولیت اور افادیت کا واضح ثبوت ہے۔
جامعہ ریاض العلوم دہلی کے استاذ قاری ہاشم نے کہا کہ اس مسابقے کے نتیجے میں تجوید کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کا شعور عام ہوا ہے اور لوگوں کی توجہ اس جانب بڑھی ہے۔ جامعہ ابوہریرہ الاسلامیہ لال گوپال گنج کے استاذ قاری نوشاد احمد نے بھی مرکزی جمعیت کے اس سالانہ اقدام کو قابل قدر قرار دیا۔ اس موقع پر مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور کے استاذ شعبہ قراءت قاری صلاح الدین مظاہری نے بھی اپنے تاثرات پیش کیے۔
چھ زمروں میں مقابلہ، ممتاز قراء و علماء پر مشتمل حکم حضرات
مسابقے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کشمیر سے کنیا کماری تک کے 600 سے زائد حفاظ و قراء شریک ہیں، جو چھ مختلف زمروں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
منتظمین کے مطابق مسابقے میں حکم کی ذمہ داری ملک کے مختلف دینی مدارس و جامعات سے تعلق رکھنے والے اپنے فن میں مہارت رکھنے والے ممتاز اساتذہ انجام دے رہے ہیں۔ ان کے انتخاب میں مسلک و مشرب کی تخصیص کے بجائے علمی و فنی مہارت کو اہمیت دی گئی ہے۔
افتتاحی اجلاس کا آغاز حافظ دلشاد احمد کی پرسوز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ اجلاس میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران و اراکین، صوبائی جمعیات کے نمائندگان، علماء، اساتذہ، حکم حضرات، شرکاء مسابقہ اور ان کے سرپرستوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر مرکزی جمعیت کے نائب ناظم مولانا ریاض احمد سلفی، المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ کے استاذ مولانا عبدالغنی مدنی اور جامعہ فیض عام مئو کے ناظم محمد انس انصاری سمیت متعدد اہم شخصیات موجود تھیں۔
مغرب کے بعد تقسیم اسناد و انعامات کی تقریب
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز نے تمام متسابقین، ان کے سرپرستوں، معزز حکم حضرات اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مرکزی جمعیت اور اس کی قیادت شرکاء اور اہل علم کی خدمت و تعاون کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق مسابقے کے اختتام پر آج بعد نماز مغرب ملک بھر سے آئے ہوئے مدارس اسلامیہ اور عصری جامعات کے طلبہ کے درمیان تقسیم اسناد و انعامات کی تقریب منعقد ہوگی، جس میں ملک و ملت اور جماعت کی ممتاز شخصیات شرکت کریں گی۔
22 برس سے مسلسل منعقد ہونے والا یہ مسابقہ نہ صرف حفظ و تجوید و تفسیر قرآن کے میدان میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کا اہم ذریعہ بن چکا ہے بلکہ ملک بھر کے دینی اداروں، علماء اور قراء کو ایک مشترکہ علمی و قرآنی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ایک مؤثر روایت بھی قائم کرچکا ہے۔

