سوشل میڈیا اور افیلی ایٹ مارکیٹنگ سے ہونے والی آمدنی کا شرعی حکم کیا ہوگا؟ ندوۃ العلماء میں جدید ڈیجیٹل معیشت کے مسائل پر غور
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، یوٹیوب، فیس بک اور انسٹاگرام سے حاصل ہونے والی آمدنی کے شرعی پہلوؤں پر بحث کی تجویز؛ اشتہارات کے مواد، حلال و حرام مصنوعات کی تشہیر اور کمیشن کے نظام سے متعلق اہم سوالات اٹھائے گئے
لکھنؤ: ایشیا ٹائمز
ڈیجیٹل معیشت کے تیزی سے پھیلتے ہوئے دائرے میں سوشل میڈیا اب محض اظہارِ خیال اور رابطے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ لاکھوں افراد کے لیے روزگار اور آمدنی کا ایک اہم وسیلہ بھی بن چکا ہے۔ یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد تیار کرنے والے افراد اشتہارات، افیلی ایٹ مارکیٹنگ اور آن لائن تشہیری سرگرمیوں کے ذریعے آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم ان ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کی شرعی حیثیت اور اس سے وابستہ اخلاقی و کاروباری تقاضے اب ایک اہم فقہی موضوع بنتے جا رہے ہیں۔
اسی پس منظر میں مجلس تحقیقات شرعیہ، ندوۃ العلماء لکھنؤ نے اپنے آٹھویں فقہی سیمینار کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور افیلی ایٹ مارکیٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی کے شرعی حکم پر غور و خوض کی تجویز پیش کی ہے۔
مجلس کی جانب سے 3 نومبر 2026 کو جاری کردہ تجاویز میں اس موضوع کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس میں بنیادی طور پر دو پہلوؤں کو زیر بحث لانے کی تجویز ہے: افیلی ایٹ مارکیٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی اور سوشل میڈیا اشتہارات سے ہونے والی کمائی۔
افیلی ایٹ مارکیٹنگ کیا ہے اور اس کی آمدنی کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
افیلی ایٹ مارکیٹنگ (Affiliate Marketing) ڈیجیٹل کاروبار کا ایک ایسا طریقہ ہے جس میں کوئی فرد یا ادارہ کسی کمپنی کی مصنوعات یا خدمات کی تشہیر کرتا ہے اور اس تشہیر کے نتیجے میں ہونے والی فروخت یا طے شدہ کارروائی کے عوض کمیشن حاصل کرتا ہے۔
آج کل یوٹیوب چینلز، ویب سائٹس، فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کے ذریعے یہ کاروبار تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ مواد تخلیق کرنے والے افراد مختلف کمپنیوں کی مصنوعات کے لنکس شیئر کرتے ہیں اور ان لنکس کے ذریعے ہونے والی خریداری پر انہیں کمیشن دیا جاتا ہے۔
مجلس تحقیقات شرعیہ نے اس کاروباری طریقے کے شرعی جواز سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔ ان میں یہ بنیادی سوال شامل ہے کہ کیا افیلی ایٹ مارکیٹنگ کو خدمات کی فراہمی اور اجرت کے اصول کے تحت جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا اس میں کمیشن کی شرح پہلے سے طے ہونا ضروری ہے؟ اور اگر کسی مصنوعات کی تشہیر میں کئی افراد یا ادارے شریک ہوں تو ان کے درمیان کمیشن کی تقسیم کا شرعی طریقہ کیا ہوگا؟
تجاویز میں اس پہلو پر بھی غور کرنے کی بات کہی گئی ہے کہ اگر کسی کمپنی یا ادارے کی مصنوعات حلال اور حرام دونوں طرح کی ہوں تو ان کی تشہیر سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا حکم ہوگا؟ اسی طرح غیر اخلاقی یا غیر شرعی مواد اور مصنوعات کی تشہیر کے ذریعے کمائی کرنے کی شرعی حیثیت بھی زیر بحث لانے کی تجویز ہے۔
یوٹیوب اور فیس بک کے اشتہارات سے ہونے والی آمدنی بھی زیر بحث
ڈیجیٹل معیشت کا دوسرا اہم پہلو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے اشتہارات کے ذریعے ہونے والی آمدنی ہے۔
یوٹیوب، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر مواد تیار کرنے والے افراد کو ان کے مواد پر دکھائے جانے والے اشتہارات کے عوض آمدنی کا ایک حصہ ملتا ہے۔ اس نظام میں اشتہارات کا انتخاب اکثر پلیٹ فارم کے خودکار نظام کے ذریعے ہوتا ہے، جس پر مواد تخلیق کرنے والے کا مکمل اختیار نہیں ہوتا۔
مجلس تحقیقات شرعیہ نے اس صورت حال کے شرعی پہلوؤں پر غور کی تجویز پیش کی ہے۔ خاص طور پر یہ سوال اہم ہے کہ اگر کسی شخص کی ویڈیو یا سوشل میڈیا مواد پر ایسے اشتہارات دکھائے جائیں جو شرعی اعتبار سے ناجائز ہوں تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا حکم ہوگا؟
اس سلسلے میں یہ پہلو بھی قابل غور قرار دیا گیا ہے کہ اگر مواد تخلیق کرنے والے کو اشتہارات کے انتخاب کا اختیار حاصل ہو تو اس کی ذمہ داری کیا ہوگی اور اگر اشتہارات پلیٹ فارم خودکار طریقے سے دکھاتا ہو تو شرعی حکم کس طرح متعین کیا جائے گا؟
ڈیجیٹل میڈیا کے لیے اہم فقہی سوالات
مجلس کی تجاویز میں اس بات کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی کے معاملے میں محض کمائی کے طریقے کو نہیں بلکہ اس کے تمام متعلقہ پہلوؤں کو سامنے رکھا جائے۔ مصنوعات کی نوعیت، تشہیر کا مواد، کمیشن کا طریقہ، معاہدے کی شرائط اور اشتہارات پر اختیار جیسے امور اس بحث کا حصہ ہیں۔
یہ موضوع بالخصوص ڈیجیٹل صحافت، نیوز پورٹلز، یوٹیوب چینلز، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور آزاد مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ان میں سے بڑی تعداد اشتہارات اور آن لائن تشہیر کو آمدنی کے مستقل ذریعے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
بدلتی ہوئی معیشت میں فقہی رہنمائی کی ضرورت
ڈیجیٹل معیشت نے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ اب کوئی شخص اپنے گھر سے یوٹیوب چینل چلا کر، ویب سائٹ بنا کر یا سوشل میڈیا کے ذریعے مصنوعات کی تشہیر کرکے آمدنی حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن ان نئے طریقوں کے ساتھ شرعی، اخلاقی اور تجارتی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔
ندوۃ العلماء کی مجلس تحقیقات شرعیہ کی جانب سے اس موضوع کو فقہی سیمینار کے لیے منتخب کرنا اس بات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ دینی و علمی اداروں میں جدید معاشی نظام اور ڈیجیٹل کاروبار کے مسائل پر سنجیدہ علمی گفتگو کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔
یہ امر بھی واضح رہنا چاہیے کہ دستیاب دستاویز میں ان موضوعات پر غور و خوض کے لیے تجاویز اور سوالات پیش کیے گئے ہیں، حتمی شرعی فیصلے یا فتوے نہیں۔ ان مسائل کے بارے میں حتمی رہنمائی متعلقہ فقہی تحقیق اور اہل علم کے فیصلوں کے بعد ہی سامنے آسکتی ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں جب صحافت، مواد سازی اور سوشل میڈیا لاکھوں افراد کے لیے معاشی سرگرمیوں کا ذریعہ بن رہے ہیں، آمدنی کے ان نئے طریقوں کی شرعی حیثیت پر علمی گفتگو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خصوصاً ایسے صحافیوں، یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں کے لیے یہ بحث اہم ہے جو اشتہارات اور افیلی ایٹ مارکیٹنگ کے ذریعے اپنے اداروں کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جدید کاروباری نظام کو سمجھتے ہوئے ایسے واضح شرعی اصول مرتب کیے جائیں جو دینی تقاضوں، کاروباری شفافیت اور ڈیجیٹل میڈیا کی عملی ضرورتوں کے درمیان رہنمائی فراہم کر سکیں۔

