خصوصی فیچر | ایشیا ٹائمز اردو
ہندوستان تہذیبوں، مذاہب، زبانوں اور ثقافتی روایتوں کا ایک ایسا گلدستہ ہے جس کی خوب صورتی اس کے رنگا رنگ تنوع میں پوشیدہ ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے اپنے اپنے عقائد اور روایات کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، لیکن بعض تہوار ایسے ہیں جو اپنے مذہبی دائرے سے آگے بڑھ کر پورے سماج کی خوشیوں، میل جول اور مشترکہ ثقافت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ دیوالی بھی ایسا ہی ایک تہوار ہے، جسے روشنی، امید، خوشی اور نیکی کی فتح کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ہر سال جب دیوالی کا موسم آتا ہے تو شہروں، قصبوں اور دیہات میں ایک خاص رونق دکھائی دینے لگتی ہے۔ بازاروں میں چراغوں، مٹھائیوں، رنگ برنگی آرائشی اشیا اور تحائف کی خریداری بڑھ جاتی ہے۔ گھروں کی صفائی، سجاوٹ، رنگولی اور دیوں کی روشنی اس تہوار کی نمایاں پہچان بن جاتی ہے۔ رات کے وقت جب گھروں کی دہلیز، بالکونیوں اور گلیوں میں چراغ روشن ہوتے ہیں تو ماحول میں ایک خاص دل کشی پیدا ہوجاتی ہے۔
دیوالی کا مذہبی اور تاریخی پس منظر
دیوالی، جسے دیپاولی بھی کہا جاتا ہے، سنسکرت کے دو الفاظ ’دیپ‘ یعنی چراغ اور ’آولی‘ یعنی قطار سے مل کر بنا ہے۔ اس کا مفہوم ہے چراغوں کی قطار۔ ہندو روایت میں یہ تہوار مختلف مذہبی اور تاریخی واقعات سے وابستہ ہے۔
رامائن کی روایت کے مطابق رام جی ، سیتا اور لکشمن کے چودہ سالہ بن باس کے بعد ایودھیا واپسی کی خوشی میں لوگوں نے چراغ روشن کیے تھے۔ اسی واقعے کو دیوالی کی ایک اہم علامتی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض علاقوں میں دیوالی کو دولت اور خوش حالی کی دیوی لکشمی کی پوجا سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
جین مذہب میں دیوالی کو مہاویر جی کے نروان کے دن کی یاد کے طور پر منایا جاتا ہے، جب کہ سکھ روایت میں اس کا تعلق بندی چھوڑ دیوس سے بھی ہے، جو گرو ہرگوبند صاحب کی رہائی کی یاد دلاتا ہے۔ اس طرح دیوالی برصغیر کی مختلف مذہبی اور تاریخی روایتوں میں الگ الگ معنویت رکھتی ہے۔
روشنی کا پیغام: اندھیرے سے اجالے کی طرف
دیوالی کا سب سے نمایاں پیغام روشنی اور تاریکی کی علامتی کشمکش ہے۔ یہ تہوار یاد دلاتا ہے کہ زندگی میں مایوسی، جہالت، نفرت اور ناانصافی کے اندھیروں کے مقابلے میں علم، محبت، سچائی اور انصاف کی روشنی زیادہ اہم ہے۔
چراغ روشن کرنا محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک علامت بھی ہے۔ یہ علامت انسان کو امید کا دامن تھامنے اور مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیوالی کو نیکی کی بدی پر، علم کی جہالت پر اور امید کی مایوسی پر فتح کے استعارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
دیوالی اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیب
ہندوستان میں تہوار صرف مذہبی شناخت کا اظہار نہیں ہوتے بلکہ سماجی میل جول اور باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ دیوالی کے موقع پر مختلف مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں اور خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔
کئی علاقوں میں غیر ہندو خاندان بھی اپنے پڑوسیوں اور دوستوں کو دیوالی کی مبارک باد دیتے اور اس موقع پر منعقد ہونے والی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ یہ روایت ہندوستان کی اس مشترکہ تہذیبی شناخت کی عکاسی کرتی ہے جس میں مذہبی اختلاف کے باوجود انسانی رشتوں اور سماجی تعلقات کو اہمیت حاصل ہے۔
اس تہوار کا اصل حسن اسی وقت نمایاں ہوتا ہے جب اس کی خوشیوں میں معاشرے کے تمام طبقات شریک ہوں اور محبت، احترام اور رواداری کی فضا قائم رہے۔
بازاروں کی رونق اور معیشت کی سرگرمی
دیوالی ہندوستانی معیشت کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ تہوار سے پہلے بازاروں میں خریداری کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ مٹھائی فروش، کمہار، دست کار، کپڑا فروش، الیکٹرانکس کے تاجر، چھوٹے دکاندار اور آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اس موسم کو کاروباری سرگرمیوں کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔
خاص طور پر مٹی کے دیے بنانے والے کمہاروں کے لیے دیوالی روزگار اور آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔ اگر لوگ چینی مصنوعات کے بجائے مقامی دست کاروں اور چھوٹے کاروباریوں سے خریداری کریں تو تہوار کی خوشیاں معاشرے کے کمزور معاشی طبقات تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔
ماحول دوست دیوالی کی ضرورت
گزشتہ برسوں میں دیوالی کے موقع پر فضائی اور صوتی آلودگی کا مسئلہ بھی ایک اہم موضوع بن کر سامنے آیا ہے۔ پٹاخوں سے نکلنے والا دھواں، باریک ذرات اور شور نہ صرف ماحول بلکہ بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے بھی پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں۔
اسی لیے ماحول دوست دیوالی منانے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔ مٹی کے دیوں، قدرتی آرائش، محدود روشنیوں اور پٹاخوں سے گریز کے ذریعے اس تہوار کو زیادہ محفوظ اور خوش گوار بنایا جاسکتا ہے۔
دیوالی کی اصل روح روشنی ہے، دھواں اور شور نہیں۔ اگر اس تہوار کی خوشیوں کو ماحول اور دوسروں کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے منایا جائے تو اس کی معنویت مزید بڑھ سکتی ہے۔
خوشیوں کے ساتھ محروم طبقات کو بھی یاد رکھیں
کسی بھی تہوار کی خوب صورتی صرف گھروں کی سجاوٹ، مہنگے تحائف اور بازاروں کی رونق میں نہیں بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ خوشیوں سے محروم افراد کو کس حد تک یاد رکھا جاتا ہے۔
ہمارے آس پاس ایسے بہت سے خاندان موجود ہوتے ہیں جن کے لیے تہوار کے موقع پر بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ ایسے میں ضرورت مندوں کی مدد، بچوں کے لیے تحائف، غریب خاندانوں میں مٹھائی اور ضروری اشیا کی تقسیم اور پڑوسیوں کے ساتھ خوشیاں بانٹنا دیوالی کے سماجی پیغام کو مزید بامعنی بنا سکتا ہے۔
ایک روشن ہندوستان کا خواب
دیوالی کا تہوار ہمیں یہ سوچنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ کیا ہم اپنے معاشرے کو نفرت، تعصب، ناانصافی اور عدم برداشت کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں؟ کیا ہمارے گھروں میں روشن ہونے والے چراغ ہماری سوچ اور رویوں میں بھی روشنی پیدا کرتے ہیں؟
ہندوستان کی اصل طاقت اس کا تنوع اور اس کی مشترکہ تہذیبی روایت ہے۔ مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے باوجود ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا اور خوشیوں میں شامل ہونا ہی اس ملک کی اجتماعی شناخت کو مضبوط بناتا ہے۔
دیوالی کا پیغام بھی اسی انسانی قدر کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ روشنی صرف اپنے گھر تک محدود نہ رہے بلکہ اس کی کرنیں دوسروں کی زندگیوں تک بھی پہنچیں۔
دیوالی کا حقیقی مفہوم شاید یہی ہے کہ ہر انسان کے دل میں امید کا ایک چراغ روشن ہو، ہر گھر میں خوشیوں کی روشنی پہنچے اور معاشرے میں محبت، امن، رواداری اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو۔

