نئے ڈائریکٹر شریانش موہن نے اردو کو نوجوانوں، جدید ٹیکنالوجی اور روزگار سے جوڑنے، تعلیمی و ادبی اسکیموں کو مؤثر بنانے اور عالمی سطح پر ہندوستانی زبانوں کی نمائندگی بڑھانے پر زور دیا
نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL) کے نئے ڈائریکٹر شری شریانش موہن (IRS, C&IT) نے اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد اردو زبان کی ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ، تعلیمی مواقع اور روزگار سے وابستہ امکانات کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے خیالات سے واضح ہوتا ہے کہ اردو کے فروغ کو محض روایتی ادبی و تعلیمی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے بدلتے ہوئے سماجی، تعلیمی اور معاشی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔
قومی اردو کونسل کے صدر دفتر، نئی دہلی میں نئے ڈائریکٹر کے استقبال کے لیے ایک تعارفی تقریب منعقد ہوئی، جہاں افسران اور عملے کے ارکان نے انہیں گلدستہ پیش کرکے خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر شریانش موہن نے کونسل کے افسران اور ملازمین سے ملاقات کی اور ادارے کی ذمہ داریوں، ترجیحات اور مستقبل کے امکانات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اردو کے فروغ کے لیے نئے امکانات تلاش کرنے کی ضرورت
اپنے خطاب میں نئے ڈائریکٹر نے کہا کہ ہندوستانی زبانوں اور ادب سے انہیں گہری دلچسپی ہے اور اردو اپنی تہذیبی شناخت، شیرینی اور عظیم ادبی ورثے کے باعث ایک اہم زبان ہے۔ انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی (NEP-2020) کے تناظر میں اردو کی ترقی کے نئے راستے تلاش کرنے اور نئی نسل کو اس زبان سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کے مطابق اردو کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ زبان کی روایتی ادبی عظمت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے جدید تعلیمی نظام، نئی ٹیکنالوجی اور بدلتے ہوئے معاشی امکانات سے بھی مربوط کیا جائے۔
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے نوجوانوں تک رسائی
شریانش موہن نے اردو کے فروغ میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کی تعلیمی، ادبی اور تربیتی اسکیموں کو مزید مؤثر بنانے کے ساتھ ان کی وسیع پیمانے پر تشہیر بھی ضروری ہے، تاکہ ان کے فوائد زیادہ سے زیادہ طلبہ، نوجوانوں اور اردو سے دلچسپی رکھنے والے افراد تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اردو کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور روزگار سے وابستہ سرگرمیوں کے ساتھ جوڑنے کے لیے بامعنی اقدامات کیے جائیں۔ یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ نئی نسل زبان کے ساتھ اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کے امکانات بھی دیکھنا چاہتی ہے۔
عالمی پلیٹ فارمز پر ہندوستانی زبانوں کی نمائندگی
نئے ڈائریکٹر نے اردو کے فروغ کو بین الاقوامی تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے BRICS جیسے عالمی پلیٹ فارمز اور بین الاقوامی تقریبات میں ہندوستانی زبانوں اور ادب کی نمائندگی بڑھانے کے امکانات کا ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے پلیٹ فارمز ہندوستان کی کثیر لسانی اور تہذیبی وراثت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اردو ادب، تراجم اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے بھی ہندوستانی ادبی روایت کو عالمی سطح پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
ادارے کی ترقی کے لیے ٹیم ورک پر زور
شریانش موہن نے اپنے خطاب میں ادارہ جاتی ترقی کے لیے اجتماعی کوششوں اور ٹیم ورک کو بنیادی اہمیت دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے انہیں دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ قومی اردو کونسل کی ذمہ داری بھی سونپی ہے، جسے وہ پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ نبھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کونسل کے تمام ملازمین سے بھی محنت، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرنے کی توقع ظاہر کی۔
اس موقع پر انہوں نے مجروح سلطانپوری کا معروف شعر پڑھ کر اجتماعی جدوجہد کی اہمیت واضح کی:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
انہوں نے ملازمین کو خوش رہنے اور اپنی توانائی ادارے اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے صرف کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک خوش انسان ہی ایک خوشگوار معاشرے کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
اردو کونسل کے لیے آگے کا راستہ
قومی اردو کونسل ملک میں اردو زبان کی ترویج، تدریس، اشاعت، تحقیق اور ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایک اہم قومی ادارہ ہے۔ ایسے میں نئی قیادت کے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کونسل اپنی موجودہ اسکیموں اور وسائل کو کس طرح زیادہ مؤثر بنا کر اردو کے دائرۂ اثر کو نئی نسل اور ملک کے ان علاقوں تک وسعت دے سکتی ہے جہاں اردو کے فروغ کے مزید امکانات موجود ہیں۔
نئے ڈائریکٹر کے ابتدائی خطاب میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، روزگار، نئی تعلیمی پالیسی، بین الاقوامی روابط اور ادارہ جاتی فعالیت پر توجہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اردو کے فروغ کے لیے روایتی سرگرمیوں کے ساتھ نئے طریقۂ کار اختیار کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ان ترجیحات کو عملی منصوبوں، مؤثر اسکیموں اور قابلِ پیمائش نتائج میں کس حد تک تبدیل کیا جاتا ہے۔
استقبالیہ تقریب میں قومی اردو کونسل کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، مختلف شعبوں کے افسران اور دیگر ملازمین موجود رہے۔

