علی گڑھ، 6 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) میں آٹھ سال کے طویل وقفے کے بعد طلبہ یونین کے انتخابات منعقد ہوئے۔ 5 نومبر کو ہونے والی پولنگ کے بعد 6 نومبر کی صبح نتائج سامنے آئے۔
اہم نتائج یہ ہیں:
| عہدہ | منتخب امیدوار | ووٹ |
|---|---|---|
| صدر | محمد نعمان اشرف | 7,797 |
| نائب صدر | نشرح نعیم | 7,091 |
| سکریٹری | محمد ہمدان | 8,385 |
نعمان اشرف نے صدر کے انتخاب میں محمد انتخاب کو شکست دی، جنہیں 3,676 ووٹ ملے۔ نائب صدر منتخب ہونے والی نشرح نعیم کی کامیابی کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ اے ایم یو کی تاریخ میں مرکزی طلبہ یونین کے تین اہم عہدوں میں سے کسی ایک پر منتخب ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔
کتنی پولنگ ہوئی؟
اے ایم یو میں تقریباً 74.65 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جبکہ ویمنز کالج میں یہ شرح 62.05 فیصد رہی۔ بعض فیکلٹیز میں ووٹنگ کا تناسب 90 فیصد تک پہنچا۔
آٹھ سال بعد انتخابات کیوں ہوئے؟
اے ایم یو میں آخری طلبہ یونین انتخابات 2018 میں ہوئے تھے۔ اس کے بعد طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہو سکے تھے۔
ستمبر 2026 میں طلبہ نے انتخابات کی بحالی کے لیے احتجاج شروع کیا۔ طالب علم یاسر فہد نے 21 ستمبر سے بھوک ہڑتال شروع کی، جو 19 روز تک جاری رہی۔
طلبہ کے مطالبات میں:
- طلبہ یونین کے انتخابات کی بحالی۔
- یونیورسٹی کے پراکٹر کی تبدیلی۔
- کیمپس میں طلبہ کی جمہوری نمائندگی کی بحالی۔
9 اکتوبر کو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ اسی دوران پروفیسر محمد نافع احمد انصاری کو نیا پراکٹر مقرر کیا گیا.
ویمنز کالج یونین کے نتائج
ویمنز کالج میں بھی طلبہ یونین کے انتخابات ہوئے۔ دستیاب نتائج کے مطابق:
- صدر: انعم ریاض
- نائب صدر: عائشہ خان
- سکریٹری: مریم جان
اس انتخاب کی اہمیت
اے ایم یو میں آٹھ سال بعد طلبہ یونین کی بحالی محض ایک انتخابی سرگرمی نہیں ہے۔ یہ ہندوستان کی جامعات میں طلبہ کی جمہوری نمائندگی کے ایک اہم باب کی واپسی ہے۔
اس انتخاب میں دو پہلو خاص طور پر قابل ذکر ہیں ایک طرف طویل احتجاج کے بعد انتخابی عمل کی بحالی، دوسری طرف نسرہ نعیم کا مرکزی یونین میں نائب صدر منتخب ہونا۔
اہم سوال یہ ہے کہ نیا منتخب طلبہ یونین انتظامیہ کے ساتھ مل کر طلبہ کے تعلیمی، انتظامی اور جمہوری مسائل کو کس حد تک آگے بڑھا پاتا ہے

