سوال یہ ہے کہ اگر انڈین ایکسپریس کی رپورٹ اگر گمراہ کن ہے تو ابتک اخبار اور اس کی رپورٹرز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی ؟
اشرف علی بستوی
جنتر منتر پر 9 اور 10 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج کے دوران دہلی میں جو حالات دیکھنے کو ملے، انہوں نے شہری آزادی، حقِ احتجاج، صحافت کی آزادی اور حکومت کے طرزِ عمل سے متعلق کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر اعتراضات کے سلسلے میں منعقدہ اس احتجاج کو روکنے کے لیے کیے گئے غیر معمولی حفاظتی انتظامات اور مختلف مقامات پر لوگوں کو حراست میں لیے جانے کے واقعات نے صورت حال کو مزید حساس بنا دیا۔ دہلی میں گزشتہ بیس برسوں کے دوران جنتر منتر پر درجنوں مظاہروں کی کوریج کا تجربہ رہا ہے، لیکن اس بار جس پیمانے پر پولیس کی تعیناتی، نقل و حرکت پر پابندیوں اور صحافیوں کو رپورٹنگ سے روکنے کی شکایات سامنے آئیں، وہ کئی سنجیدہ سوالات پیدا کرتی ہیں۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ اگر گمراہ کن ہے تو کارروائی کیوں نہیں؟
اس پورے تنازعے کا سب سے اہم سوال انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی اس رپورٹ سے متعلق ہے جس میں الیکشن کمیشن کے اندر انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے معاملے پر اختلافات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اسی معاملے کو لے کر سیاسی جماعتوں اور شہری گروپوں نے احتجاج کیا اور چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیا۔
حکومت کی جانب سے اگر یہ کہا جاتا ہے کہ عوام گمراہ کن اطلاعات یا کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں، تو پھر یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر مذکورہ رپورٹ غلط، بے بنیاد یا حقائق کے منافی ہے تو اب تک اس اخبار کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ رپورٹ تیار کرنے والی دونوں خاتون صحافیوں کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا گیا ہے یا نہیں؟ کیا حکومت یا متعلقہ اداروں نے رپورٹ کے مخصوص دعووں کی تردید کرتے ہوئے قابلِ تصدیق شواہد پیش کیے ہیں؟
صحافیوں کو رپورٹنگ سے روکنے کی شکایات
اس احتجاج کے دوران ایک اور قابلِ توجہ پہلو صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات ہیں۔ بعض صحافیوں کو حراست میں لینے کی کوشش کی اطلاعات موصول ہوئیں یہاں تک کہ بی بی سی کے رپورٹر دلنواز پاشا کو بھی کام کرنے سے روکتے دیکھا گیا جس کا ذکر انہوں نے اپنی رپورٹ میں بھی کیاہے ، کئیوں کو رپورٹنگ سے روکنے کی شکایات سامنے آئیں اور صحافتی شناخت کے لیے پی آئی بی کارڈ طلب کیے جانے کا معاملہ بھی دیکھنے میں آیا۔
اگر کسی صحافی کو محض اس بنیاد پر رپورٹنگ سے روکا جائے کہ اس کے پاس پی آئی بی کارڈ نہیں ہے، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت کی جانب سے جاری کردہ یہ کارڈ ہی صحافت کرنے کی واحد سند ہے؟ آزاد صحافی، مقامی میڈیا اداروں کے نمائندے، ڈیجیٹل نیوز پورٹلز کے رپورٹرز اور فری لانس صحافی اپنی پیشہ ورانہ شناخت کس طرح ثابت کریں گے؟
یقیناً پولیس کو امن و امان برقرار رکھنے اور حساس مقامات پر حفاظتی انتظامات کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن ان اقدامات کے دوران صحافیوں کو اپنا کام کرنے کا مناسب موقع ملنا بھی ضروری ہے۔ اگر صحافیوں کو حراست میں لینے یا ان کی رپورٹنگ میں رکاوٹ ڈالنے کے واقعات پیش آئے ہیں، تو دہلی پولیس کو ان کی وجوہات واضح کرنی چاہئیں۔
پریس کلب آف انڈیا سامنے آیا
جنتر منتر پر احتجاج کی کوریج کے دوران صحافیوں کو حراست میں لیے جانے اور رپورٹنگ سے روکنے کا معاملہ اب صحافتی تنظیموں کی تشویش کا موضوع بھی بن گیا ہے۔ پریس کلب آف انڈیا نے 10 اکتوبر 2026 کو جاری اپنے بیان میں دہلی پولیس کی جانب سے صحافیوں کی مبینہ من مانی حراست، ہراسانی اور ان کے آلات ضبط کیے جانے کی سخت مذمت کی ہے۔
بیان پر پریس کلب آف انڈیا کی صدر سنگیتا باروآہ پشاروتی اور جنرل سکریٹری افضل امام کے دستخط ہیں۔ اس پر انڈین ویمنز پریس کور، دہلی یونین آف جرنلسٹس اور کیرالا یونین آف ورکنگ جرنلسٹس (دہلی یونٹ) نے بھی دستخط کیے ہیں۔

بیان کے مطابق، 10 اکتوبر، ہفتے کے روز، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے سینکڑوں افراد کو دہلی پولیس نے حراست میں لیا۔ پریس کلب کا الزام ہے کہ اس کارروائی کے دوران اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے والے صحافیوں کو بھی پولیس بسوں میں بٹھا کر حراستی مراکز لے جایا گیا، جن میں چھترسال اسٹیڈیم اور چانکیہ پوری پولیس اسٹیشن شامل ہیں۔
پریس کلب نے بتایا کہ سینئر صحافی پرنجوئے گوہا ٹھاکرتا اور دی کوئنٹ، دی وائر، اسکرول، رپورٹر ٹی وی، نو بھارت ٹائمز اور نیوز لانڈری سے وابستہ رپورٹرز بھی حراست میں لیے گئے۔ بیان کے مطابق، صحافیوں کا کہنا تھا کہ وہ حراست کے مناظر کی ویڈیو بنا رہے تھے اور ان کے پاس نمایاں طور پر پریس کارڈ موجود تھے، اس کے باوجود انہیں روکا گیا۔ بیان میں یہ شکایت بھی درج کی گئی کہ حراست میں لیے گئے صحافیوں کے سرکاری رپورٹنگ فون چھین لیے گئے۔
پی آئی بی کارڈ کی شرط پر بھی اعتراض
پریس کلب آف انڈیا نے دہلی پولیس کے اس مؤقف پر بھی اعتراض کیا کہ صرف پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) سے منظور شدہ صحافیوں کو رپورٹنگ کی اجازت دی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ ڈیجیٹل اور آزاد میڈیا کے ایک بڑے حصے کے پاس پی آئی بی کارڈ نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ قانون کے تحت تسلیم شدہ صحافتی اداروں اور ذرائع ابلاغ کا حصہ ہیں۔ پریس کلب کے مطابق، اس نے اسی ہفتے پولیس کمشنر کو پیش کردہ مشترکہ میمورنڈم میں بھی یہ اعتراضات اٹھائے تھے، لیکن تنظیم کے دعوے کے مطابق پولیس نے ان تجاویز کے برخلاف کارروائی کی۔
دہلی میں دو دہائیوں کے صحافتی تجربے کے دوران جنتر منتر پر متعدد احتجاجی مظاہروں کی کوریج کی گئی ہے، لیکن اس بار صحافیوں کو رپورٹنگ سے روکنے، ان کی شناخت کے لیے پی آئی بی کارڈ طلب کرنے اور انہیں حراست میں لیے جانے کی شکایات نے صحافت کی آزادی کے بارے میں سنگین سوالات پیدا کیے ہیں۔
پریس کلب کے چار مطالبات
پریس کلب آف انڈیا اور اس بیان پر دستخط کرنے والی تنظیموں نے چار اہم مطالبات پیش کیے ہیں
- حراست میں موجود تمام صحافیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی۔
- ضبط کیے گئے تمام موبائل فون اور صحافتی آلات کی فوری واپسی۔
- دہلی پولیس کی جانب سے عوامی معافی اور ان سینئر پولیس افسران کے طرزِ عمل کی تحقیقات جنہوں نے پریس شناختی کارڈ دیکھنے کے باوجود صحافیوں کو حراست میں لیا۔
- اس بات کی واضح یقین دہانی کہ صحافیوں کو آئندہ احتجاجی مظاہروں کی کوریج سے نہیں روکا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ صحافیوں کو اپنا کام کرنے سے روکنا، انہیں بلاوجہ حراست میں لینا اور دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر پولیس و نیم فوجی دستوں کی تعیناتی، میٹرو اسٹیشنوں کی بندش اور انٹرنیٹ خدمات کی غیر معمولی بندش کے ذریعے پُرامن احتجاج کو محدود کرنا آزاد صحافت اور جمہوری حقوق کے لیے تشویش ناک ہے۔ پریس کلب نے حراست میں لیے گئے تمام صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
حکومت اور دہلی پولیس سے جواب طلب سوالات
پریس کلب آف انڈیا کے اس بیان کے بعد معاملہ محض مظاہرین کی شکایات تک محدود نہیں رہتا، بلکہ صحافیوں کے پیشہ ورانہ حقوق اور پولیس کی جواب دہی کا سوال بھی بن جاتا ہے۔ دہلی پولیس کو واضح کرنا چاہیے کہ صحافیوں کو حراست میں لینے کی کیا بنیاد تھی، ان کے فون اور آلات کیوں ضبط کیے گئے اور کیا پی آئی بی کارڈ کو رپورٹنگ کی لازمی شرط بنانے کا کوئی باقاعدہ قانونی حکم موجود تھا؟ اسی طرح، حراست میں لیے گئے صحافیوں کی تعداد، ان کی رہائی اور ضبط شدہ آلات کی واپسی کے بارے میں بھی صورت حال واضح ہونی چاہیے۔
جمہوریت میں حکومت اور آئینی اداروں سے سوال کرنا صحافت کا بنیادی فریضہ ہے۔ اسی طرح، پولیس کو امن و امان برقرار رکھنے کے اپنے اقدامات کی قانونی بنیاد واضح کرنے کا پابند ہونا چاہیے۔ جنتر منتر پر پیش آنے والے واقعات کی شفاف تحقیقات اور متعلقہ حکام کے واضح جوابات ہی اس تنازعے میں اٹھنے والے سوالات کا قابلِ اعتماد جواب فراہم کر سکتے ہیں۔
کیا دہلی میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی جیسا ماحول تھا؟
9 اور 10 اکتوبر کے دوران دہلی میں جس پیمانے پر حفاظتی انتظامات کیے گئے، اس نے عام شہریوں کی نقل و حرکت، مظاہرین کی آمد و رفت اور صحافیوں کے کام کو متاثر کیا۔
احتجاج کے پیش نظر دہلی میٹرو کے 45 اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستے بند کیے گئے اور 245 ٹرینوں کی آمد و رفت منسوخی سے متاثر ہوئی۔ احتجاج کے دن پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بڑی تعداد تعینات تھی، جبکہ مختلف مقامات سے مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس کی بھاری موجودگی، راستوں پر رکاوٹیں اور لوگوں کو احتجاج میں شرکت سے روکنے کی کوششیں نمایاں تھیں۔ یہ انتظامات صرف جنتر منتر تک محدود محسوس نہیں ہو رہے تھے، بلکہ دہلی کے مختلف حصوں میں ان کے اثرات دکھائی دے رہے تھے۔
ایسے حالات میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ احتجاج کو کنٹرول کرنے کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات کس حد تک ضروری اور متناسب تھے؟ کیا اسی مقصد کو کم سخت پابندیوں کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا تھا؟ اور کیا ان انتظامات کے نتیجے میں عام مسافروں، طلبہ، ملازمین اور دوسرے شہریوں کو ہونے والی پریشانیوں کا مناسب جائزہ لیا گیا؟ احتجاج کے منتظمین اور بعض ناقدین نے ان حالات کو غیر اعلانیہ ایمرجنسی جیسا ماحول قرار دیا۔
حراست میں لیے جانے والے افراد کی تعداد اور پولیس کا کردار
موصولہ اطلاعات کے مطابق، احتجاج سے قبل اور اس کے دوران ایک ہزار سے زیادہ افراد کو گھروں میں محدود رکھنے یا حراست میں لینے کی کوششیں کی گئیں۔ 9 اکتوبر کو پولیس اہلکاروں کے محلوں میں فہرستیں لے کر پہنچے ۔ ایک اہم سوال کہ کیا کسی مخصوص قانونی حکم یا قابلِ شناخت خطرے کی بنیاد پر کارروائی کی گئی، یا محض احتجاج میں شرکت کے خدشے کی وجہ سے لوگوں کو روکا گیا؟ پولیس کی جانب سے مختلف علاقوں میں کیے گئے اقدامات، حراست میں لیے گئے افراد کی حقیقی تعداد، قانونی بنیاد اور بعد میں ان کی رہائی سے متعلق مکمل تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہئیں۔
مسجدوں سے اپیل اور محلوں میں پولیس کی سرگرمی
اس احتجاج کے سلسلے میں ایک اور قابلِ توجہ بات یہ تھی کہ اطلاعات کے مطابق بعض محلوں کی مسجدوں سے لوگوں کو سی جے پی کے احتجاج میں شامل نہ ہونے کی اپیل کی گئی۔ اگر پولیس نے اس مقصد کے لیے مذہبی مقامات یا مقامی انتظامیہ کے ذریعے اپیلیں کروائی تھیں، تو اس کی نوعیت اور قانونی بنیاد واضح ہونی چاہیے۔ امن و امان کے خدشات سے شہریوں کو آگاہ کرنا ایک بات ہے، لیکن کسی قانونی احتجاج میں شرکت سے لوگوں کو خوف زدہ کرنا یا انہیں دباؤ کے ذریعے روکنا الگ معاملہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ متعلقہ حکام واضح کریں کہ یہ اپیلیں کس کی ہدایت پر کی گئیں اور ان کا مقصد کیا تھا۔
مظاہرین کو روکنے کے لیے پہنچنے والی تنظیموں کا معاملہ
احتجاج کے دوران ہندو رکشا سینا جیسی تنظیموں سے وابستہ بعض نوجوانوں کے مظاہرین کو روکنے اور پولیس کا ساتھ دینے کے لیے پہنچنے کا مشاہدہ بھی کیا گیا۔ پولیس انہیں روکنے کی کوشش کرتی نظر نہیں آئی ، جس طرح احتجاج میں شرکت کے لیے آنے والے بعض افراد کو روکا جا رہا تھا۔ اس صورت حال پر بھی وضاحت ضروری ہے۔ کیا ان تنظیموں سے وابستہ افراد کو وہاں جمع ہونے کی اجازت تھی؟ کیا پولیس نے ان کے کردار اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا؟ کیا احتجاج کے دونوں جانب موجود لوگوں کے ساتھ یکساں قانونی معیار اختیار کیا گیا؟
حکومت اور بی جے پی کا کردار
اس پورے احتجاج کا مرکزی موضوع چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا کردار اور انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا عمل ہے۔ الیکشن کمیشن آئینی حیثیت رکھنے والا ادارہ ہے، جس کی آزادی اور خود مختاری جمہوری نظام میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ انتخابی فہرستوں سے متعلق اٹھنے والے اعتراضات اور الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات کی خبروں پر حکومت کا ردِعمل کیا ہونا چاہیے؟ کیا حکومت کو الزامات کا جواب شواہد اور دستاویزات کے ذریعے نہیں دینا چاہیے؟ اور کیا کسی آئینی ادارے کے فیصلوں یا اس کے سربراہ کے کردار پر سوال اٹھانے والوں کو اپنی بات کہنے کا جمہوری موقع نہیں ملنا چاہیے؟
سوال صرف ایک احتجاج کا نہیں
جنتر منتر پر ہونے والے واقعات کو صرف ایک سیاسی احتجاج یا پولیس کے حفاظتی انتظامات تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ معاملہ اس وسیع تر سوال سے جڑا ہوا ہے کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے، صحافت کی آزادی، شہریوں کے نقل و حرکت کے حق اور آئینی اداروں کی خود مختاری کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔
حکومت کو امن و امان قائم رکھنے کا حق حاصل ہے، لیکن اس اختیار کے استعمال میں ضرورت، تناسب، شفافیت اور جواب دہی بھی اہم ہیں۔ اسی طرح احتجاج کرنے والوں کے الزامات کو بھی شواہد کی روشنی میں جانچنا چاہیے۔
سب سے اہم سوال وہی ہے اگر انڈین ایکسپریس کی رپورٹ غلط اور بے بنیاد ہے تو حکومت اس کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھتی؟

