ایکسپلینر | نئی دہلی | 9–11 اکتوبر 2026
نئی دہلی: (ایشیا ٹائمز) دہلی کے جنتر منتر پر 10 اکتوبر کو ہونے والے مجوزہ مظاہرے سے پہلے ہی دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتظامات، ٹرینوں کی منسوخی، میٹرو اسٹیشنوں پر پابندیوں اور انٹرنیٹ کی بندش نے سیاسی بحث چھیڑ دی۔ مظاہرین کا مطالبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا تھا، جبکہ پولیس نے اجازت نہ دینے کے فیصلے کے لیے امن و امان، ٹریفک اور حفاظتی خدشات کا حوالہ دیا۔ ہفتے کے روز متعدد مقامات پر لوگوں کو حراست میں لیا گیا اور جنتر منتر تک رسائی محدود رہی۔
1۔ مظاہرے کی بنیادی وجہ کیا تھی؟
یہ احتجاج اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) یعنی ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی اور الیکشن کمیشن کے کام کاج سے متعلق تنازع کے پس منظر میں کیا گیا۔
مظاہرین اور ان کے حامیوں کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں سے بڑے پیمانے پر نام حذف ہونے سے شہریوں کے حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اور اس عمل سے اقلیتوں اور اپوزیشن کے حامی ووٹروں پر غیر متناسب اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ اسی بنیاد پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ووٹر لسٹوں سے تقریباً 13 کروڑ نام حذف کیے جانے کا معاملہ بھی احتجاج کے مرکز میں ہے۔ تاہم اس تعداد اور حذف شدہ ناموں کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے یہ فرق ضروری ہے کہ کتنے نام حتمی طور پر حذف ہوئے، کتنے کی تصدیق یا نظرثانی ہوئی اور کتنے معاملات پر اعتراضات زیرِ غور ہیں۔ یہ اعداد خود بخود کسی بدنیتی یا انتخابی دھاندلی کا ثبوت نہیں بنتے۔
2۔ 9 اکتوبر: مظاہرے سے پہلے دہلی میں سختی
جمعہ، 9 اکتوبر کو پولیس نے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ پولیس کے مطابق منتظمین نے مقررہ مدت سے کم وقت پہلے اطلاع دی تھی اور گزشتہ احتجاج کے دوران طے شدہ شرائط پر عمل نہ کیے جانے کے خدشات بھی موجود تھے۔
اس کے بعد:
- جنتر منتر، جن پتھ اور وسطی دہلی کے دوسرے علاقوں میں بیریکیڈنگ اور اضافی سکیورٹی تعینات کی گئی۔
- جنتر منتر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کا اعلان کیا گیا، جس کی مدت جمعہ رات 10 بجے سے ہفتہ رات 10 بجے تک بتائی گئی۔
- دہلی آنے والی متعدد ٹرینوں کی منسوخی یا اوقات میں تبدیلی کی اطلاعات سامنے آئیں۔
- میٹرو اسٹیشنوں پر بھی پابندیوں کا اعلان کیا گیا۔
ان انتظامات نے مظاہرے سے پہلے ہی عام مسافروں اور دہلی آنے والے لوگوں کو متاثر کیا۔
3۔ 10 اکتوبر: مظاہرین حراست میں، جنتر منتر تک رسائی محدود
ہفتے کے روز احتجاج کے اعلان کے باوجود جنتر منتر تک پہنچنا مظاہرین کے لیے مشکل بنا رہا۔ پولیس کی بھاری نفری، بیریکیڈنگ اور مختلف مقامات پر کارروائیوں کے باعث مظاہرین چھوٹے گروپوں میں دہلی کے دوسرے علاقوں میں بھی جمع ہوئے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق کارروائیوں میں ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں احتجاجی مہم کے بانی ابھجیت دیپکے، یوٹیوبر دھرو راٹھی، طلبہ، کارکنان اور بعض سیاسی رہنما شامل تھے۔ مختلف رپورٹس میں حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد مختلف بتائی گئی ہے؛ اس لیے کسی ایک عدد کو حتمی تعداد سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
احتجاجی مقامات تک رسائی محدود ہونے کے باوجود دلی ہاٹ، راج گھاٹ اور کناٹ پلیس کے آس پاس مختلف مقامات پر چھوٹے احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اس صورت حال نے ایک اہم سوال پیدا کیا: جب کسی احتجاج کی مقررہ جگہ پر اجتماع ممکن نہ ہو، تو کیا اس کے شرکا دوسرے مقامات پر پُرامن طور پر اپنا احتجاج درج کرا سکتے ہیں؟ اس کا جواب متعلقہ قانونی پابندیوں، انتظامیہ کے احکامات اور ہر واقعے کے حقائق پر منحصر ہے۔
4۔ ٹرینیں اور میٹرو کیوں اہم مسئلہ بن گئیں؟
اس احتجاج کا اثر صرف سیاسی کارکنوں تک محدود نہیں رہا۔ دہلی آنے والی ٹرینوں کی منسوخی یا ری شیڈولنگ اور میٹرو اسٹیشنوں پر پابندیوں سے عام مسافروں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔
اتر پردیش سے دہلی آنے والی تقریباً دو درجن ٹرینوں کی منسوخی کی اطلاعات احتجاج سے پہلے سامنے آئی تھیں۔ بعض دوسرے روٹس پر بھی تبدیلیاں رپورٹ ہوئیں۔ اس کے علاوہ دہلی میٹرو کے 57 اسٹیشنوں کو بند رکھنے یا ان کی خدمات محدود کرنے کے انتظامات کی خبریں آئیں۔
اس صورت حال میں دو الگ پہلو سامنے آتے ہیں:
- انتظامیہ کا مؤقف: بڑے اجتماع کے پیش نظر امن و امان، ٹریفک اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ضروری تھا۔
- ناقدین اور مظاہرین کا اعتراض: نقل و حمل اور مواصلات پر وسیع پابندیوں سے پُرامن احتجاج کے ساتھ عام شہریوں کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی۔
اتوار، 11 اکتوبر کو شمالی ریلوے نے واضح کیا کہ دہلی میں ٹرین خدمات معمول کے مطابق چلیں گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ دنوں کی رکاوٹوں کو مستقل بندش نہیں سمجھنا چاہیے۔
5۔ حکومت، پولیس اور احتجاج کرنے والوں کے مؤقف میں اختلاف
پولیس کا مؤقف
پولیس نے مظاہرے کی اجازت نہ دینے کے لیے مختصر نوٹس، امن و امان، ٹریفک اور گزشتہ احتجاج میں شرائط کی مبینہ خلاف ورزیوں کو وجوہات بتایا۔
مظاہرین کا مؤقف
CJP اور اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل پر جواب دہی اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے سے متعلق ہے۔ وہ کارروائیوں اور نقل و حرکت پر پابندیوں کو احتجاج دبانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
یہاں بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: پولیس کی جانب سے حفاظتی خدشات ظاہر کرنا اور مظاہرین کی جانب سے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگانا دو الگ دعوے ہیں۔ ان کی جانچ کے لیے اجازت ناموں، سرکاری احکامات، حراست کی تفصیلات اور ووٹر لسٹوں سے متعلق قابلِ تصدیق اعداد و شمار دیکھنا ضروری ہے۔
6۔ کیا احتجاج ختم ہوگیا ہے؟
نہیں، 11 اکتوبر کو احتجاجی مہم جاری رکھنے کا اعلان سامنے آیا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق CJP نے اتوار کی صبح 10 بجے جنتر منتر پر دوبارہ جمع ہونے کی اپیل کی۔ تنظیم کے رہنما اجنکیا شندے نے گزشتہ روز کی حراستوں کے بعد بھی احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ تاہم دوبارہ احتجاج کی اپیل اور اس کے نتیجے میں واقعی کتنے افراد جمع ہوئے، ان دونوں کو الگ الگ دیکھنا چاہیے۔
7۔ اس احتجاج کے بڑے سوالات کیا ہیں؟
حقِ رائے دہی
ووٹر لسٹوں سے نام حذف کرنے کا عمل کس بنیاد پر ہوا؟ کیا متاثرہ شہریوں کو اپنے نام دوبارہ درج کرانے اور اعتراضات درج کرنے کا مؤثر موقع ملا؟
پُرامن احتجاج کا حق
عوامی نظم برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات اور شہریوں کے پُرامن اجتماع کے حق میں توازن کیسے قائم کیا جائے؟
عام شہریوں پر اثرات
کیا احتجاج کے پیش نظر نقل و حمل اور انٹرنیٹ پر عائد پابندیاں ضرورت کے مطابق اور متناسب تھیں؟ ان سے متاثر ہونے والے مسافروں کو کتنی پیشگی اطلاع دی گئی؟
الیکشن کمیشن کی جواب دہی
ووٹر لسٹوں سے متعلق اعتراضات پر الیکشن کمیشن کیا وضاحت دیتا ہے، اور ان کی آزادانہ جانچ کس طرح کی جا سکتی ہے؟
9 اور 10 اکتوبر کے واقعات نے جنتر منتر کے مجوزہ احتجاج کو محض ایک سیاسی اجتماع سے بڑھا کر ووٹر لسٹوں، الیکشن کمیشن کی جواب دہی، شہری آزادیوں اور انتظامیہ کے اختیارات سے متعلق ایک بڑی بحث میں تبدیل کر دیا۔ 11 اکتوبر کو دوبارہ احتجاج کی اپیل نے اس معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
اب اصل توجہ تین باتوں پر ہونی چاہیے: ووٹر لسٹوں میں تبدیلیوں کے قابلِ تصدیق اعداد و شمار، حراست میں لیے گئے افراد کے ساتھ قانونی طریقۂ کار کی پابندی، اور احتجاج کے حق و عوامی تحفظ کے درمیان مناسب توازن۔
ادارتی نوٹ: یہ ایکسپلینر 9 تا 11 اکتوبر 2026 کی دستیاب میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے۔

