126 ممالک کے 1,433 ناشرین کی شرکت؛ 30 خصوصی مذاکروں اور کاروباری نشستوں میں عالمی اشاعتی صنعت کے مستقبل، بچوں کے ادب، آڈیو بکس اور بین الاقوامی تعاون پر غور؛ ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے اداروں میں نامک پبلی کیشنز بھی شامل
شارجہ، متحدہ عرب امارات | 4 نومبر 2026 | ایشیا ٹائمز ڈیسک
دنیا کی اشاعتی صنعت تیزی سے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور، مصنوعی ذہانت، قارئین کی بدلتی ترجیحات اور عالمی کتابی منڈی کے نئے تقاضوں سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں مشرقِ وسطیٰ کے اہم ثقافتی مرکز شارجہ میں منعقدہ 16ویں شارجہ انٹرنیشنل پبلشرز کانفرنس 2026 نے عالمی ناشرین، ادبی ایجنٹس، مترجمین اور اشاعتی ماہرین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا، جہاں کتابوں کی اشاعت کے ساتھ ان کے حقوق، ترجمے، تقسیم اور مستقبل کے کاروباری امکانات پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔
شارجہ بک اتھارٹی کے زیرِ اہتمام یہ تین روزہ کانفرنس یکم سے 3 نومبر تک ایکسپو سینٹر شارجہ میں منعقد ہوئی۔ منتظمین کے مطابق اس میں 126 ممالک کے 1,433 ناشرین نے شرکت کی، جبکہ پہلے روز ہی عالمی اشاعتی صنعت کے 30 اہم موضوعات پر گول میز مذاکرے منعقد کیے گئے، جن میں سات نشستیں عربی زبان میں تھیں۔
اشاعت کا مستقبل: مصنوعی ذہانت سے آڈیو بکس تک
کانفرنس کے اہم موضوعات میں مصنوعی ذہانت کا اشاعتی صنعت میں بڑھتا ہوا کردار نمایاں رہا۔ ماہرین نے کتابوں کی تدوین، پروف ریڈنگ، مارکیٹنگ، ترجمے اور ڈیجیٹل تقسیم میں AI کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لیا۔
اس کے ساتھ یہ سوال بھی زیرِ بحث آیا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے دوران مصنفین کی تخلیقی شناخت، علمی دیانت، کاپی رائٹ اور دانشورانہ ملکیت کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جائے۔
آڈیو بکس کی تیاری اور تقسیم، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کتابوں کی تشہیر، آن لائن فروخت اور کتابوں کو فلموں اور ٹیلی ویژن کے لیے ڈھالنے جیسے موضوعات بھی کانفرنس کے ایجنڈے کا حصہ تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب عالمی اشاعتی صنعت میں کتاب کو صرف مطبوعہ شکل تک محدود رکھنے کے بجائے اسے مختلف ڈیجیٹل اور تخلیقی ذرائع سے قارئین تک پہنچانے پر توجہ بڑھ رہی ہے۔
ترجمے کے حقوق اور عالمی ادبی منڈی
کانفرنس کا ایک اہم حصہ بین الاقوامی اشاعتی حقوق اور ترجمے کے کاروبار سے متعلق ملاقاتیں تھیں۔ ان نشستوں میں ناشرین اور ادبی ایجنٹس کو مختلف ممالک کے اشاعتی اداروں کے ساتھ براہِ راست رابطے اور ممکنہ شراکت داری کے مواقع فراہم کیے گئے۔
جاپان، چین، لاطینی امریکہ اور اسپین سمیت مختلف خطوں کی کتابی منڈیوں میں کاروباری امکانات، عربی ادب کو عالمی قارئین تک پہنچانے اور دوسری زبانوں کی تخلیقات کے تراجم پر گفتگو ہوئی۔
کانفرنس کے دوران منعقدہ کاروباری ملاقاتوں میں عملی نتائج کی مثالیں بھی سامنے آئیں۔ مثلاً مصر کی ایک کتاب کو سربیا کے قارئین تک پہنچانے اور فلپائن کے چار مصنفین کی کتابوں کے عربی ترجمے کے امکانات پر پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ ترجمے کے حقوق کا تبادلہ کس طرح مختلف زبانوں اور معاشروں کے درمیان ادبی روابط قائم کر سکتا ہے۔
بچوں کا ادب اور نئی نسل کے قارئین
عالمی اشاعتی صنعت کے لیے بچوں کا ادب بھی ایک اہم موضوع رہا۔ کانفرنس میں معیاری بچوں کی کتابوں، دو لسانی اشاعت، کامکس اور گرافک ناولز کے حقوق اور نئی نسل تک کتابوں کی رسائی بڑھانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ گفتگو اس اعتبار سے اہم ہے کہ بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا کرنا صرف تعلیمی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ مصنفین، ناشرین، والدین اور ثقافتی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اسی تناظر میں ملائیشیا حکومت کے زیرِ اہتمام ’’Building a Nation of Readers 2026‘‘ کے عنوان سے بھی گول میز مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں مطالعے کی ثقافت اور بچوں کو معیاری ادب فراہم کرنے کی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔
شارجہ کا عالمی اشاعتی وژن
کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شارجہ بک اتھارٹی کی چیئرپرسن شیخہ بدور بنت سلطان القاسمی نے عالمی اشاعتی صنعت میں سرحدوں سے ماورا تعاون اور باہمی اشتراک کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اشاعتی صنعت کی حقیقی مضبوطی مختلف ممالک کے ناشرین کے درمیان یکجہتی، تعاون اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت میں مضمر ہے۔
افتتاحی اجلاس میں پینگوئن رینڈم ہاؤس کے رینڈم ہاؤس گروپ کی صدر سانيو ڈیلن اور مصر کے دیوان بک اسٹورز کی شریک بانی نادیہ واصف سمیت عالمی اشاعتی صنعت کی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔
کانفرنس کے تحت 3 لاکھ امریکی ڈالر کا شارجہ ترجمہ گرانٹ پروگرام بھی بین الاقوامی اشاعتی تعاون کا ایک اہم ذریعہ ہے، جس کا مقصد مختلف زبانوں میں کتابوں کے تراجم اور ان کی عالمی رسائی کو فروغ دینا ہے۔

ہندوستان کی نمائندگی اور نامک پبلی کیشنز کی شرکت
اس بین الاقوامی اجتماع میں ہندوستان کے اشاعتی ادارے بھی اپنی موجودگی کے ذریعے عالمی ادبی منڈی سے روابط قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نئی دہلی کا اشاعتی ادارہ نامک پبلی کیشنز (Naamak Publications) بھی کانفرنس میں شریک رہا۔
ادارے کے ڈائریکٹر محمد فیضان عارش نے کانفرنس کے دوران 22 ممالک کے ناشرین، ادبی ماہرین اور اشاعتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ ادارے کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق برازیل، مصر، متحدہ عرب امارات، چین، پولینڈ اور جاپان کے اشاعتی اداروں اور تنظیموں کے ساتھ بھی پیشہ ورانہ تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ان ملاقاتوں میں عربی ادب کے اردو اور ہندی میں ترجمے، ہندوستانی ادبی تخلیقات کو عربی قارئین تک پہنچانے، بچوں کے ادب اور مشترکہ اشاعت کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔
نامک پبلی کیشنز انگریزی، ہندی، اردو، منی پوری، عربی، ہسپانوی، جرمن اور پشتو سمیت آٹھ زبانوں میں کتابیں شائع کرتا ہے۔ ادارے کی شرکت اس بات کی مثال ہے کہ ہندوستان کے نسبتاً چھوٹے اور کثیر لسانی اشاعتی ادارے بھی عالمی اشاعتی نیٹ ورک میں جگہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
ادارے نے اس سے قبل مئی 2026 میں بوگوٹا انٹرنیشنل بک فیئر میں بھی شرکت کی تھی۔ اب شارجہ میں اس کی موجودگی ہندوستانی زبانوں کے ادب کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر: اگلا بڑا ادبی اجتماع
پبلشرز کانفرنس کے اختتام کے فوراً بعد 45واں شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر 4 نومبر سے شروع ہو رہا ہے، جو 15 نومبر تک جاری رہے گا۔
اس سال کتاب میلے میں 124 ممالک کے 2,673 ناشرین اور نمائش کنندگان شرکت کر رہے ہیں۔ منتظمین کے مطابق اس دوران 1,500 ثقافتی، ادبی اور فنی سرگرمیاں بھی منعقد ہوں گی، جبکہ سلطنتِ عمان مہمانِ اعزاز کے طور پر اپنی ادبی، ثقافتی اور تاریخی شناخت پیش کرے گی۔
کتاب کی دنیا میں بدلتے ہوئے تقاضے
شارجہ پبلشرز کانفرنس 2026 کی سرگرمیوں سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی اشاعتی صنعت اب کئی محاذوں پر بیک وقت تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اشاعت، آڈیو بکس اور آن لائن مارکیٹنگ نے کتاب کی تیاری اور فروخت کے طریقوں کو تبدیل کیا ہے، جبکہ ترجمے کے حقوق اور بین الاقوامی شراکت داری نے زبانوں کے درمیان نئے راستے کھولے ہیں۔
ہندوستان جیسے کثیر لسانی ملک کے لیے اس تبدیلی میں خاص مواقع موجود ہیں۔ اردو، ہندی، بنگالی، ملیالم، تمل، منی پوری اور دیگر ہندوستانی زبانوں میں تخلیق ہونے والا ادب عالمی قارئین تک پہنچ سکتا ہے، بشرطیکہ ترجمے، اشاعتی حقوق، معیار اور بین الاقوامی تقسیم کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے۔
شارجہ کی یہ کانفرنس اسی بڑے سوال کو سامنے لاتی ہے کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے اس دور میں کتاب اور مطالعے کی روایت کو کس طرح زندہ رکھا جائے اور مختلف زبانوں کے ادبی ورثے کو عالمی سطح پر ایک دوسرے سے جوڑا جائے۔
اہم حوالہ جات و مزید مطالعہ
- Sharjah Publishers Conference – سرکاری ویب سائٹ
- Emirates News Agency – کانفرنس کی کارروائی
- Sharjah24 – کانفرنس کے 30 اہم موضوعات
- شیخہ بدور القاسمی کا افتتاحی خطاب
- بین الاقوامی ناشرین کے درمیان ترجمے اور اشاعتی معاہدوں کی پیش رفت
نوٹ: کانفرنس کے مجموعی اعداد و شمار اور پروگرام سے متعلق معلومات دستیاب بین الاقوامی اور سرکاری ذرائع پر مبنی ہیں۔ نامک پبلی کیشنز کی شرکت اور اس کی ملاقاتوں کی تفصیلات ادارے کی فراہم کردہ فیس بک پر جاری پریس ریلیز سے لی گئی ہیں۔

