امریکی حکام اور ان کے اہلِ خانہ کو اگلے احکامات تک محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت
یروشلم : مقبوضہ فلسطینی علاقے ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے کے بعد یروشلم میں امریکی سفارت خانے نے پیر کی صبح یروشلم اور تل ابیب میں اپنے قونصلر شعبوں کو بند کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری سکیورٹی الرٹ میں کہا کہ امریکی حکومت کے تمام ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو اگلے احکامات تک محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سفارت خانے کے مطابق، موجودہ سکیورٹی صورتِ حال اور اسرائیل کی ہوم فرنٹ کمانڈ کی جانب سے مختلف علاقوں میں جاری انتباہات کے پیشِ نظر عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ خطرے کا سائرن بجنے کی صورت میں پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کے لیے تیار رہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یروشلم میں امریکی سفارت خانہ اور تل ابیب میں اس کا شاخ دفتر پیر کے روز اپنے قونصلر شعبے بند رکھیں گے۔
ٹرمپ کی ایران سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل
اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے میزائل حملے کے بعد تہران سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ چند دنوں میں طے پا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایران سے کہا، ’’آپ نے اپنے میزائل داغ دیے، اب بس کیجیے۔ مذاکرات کی میز پر واپس آئیے اور معاہدہ کیجیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ معاہدے پر آئندہ ہفتے پیر، منگل یا بدھ تک دستخط ہو سکتے ہیں۔
اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران کی میزائل کارروائی
ایران نے اتوار کی دیر رات شمالی اسرائیل کی جانب متعدد میزائل حملے کیے۔ یہ کارروائی بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد کی گئی، جس کے بارے میں تل ابیب کا دعویٰ تھا کہ اس کا ہدف حزب اللہ کا کمانڈ اور منصوبہ بندی مرکز تھا۔
ابتدائی جائزے کے مطابق، اسرائیلی حملے میں دو افراد ہلاک اور 11 دیگر زخمی ہوئے۔
ایران کی یہ میزائل کارروائی اپریل کے اوائل میں ہونے والی نازک جنگ بندی کے بعد اس نوعیت کی پہلی بڑی بمباری تھی۔
8 اپریل کو عارضی جنگ بندی طے پائی تھی، تاہم اس پر عمل درآمد سے متعلق اختلافات اور خطے میں بعد کی پیش رفت کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔
بہ شکریہ مسلم نیٹ ورک ٹی وی

