کتاب: کارپوریٹ میڈیا — ایک جائزہ (دوسرا ایڈیشن )
مصنف: اشرف علی بستوی
ایک تنقیدی و تجزیاتی تبصرہ
مبصر : محمد احمد ، ممبئی
کارپوریٹ میڈیا — ایک جائزہ محض میڈیا کے کاروباری ڈھانچے کا تعارف نہیں، بلکہ صحافت کے بدلتے ہوئے کردار، اس کی آزادی، اس کی ترجیحات اور جمہوری معاشرے میں اس کی ذمہ داریوں پر غور و فکر کی دعوت دینے والی کتاب ہے۔
اشرف علی بستوی نے اس موضوع کو منتخب کرکے ایک ایسے سوال کو بحث کا مرکز بنایا ہے جس پر ہندوستانی صحافت میں سنجیدہ مکالمے کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے: کیا میڈیا آج بھی عوام کی آواز ہے یا اس کی ترجیحات پر کارپوریٹ مفادات کا اثر غالب آتا جا رہا ہے؟
1۔ کتاب کا بنیادی موضوع اور فکری اہمیت
اس کتاب کا مرکزی نکتہ میڈیا کی ملکیت اور اس کے ادارتی کردار کے درمیان تعلق کو سمجھنا ہے۔
روایتی طور پر صحافت کا بنیادی مقصد عوام تک درست معلومات پہنچانا، اقتدار سے سوال کرنا اور معاشرے کے کمزور طبقات کی آواز بننا رہا ہے۔ لیکن جب میڈیا اداروں کی ملکیت بڑے کاروباری گروپوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہونے لگتی ہے تو صحافت کی ترجیحات بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
ایسے میں چند بنیادی سوالات سامنے آتے ہیں:
- کیا خبر کی اہمیت کا تعین عوامی ضرورت کرتی ہے یا اشتہارات اور مارکیٹ؟
- کیا میڈیا ہاؤسز اپنے مالکان کے کاروباری مفادات سے آزاد رہ سکتے ہیں؟
- کیا غریب، مزدور، کسان اور محروم طبقات کو وہی جگہ ملتی ہے جو طاقت ور طبقات کو حاصل ہے؟
- کیا صحافت کا بنیادی مقصد عوام کو باخبر کرنا ہے یا انہیں مخصوص بیانیے کا حصہ بنانا؟
یہی وہ سوالات ہیں جو اس کتاب کے موضوع کو اہم بناتے ہیں۔
2۔ میڈیا کی آزادی اور کارپوریٹ مفادات
کتاب کا سب سے اہم فکری پہلو یہ ہے کہ یہ میڈیا کی آزادی کو صرف صحافی کی آزادی تک محدود نہیں رکھتی، بلکہ اس کے پیچھے موجود معاشی اور ادارہ جاتی طاقت کے ڈھانچے کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔
ایک صحافی بظاہر آزاد ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس کے ادارے کی ادارتی پالیسی اشتہارات، سرمایہ کاروں یا مالکان کے مفادات سے متاثر ہو تو اس کی آزادی محدود ہو سکتی ہے۔
یہاں کتاب ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: کیا صرف پریس کی آزادی کافی ہے، یا میڈیا کی معاشی آزادی بھی ضروری ہے؟
3۔ جمہوریت اور عوامی رائے پر اثرات
میڈیا جمہوریت کا ایک اہم ستون ہے۔ عوامی رائے کی تشکیل، حکومت کی جواب دہی اور سماجی مسائل کو اجاگر کرنے میں اس کا بنیادی کردار ہے۔
لیکن جب خبر کے انتخاب، اس کی پیش کش اور اس کی تشریح پر کاروباری یا سیاسی مفادات اثر انداز ہونے لگیں تو جمہوری مکالمہ بھی متاثر ہوتا ہے۔
اس تناظر میں یہ کتاب صحافت کے طلبہ، میڈیا محققین، صحافیوں اور عام قارئین کے لیے اہم فکری مباحث فراہم کرتی ہے۔
4۔ کتاب کی سب سے بڑی معنویت
اس کتاب کی معنویت اس سوال میں پوشیدہ ہے کہ میڈیا صرف خبر دینے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کے شعور اور اجتماعی سوچ کی تشکیل کرنے والی طاقت بھی ہے۔
جیس سی اسکاٹ سے منسوب ایک معروف قول اس بحث کو مزید گہرا کرتا ہے:
اگر آپ محتاط نہیں ہیں تو میڈیا آپ کو مظلوموں سے نفرت کرنے اور ظلم کرنے والوں سے محبت کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
یہ جملہ میڈیا کے اثرات اور اس کی اخلاقی ذمہ داری کو سمجھنے کے لیے ایک اہم تنبیہ ہے۔
5۔ ایک تنقیدی جائزہ: کتاب میں مزید کیا ہونا چاہیے؟
اگر اس کتاب کا اگر تیسرا ایڈیشن تیار کیا جا رہا ہے تو میرے خیال میں اس میں چند پہلوؤں کو مزید وسعت دینا ضروری ہوگا:
- ہندوستان میں میڈیا کی ملکیت کے ڈھانچے اور بڑے میڈیا گروپس کا تجزیہ۔
- ٹی آر پی، اشتہارات اور نیوز روم کی ادارتی آزادی کے درمیان تعلق۔
- کارپوریٹ میڈیا اور انتخابی سیاست کے باہمی اثرات۔
- اقلیتوں، دلتوں، کسانوں اور مزدوروں کی میڈیا میں نمائندگی۔
- ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا اور یوٹیوب نیوز چینلز کا بڑھتا ہوا کردار۔
- مصنوعی ذہانت اور الگورتھم کے ذریعے خبروں کی ترجیحات اور عوامی رائے کی تشکیل۔
ان موضوعات سے کتاب کی افادیت اور تحقیقی اہمیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مجموعی تاثر
کارپوریٹ میڈیا — ایک جائزہ ایک ایسے موضوع پر توجہ مبذول کراتی ہے جسے سمجھنا آج کے صحافتی ماحول میں ناگزیر ہے۔ اس کا بنیادی سوال یہ ہے کہ صحافت کی سمت کا تعین کون کر رہا ہے: عوامی مفاد، صحافتی اخلاقیات یا سرمایہ اور طاقت کے مراکز؟
یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ میڈیا کی آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ صحافی کو لکھنے اور بولنے کی اجازت ہو، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے ادارے کو سچ بولنے کی معاشی اور ادارتی آزادی حاصل ہو۔
میری نظر میں اس کتاب کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ قاری کو میڈیا کی خبروں کا محض صارف بننے کے بجائے میڈیا کے نظام، اس کی ملکیت اور اس کے مفادات کو سمجھنے والا باشعور قاری بننے کی دعوت دیتی ہے۔

