امریکی ریپر لاجک کی منفرد مہم: جب موسیقی خودکشی کے خلاف امید کی آواز بن گئی
خصوصی رپورٹ | ایشیا ٹائمز
کیا ایک گانا لوگوں کو خودکشی سے روک سکتا ہے؟ کیا موسیقی کسی ایسے شخص کو زندگی کی طرف واپس لا سکتی ہے جو مایوسی، تنہائی اور ذہنی اذیت کے باعث اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کر چکا ہو؟ بظاہر یہ ایک مشکل سوال ہے، لیکن امریکی ریپر لاجک (Logic) کے ایک گانے نے اس سوال کو ایک نئی معنویت دے دی۔
2017 میں امریکی ریپر لاجک نے ایک ایسا گانا تخلیق کیا جس نے نہ صرف موسیقی کی دنیا میں مقبولیت حاصل کی بلکہ ذہنی صحت اور خودکشی کی روک تھام کے شعبے میں بھی غیر معمولی توجہ حاصل کی۔ گانے کا نام تھا:
1-800-273-8255
یہ کوئی عام عنوان نہیں تھا بلکہ امریکہ کی نیشنل سوسائڈ پریوینشن لائف لائن (National Suicide Prevention Lifeline) کا ٹول فری فون نمبر تھا، جہاں خودکشی کے خیالات سے دوچار افراد کو فوری مدد فراہم کی جاتی تھی۔
ایک گانا، ایک پیغام اور زندگی کی امید
لاجک نے 28 اپریل 2017 کو یہ گانا ریلیز کیا۔ اس میں ان کے ساتھ گلوکارہ ایلیشیا کارا (Alessia Cara) اور خالد (Khalid) نے بھی اپنی آواز دی۔
گانے کی کہانی ایک ایسے شخص کے احساسات کی ترجمانی کرتی ہے جو شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی سے گزر رہا ہے۔ ابتدا میں اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی بے معنی ہو چکی ہے اور وہ مزید زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ لیکن جب وہ مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی سوچ میں تبدیلی آنا شروع ہوتی ہے۔
گانے کا بنیادی پیغام انتہائی سادہ مگر طاقتور ہے: آپ کی زندگی اہم ہے، آپ اکیلے نہیں ہیں اور مدد حاصل کرنا ممکن ہے۔
اس گانے کے ساتھ جاری ہونے والی میوزک ویڈیو میں بھی ایک نوجوان کی زندگی دکھائی گئی ہے جو سماجی تعصب، امتیازی سلوک اور ہم عمر افراد کی بدسلوکی کا سامنا کرتا ہے۔ وہ شدید ذہنی بحران سے گزرتا ہے، لیکن بالآخر مدد طلب کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہی فیصلہ اس کی زندگی میں تبدیلی کا نقطۂ آغاز بنتا ہے۔
گانے نے اعداد و شمار میں کیا تبدیلی پیدا کی؟
اس گانے کی مقبولیت اور اس کے ممکنہ سماجی اثرات نے محققین کی توجہ حاصل کی۔ بالآخر 13 دسمبر 2021 کو معروف طبی جریدے The BMJ میں ایک اہم تحقیقی مطالعہ شائع ہوا۔
اس تحقیق میں امریکہ کے نیشنل سوسائڈ پریوینشن لائف لائن کے فون کالز اور خودکشی سے ہونے والی اموات کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے 2010 سے 2018 تک کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا اور گانے کی ریلیز، 2017 کے ایم ٹی وی ویڈیو میوزک ایوارڈز اور 2018 کے گریمی ایوارڈز میں اس کی پرفارمنس کے بعد پیدا ہونے والی عوامی توجہ کو بھی شامل کیا۔
تحقیق کے نتائج حیران کن تھے:
- 9,915 اضافی کالز: گانے سے متعلق تین بڑے عوامی مواقع کے بعد 34 دن کے دوران ہیلپ لائن پر متوقع تعداد سے 9,915 زیادہ کالز موصول ہوئیں۔
- 6.9 فیصد اضافہ: ہیلپ لائن پر کالز کی تعداد متوقع سطح سے 6.9 فیصد زیادہ رہی۔
- 245 کم اموات: اسی 34 روزہ مدت میں خودکشی سے ہونے والی اموات کی تعداد متوقع تعداد سے 245 کم ریکارڈ کی گئی۔
- 5.5 فیصد کمی: تحقیق کے شماریاتی ماڈل کے مطابق خودکشی سے ہونے والی اموات میں متوقع تعداد کے مقابلے میں 5.5 فیصد کمی دیکھی گئی۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ امید اور مدد حاصل کرنے کا پیغام عام کرنے والی ایک تخلیقی مہم لوگوں کے رویوں اور مدد طلب کرنے کے فیصلے پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
کامیابی کے پیچھے موسیقی سے زیادہ ایک انسانی کہانی تھی
اس گانے کی کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ اس نے ذہنی صحت کے مسئلے کو محض طبی اصطلاحات یا اعداد و شمار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انسانی احساسات کی زبان میں بیان کیا۔
ذہنی دباؤ، تنہائی، سماجی امتیاز، عدم تحفظ اور ناامیدی جیسے مسائل سے گزرنے والے افراد اکثر اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر پاتے۔ انہیں یہ احساس بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی ان کی بات نہیں سمجھے گا۔
لاجک نے موسیقی کے ذریعے اسی خاموشی کو توڑنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ایسے افراد کو مخاطب کیا جو بظاہر عام زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، لیکن اندرونی طور پر شدید ذہنی کشمکش کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔
اس گانے کی مقبولیت میں ایم ٹی وی ایوارڈز اور گریمی ایوارڈز پر اس کی پرفارمنس نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ یوں ایک موسیقی کی تخلیق ذہنی صحت کے بارے میں قومی سطح کی گفتگو کا حصہ بن گئی۔
کیا واقعی اس گانے نے 245 زندگیاں بچائیں؟
یہاں ایک اہم سائنسی وضاحت ضروری ہے۔ BMJ کی تحقیق نے یہ ثابت نہیں کیا کہ ان 245 افراد کی زندگی براہ راست اسی گانے کی وجہ سے بچی۔ تحقیق نے گانے سے متعلق عوامی توجہ کے ادوار میں متوقع اموات کے مقابلے میں 245 کم اموات کا شماریاتی تعلق دریافت کیا۔
اسے سائنسی زبان میں Association کہا جاتا ہے، نہ کہ قطعی طور پر ثابت شدہ Causation یعنی براہ راست سبب۔
اس کے باوجود تحقیق کے نتائج اہم ہیں، کیونکہ ان سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ میڈیا، موسیقی اور فنون لطیفہ کو ذہنی صحت اور خودکشی کی روک تھام کے لیے کس طرح مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
صحافت اور میڈیا کے لیے بھی ایک اہم سبق
لاجک کے اس تجربے میں میڈیا کے لیے بھی ایک بڑا سبق موجود ہے۔ خودکشی کے واقعات کی سنسنی خیز رپورٹنگ کے بجائے امید، صحت یابی، مدد کے ذرائع اور زندگی کی طرف واپسی کی کہانیوں کو جگہ دینا زیادہ ذمہ دارانہ صحافت کا حصہ ہو سکتا ہے۔
دنیا بھر میں ذہنی صحت کے ماہرین اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ خودکشی سے متعلق رپورٹنگ میں ایسے طریقۂ کار اختیار کیے جائیں جو متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کی عزت و وقار کا تحفظ کریں اور کمزور ذہنی کیفیت سے گزرنے والے لوگوں کو مزید خطرے میں نہ ڈالیں۔
یہی وجہ ہے کہ لاجک کے گانے کو صرف ایک کامیاب موسیقی کی تخلیق کے طور پر نہیں بلکہ صحت عامہ اور ذمہ دارانہ ابلاغ کے ایک قابل مطالعہ تجربے کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔
ہندوستان کے لیے بھی ایک قابل غور مثال
ہندوستان میں بھی ذہنی صحت اور نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ کا مسئلہ مسلسل توجہ کا متقاضی ہے۔ تعلیمی دباؤ، بے روزگاری، معاشی پریشانیاں، خاندانی مسائل، سماجی تنہائی اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورت حال نوجوانوں کی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔
ایسے ماحول میں فلم، موسیقی، ریڈیو، ٹیلی ویژن، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے مثبت پیغامات عام کرنے کی ضرورت ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے فنکار، گلوکار، فلم ساز، صحافی اور سوشل میڈیا تخلیق کار ذہنی صحت کے موضوع کو سنجیدگی سے لیں اور ایسے مواد کو فروغ دیں جو لوگوں کو مدد حاصل کرنے، اپنے مسائل بیان کرنے اور زندگی سے امید وابستہ رکھنے کی ترغیب دے۔
ہندوستان میں ذہنی صحت سے متعلق مدد کے لیے حکومت کی ٹیلی مانس (Tele-MANAS) سروس کا ٹول فری نمبر 14416 بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔
اختتامیہ: فن اگر زندگی بچانے کا ذریعہ بن جائے!
لاجک کے گانے نے ایک اہم سوال ہمارے سامنے رکھا ہے: کیا فن اور میڈیا صرف تفریح کے ذرائع ہیں یا وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا وسیلہ بھی بن سکتے ہیں؟
ایک گانے نے ہزاروں لوگوں کو مدد طلب کرنے کی طرف متوجہ کیا، اور ایک سائنسی تحقیق نے اس کے ساتھ خودکشی کی اموات میں کمی کا تعلق بھی ظاہر کیا۔
یہ تجربہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بعض اوقات ایک درست پیغام، صحیح وقت پر، کسی ایسے شخص کے لیے امید کا دروازہ کھول سکتا ہے جو زندگی سے مایوس ہو چکا ہو۔
کیونکہ زندگی بچانے کے لیے ہمیشہ بڑے وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی ایک آواز، ایک کہانی اور امید کا ایک پیغام بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
تحقیقی حوالہ: Niederkrotenthaler et al., The BMJ, 13 December 2021. DOI: 10.1136/bmj-2021-067726.

